صوبائی کمشنر نے امدادفراہم کرنے کے اقدامات کاجائزہ لیا

 سرینگر//فلڈ ریلیف سینٹروںمیں 1600کوئنٹل چاول ،8000کمبل ،6لاکھ کلورین ٹکیاں اور500ٹینٹ دستیاب رکھے گئے ہیں۔صوبائی کمشنر نے امدادفراہم کرنے کے اقدامات کاجائزہ لیا۔انہوںنے افسران پرباہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے پر دیا زوردیا۔صوبائی کمشنر نے یہ ہدایات اعلیٰ افسران کی ایک میٹنگ میں دیں ۔میٹنگ کے دوران محکموں کی طرف سے امکانی آفات سے نمٹنے کے لئے کئے جارہے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔انہوںنے متعلقہ افسران اور لائین محکموںکو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی تاکہ کسی بھی امکانی صورتحال سے فوری طور نمٹاجاسکے اورعوام کے تحفظ اورلوگوں کی بہتر خدمات کے لئے موثر اقدامات کئے جاسکیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ شہر کے مختلف نشیبی علاقوں میںفوڈریلیف سینٹروںمیں امکانی طور آفات سے متاثرہ لوگوں کی فوری امداد کے لئے 1675کوئنٹل چاول ،700ایل پی جی سیلنڈر اوردیگر لازمی اشیاء دستیاب رکھی گئی ہیں۔میٹنگ میںمزید بتایا گیاکہ ان مراکز میں 500ٹینٹ اور8000کمبل بھی دستیاب رکھے گئے ہیںجبکہ ایس ایم سی نے مختلف جگہوں پر 23ڈیواٹرنگ پمپ نصب کئے ہیں۔اس کے علاوہ ان جگہوں پر جہاں پانی کے نکاس میں رکائوٹیں حائل ہوتی ہیں5ہائی پاور ڈیواٹرنگ پمپ بھی دستیاب رکھے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ ان مراکز میں 10موبائیل ٹوئیلٹس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔آبپاشی وفلڈ کنٹرول محکمے کو لسجن کے کناروں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے ڈویژنل کمشنر نے آرمی ٹینک بادامی باغ کے قریب سلیوس گیٹ کو بدلنے کی ہدایت دی ۔میٹنگ میں یہ جانکاری بھی دی گئی کہ ان مراکز میں ڈاکٹروں و طبی عملہ کو تعینات کیا جارہا ہے اس کے علاوہ کلورین کی چھ لاکھ ٹِکیاں بھی دستیاب رکھی جارہی ہیں۔صوبائی کمشنر نے لائین محکموں کو لائوڈا کی طرف سے نشاندہی کی گئی چھ فلڈ ریلیف سینٹروں کو تیاری کی حالت میں رکھنے کی ہدایت دی ۔سٹیٹ ریڈکراس کو ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے 100ٹینٹوں کے علاوہ 1000منرل واٹر بوتلیں ،کمبل اوردیگر اشیأ بہم رکھنے کی ہدایت دی جو کہ ریلیف سینٹرو ں میں استعمال میں لائے جائیں گے۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر سید عابد رشید شاہ،وی سی لائوڈا ،ناظم سیاحت،چیف انجینئر آبپاشی وفلڈ کنٹرول ،چیف انجینئر صحت عامہ ،کمشنر ایس ایم سی ،اے ڈی سی سرینگر ، ڈائریکٹر خوراک ،رسدات وامور صارفین ،سپرانٹنڈنگ انجینئرس آر اینڈ بی و پی ڈی ڈی کے علاوہ دیگر متعلقہ آفیسران بھی موجود تھے۔