صورتحال خراب یا خطرناک نہیں

 سرینگر// فوج نے جنگجوئوں کا تعاقب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وادی کی صورتحال میں لگاتار بہتری آرہی ہے۔15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے کہا کہ کشمیر کے حالات پر وہ بے فکر ہیں ۔فوج نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں صورتحال نہ ہی پرخطر ہے اور نہ ہی قابو سے باہر، جبکہ فوج نے جو احاطہ کیا ہے اس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ صورتحال میں بہتری آرہی ہے،اور حالات مزید بہتر ہونگے۔ رنگریٹ  میں جموں کشمیر لائٹ انفنٹری میں251اہلکاروں کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے متعلق تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جنرل جے ایس ساندھو نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’حقیقت میں،ہمارااحاطہ یہ بیان کرتا ہے کہ کشمیر میں صورتحال میں بہتری آئے گی‘‘۔لیفٹنٹ جنرل نے کہاکہ فوج صورتحال کے خراب یاخطرناک ہونے کے بارے میں فکرمندنہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صورتحال کامقابلہ کیسے کرناہے اورملی ٹنسی کاکیسے صفایاکرناہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیروادی میں صورتحال کنٹرول میں ہے اورآگے بھی کنٹرول میں ہی رہے گی۔ساندھو نے واضح کیا’’ جنگجوئوں کاصفایااورملی ٹنسی کاخاتمہ کرنے کیلئے آپریشن جاری رہے گا‘‘۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ امرناتھ یاتریوں پر ہوئے حملے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے کہ کن لوگوں نے یہ حملہ کیا توانہوں نے کہا’’ میڈیا کے سامنے ایسی باتوں کا انکشاف کرنا خارج از امکان ہے‘‘۔انہوں نے مزیدبتایاکہ امرناتھ یاتریوں پرہوئے حملے کے باوجودجنگجومخالف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی کیونکہ سیکورٹی فورسزکوصورتحال بہتربنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اورہم اپنی یہ ذمہ داری انجام دیتے رہیں گے ۔ پندرھویں کورکے سربراہ کاکہناتھاکہ سیکورٹی فورسزکاجنگجوگروپوں پرمکمل دبائو ہے ،اوراب جنگجواپنی موجودگی کااحساس دلانے کیلئے وارداتیں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیفٹنٹ جنرل نے کہاکہ ملی ٹنسی کاخاتمہ کرنے کیلئے ’پکڑو،مارواورصفایاکرو ‘کی پالیسی جاری رہے گی۔فوج کی ٹیری ٹوریل آرمی سے وابستہ پلوامہ کے ظہور احمد نامی ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے اور ممکنہ طور پر جنگجوئوں کے صفوں میں شمولیت سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے  کور کمانڈر نے کہا کہ اس بات کی کوئی بھی توثیق نہیں ہوئی ہے کہ ظہور نے عسکریت پسندوں کے صفوں میںشمولیت اختیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بارہمولہ میں اپنے یونٹ سے چلے گئے ہیں اور ہم انکی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں110مقامی جنگجوئوں کے سرگرم ہونے کا اعتراف کیا تاہم حال ہی میں پونچھ سے25جنگجوئوں کی دراندازی سے متعلق پوچھے گئے سوال کو ٹالتے ہوئے کہا کہ میں پونچھ کا انچارج نہیں ہوں،اس لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان خبروں میںکتنی صداقت ہے۔ سماجی رابطہ گاہوں پر فوج کی طرف سے نوجوانوں کو زیر چوب لاکر تشدد کا نشانہ بنانے والے ویڈیوز کے عام ہونے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ساندھو نے کہا کہ یہ ویڈیو پرانے ہیں اور ان  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’فوج ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے گی،جہاں یہ الزامات درست ہونگے کہ فوجی اہلکار پیشہ وارانہ انداز میں کام نہیں کرتے‘‘۔پاسنگ آوٹ پریڈ سے متعلق جانکاری فرہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ251اہلکاروں نے تربیت مکمل کی اور وہ جیک لائی میں شامل ہوگئے ہیں،اور یہ251 کنبوں کیلئے ایک اہم لمحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں کہ وہ بعد میں اچھی طرح سے اپنے کنبوں کی کفالت کرنے کے قابل ہوں،اور یہ اہلکار اب فوج کے نا قابل تنسیخ حصہ بن چکے ہیں۔ ان اہلکاروں میں50کا تعلق وادی سے ہے جبکہ دیگر جموں،کشتواڑ،ڈوڈہ اور لداخ خطوں سے ہیں۔