صنعتی پالیسی میں کئے گئے وعدوں سے انحراف

سرینگر//فیڈریشن چیمبرآف انڈسٹریز کشمیر نے جموں کشمیرمیں صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے حکومت کی پالیسیوں اور احکامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایک بیان کے مطابق فیڈریشن کے ایگزیکیٹوکونسل اجلاس میںممبران نے کہا کہ 2016-26کی صنعتی پالیسی میں کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا گیااورنئی پالیسی2021-30جاری کی گئی جو موجودہ صنعتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ایک بیان میں ایف سی آئی کے ،کے سیکریٹری جنرل اویس قادرجامی نے کہا کہ ایگزیکیٹوممبران نے صنعتی سیکٹر کیلئے حکومت کے رویہ پر ناراضگی کااظہار کیا ہے۔کشمیر کے60فیصد سے زیادہ صنعتی کارخانے زیادہ ترمینوفیکچرنگ اور اشیاء کو پروسیس کرنے کے کام سے وابستہ ہیںجن کی حکومتی اداروں میں ضرورت ہوتی ہے اورنئی صنعتی پالیسی کے تحت ان کی خریداری جموں کشمیرسمال اسکیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی وساطت سے ہوگی۔پروکیورمنٹ پالیسی میں اچانک تبدیلی سے محکمہ خزانہ نے مرکزی حکومت کی ہدایت پرتمام محکموں کو حکم دیا ہے کہ جی ای ایم پورٹل سے کھلے مقابلے میں اشیاء کوحاصل کریں۔اس سے مقامی کارخانہ دار بے روزگار ہوگئے ہیںکیوں کہ گزشتہ دوسال سے تمام محکموں نے باہر سے سامان خریدا ہے۔کشمیر کے کارخانے ناموافق ماحول میں کام کررہے ہیںاور ان کیلئے باہر کے کارخانوں سے مقابلہ کرناممکن نہیں ہے۔ایگزیکیٹوکونسل ممبران نے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے کی طرف سے کیاگیا کام اورسپلائی کی ادائیگی کی جائے۔تاخیر سے ادائیگیوں سے یونٹ ہولڈروں کانقصان ہورہا ہے۔ایگزیکیٹوکونسل ممبران نے اراضی الاٹمنٹ پالیسی اوراراضی کی الاٹمنٹ میں پچھلے کئی ماہ سے کی گئی ترامیم کی مذمت کی ہے۔