صنعتی یونٹس کا قیام:اراضی کی الاٹمنٹ کیلئے جموں و کشمیر حکومت کو47ہزار441کروڑ روپے کی 4ہزار226تجاویز موصول

 
جموں//جموں و کشمیر حکومت کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں صنعتی یونٹس قائم کرنے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے لیے 47ہزار 441کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی 4ہزار 226تجاویز موصول ہوئی ہیں۔
 
جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ سال جنوری میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور صنعتی ترقی کو بلاک کی سطح تک لے جانے کے لیے 28ہزار400کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ ایک نئی صنعتی ترقیاتی اسکیم کا اعلان کیا۔
 
2037تک لاگو ہونے والی نئی پالیسی نے غیر ملکیوں کے لیے خطے میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کی۔
 
ایک سینئر سرکاری افسر نے کہا، "مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں صنعتی یونٹس قائم کرنے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے لیے 47,441 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 4,226 تجاویز آن لائن موڈ کے ذریعے موصول ہوئی ہیں۔
 
ان تجاویز سے 1.97 لاکھ روزگار پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، عہدیدار نے کہا کہ ان تجاویز کی منظوری کے عمل کو پہلے ہی تیزی سے ٹریک کیا گیا ہے۔
 
عہدیدار نے کہا کہ 2022-23 میں نئی صنعتی املاک کی ترقی کے لیے کل 150کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے، اور حکومت کا مقصد نئی پالیسی کے تحت تقریباً 4.5 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے۔
 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ صنعت و تجارت کو مختص 1,003کروڑ روپے یوٹی میں صنعتی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی جاری کوششوں کی تکمیل کریں گے۔
 
جموں و کشمیر میں نئی صنعتی اسٹیٹس کے قیام پر خاطر خواہ رقم خرچ کی جائے گی۔ صنعت کا محکمہ دستکاری کو فروغ دینے کے لیے 2,000 سیلف ہیلپ گروپس کی بھی مدد کرے گا۔
 
بتا دیں کہ اس سال کے بجٹ میں جموں و کشمیر کے نوجوان کاروباریوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے 200کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔