صوفی محمد اکبر کی برسی پر سوپور میں دعائیہ مجلس

 سرینگر// محازآزادی کے بانی مرحوم صوفی محمد اکبر کی برسی پر سوپور میں اُن کے مقبرہ پردعائیہ مجلس منعقد ہوئی،جس میں کئی مزاحمتی جماعتوں کے قائدین وکارکنان سمیت سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔دعائیہ مجلس کا اہتمام محاذ آزادی نے کیا تھا ۔ محازآزادی،لبریشن فرنٹ، پیپلز لیگ ، لبریشن فرنٹ (ح)،سالویشن مومنٹ ، اسلامک پولیٹکل پارٹی اور مسلم ڈیموکریٹک لیگ نے مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے صوفی محمد اکبر کو ایک دلیر اور پرُخلوص راہنماقرار دیا۔دعائیہ مجلس کے اختتام پرسید الطاف اندرابی ، مصدق عادل، غلام نبی زکی، محمد یوسف کلواور جہانگیر سلیم کو حراست میں لیکر سوپور تھانہ میں بند کیا گیا تاہم شام کو پھر رہا کیا گیا۔  محازآزادی ترجمان محمد یوسف گلکار کے مطابق سوپور میں مزاحمتی تحریک کے سرکردہ لیڈر اورمحاذ آزادی کے بانی صوفی محمد اکبر کی برسی پر ایک دعائیہ مجلس منعقد ہوئی ۔اس موقع پر محازآزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے صوفی محمد اکبر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب  ایکارڈ کے نام پراُس وقت کے قائدین نے اقتدار پر اکتفا کرکے کشمیریوں کی آواز ختم کر نے کی کوشش کی تو اُس وقت مرحوم نے نئے سرے سے جدوجہد کا آغاز کیا اور کشمیریوں کے وقار اور تشخص کی بحالی کیلئے محاذآزادی کے قیام کا اعلان کیااور اپنے منشور، دستور اور منزل کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی تقلید میں محمد اعظم انقلابی بھی آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ ارکان محاذ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ مرحوم کے طریقہ عظیمت اور صبروثبات پر قائم وادی میں رہ کر تحریک آزادی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہیں گے۔دعائیہ مجلس میں جن لیڈران اور کارکنوںنے شرکت کی ،اُن میں لبریشن فرنٹ کے وائس چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمدبٹ ،پیپلز پولٹیکل پارٹی کے مصدق عادل، غلام نبی زکی،عبدلواحد کرمانی، محمد یوسف کلو، محمد شفیع میر، جہانگیر سلیم،شفیق سوپوری، محمد یوسف گلکاراورفردوس ثاقب شامل ہیں۔لبریشن فرنٹ نے کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے مرحوم کو ایک دلیر اور پرُخلوص راہنماقرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے آزادی کی خاطر لیلیٰ اقتدار کو لات مارتے ہوئے کانٹوں اور مصیبتوں سے پُر راستے کا انتخاب کیا۔ یاسین ملک نے کہا کہ آج کے سخت حالات میں بھی مرحوم کا مشن اور کردار ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور آج ہم اپنے اِس بے لوث قائد کو خراج عقیدت اَدا کرتے ہوئے اپنے اس عہد کا ایک بار پھر اِعادہ کرتے ہیں کہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی و خود مختاری کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔فرنٹ بیان کے مطابق مرحوم کی برسی کے سلسلے میں فرنٹ کے نائب چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ ، قائدین محمد صدیق شاہ ، عبدالرشید مغلو،سید نثار جیلانی، شیخ عبدالقیوم ،محمد عظیم زرگر،شاہد کشمیری اورمحمد اکبر نے دعائیہ مجلس میںشرکت کی اور مرحوم قائد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے مرحوم کے اوصاف جمیلہ پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کی آزادی کیلئے مرتے دم تک برسر جدوجہد رہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم قائد کی جدوجہد اور قربانیاں کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کی جاسکتیں ۔ پیپلز لیگ کے ایک دھڑے کے چیئرمین غلام محمد خان سوپوری نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ زندہ قومیں اپنے اُن سپوتوں کو کسی بھی طور فراموش نہیں کرتی ہیں، جو ان کی عزت، آزادی اور شاندار مستقبل کیلئے قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اس دوران لیگ کے غلام قادر راہ، حاجی محمد رمضان ، مشتاق احمد صوفی اور نذیر احمد نے دعائیہ مجلس میں شرکت کی ۔ لبریشن فرنٹ (ح) چیرمین جاوید احمد میراورسالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں تحریک آزادی کے علمبردار صوفی محمد اکبر کوبرسی پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی سیاسی جدوجہد منطقی انجام تک پہنچانے جاری و ساری رہے گی۔اس سلسلے میںجاوید احمد، فاروق احمد،مشتاق احمداورمحمد رمضان پر مشتمل ایک وفد نے مرحوم کے مزار پر حاضری دی۔ اسلامک پولیٹکل پارٹی چیئرمین محمد یوسف نقاش اور مسلم ڈیموکریٹک لیگ صدر حکیم عبد الرشید نے مشترکہ بیان میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی، جدوجہد اور قربانیاں ہمارے لئے مثل راہ ہیں۔
 

صوفی محمد اکبرکا سیاسی سفر 1927سے1987

سرینگر//شمالی قصبہ سوپور کے صوفی حمام میں1890کو پیدا ہوئے سرکردہ مزاحمتی لیڈر صوفی محمد اکبر کو1927میں اُس وقت زینت زندان بنایا گیاجب انہوں نے اپنے عہد شباب میں ڈوگرہ حکومت کے دوران مزاحمتی طریقہ کار اختیار کیا۔ جیل سے رہائی کے بعد صوفی محمد اکبر نے1931میں مسلم کانفرنس میں شمولیت کی اور بعد ازاں کشمیر چھوڑ دو تحریک میں شامل ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا،جب وہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ سے ملے اور انکے ہمراہ کچھ وقت جیل میں گزارا۔انہوں نے شیخ محمد عبداللہ کی محاز رائے شماری کی بھی حمایت کی۔ شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ انکے مراسم اور رشتوں میں اس وقت دراڈ پڑ گئی جب شیخ محمد عبداللہ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ ایکارڑ کیا۔صوفی محمد اکبر نے7مئی1977کو محاز آزادی کو منصہ شہود پر لایا اور مکمل آزادی کیلئے مہم شروع کی ۔ محاز آزادی کا آئین وہی تھاجو مسلم کانفرنس کا تھا۔1982میں مرحوم نے انتخابات کی بائیکاٹ مہم چلائی اوراس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔صوفی محمد اکبر نے اپنی زندگی کے22برس مختلف جیلوں میں گزارے اور14دسمبر1987کو رحلت کر گئے۔