صورہ انسٹی ٹیوٹ میں دل کے عارضہ کی پیچیدہ جراحی

سرینگر//شیرکشمیرانسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزصورہ کے کارڈیو ویسکیولر تھوریسک سرجری شعبے میں پہلی بار ایک بچے کے دل کے والو (Valve)بحال کئے گئے۔رعناواری سرینگر کی9برس کی بچی ،جس کی تشخیص ریومیٹک ہارٹ ڈیزیزمیں مبتلاء ہونے کی ہوئی تھی،کوشیرکشمیرانسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے کارڈیو ویسکیولر تھوریسک سرجری شعبے میں7جنوری کوزیررجسٹریشن نمبر 1088425 داخل کیاگیااور اسکا مکمل ملاحظہ اور جانچ کی گئی۔محتاط منصوبہ بندی کے بعداُس کا11جنوری کوپروفیسرجی این لون کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ٹیم، جن میں ڈاکٹر فاروق احمد گنائی اوردیگر شامل تھے،آپریشن کیا۔90منٹ تک بغیر کسی پیچیدگی کے آپریشن کے دوران بچی کے دل کا والو ،جو بری طرح خراب تھا اور ناقابل علاج تھا ،کومصنوعی والوسے بدل دیا گیا۔ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی ایک مخصوص ٹیم اور کارڈیک انٹینسوکیئر یونٹ کے نرسنگ ودیگر نیم طبی اسٹاف نے اس بچی کوسنبھالنے میں اہم رول اداکیا۔ اُسے چار گھنٹے کی سرجری کے بعد وینٹی لیٹرسے ہٹایا گیا اور 6روزبعد کارڈیک انٹینسوکیئر یونٹ سے منتقل کیاگیا۔اس بچی کواسپتال سے2فروری کورخصت کیاگیا۔دل کے والوبدلنے کی سرجری بھارت جیسے ترقی پزیدممالک میں بالغ مریضوں جن کی عمر30اور50برس کے درمیان ہو،کی جاتی ہے ۔بچوں میں اس قسم کی بیماریاں شاذو نادر ہی پائی جاتی ہیں۔ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عمر جاوید شاہ نے کارڈیو ویسکیولرتھوریسک سرجری شعبے کو اس سنگ میل جراحی کیلئے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ا ن سہولیات سے غریب مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔