صنعتکار وں نے بھی آستینیں چڑھالیں: سنیچر سے ہڑتال پر جانے کا انتباہ

سرینگر// صنعت کاروں نے جموں کشمیر بنک کو’’پی ایس یو‘‘ زمرے میں شامل کرنے کے فیصلے کو’’ اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے سرکار کو الٹی میٹم دیاہے کہ اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو وہ یکم دسمبر کو مکمل ہڑتال پر جائیں گے۔ انڈسٹریل ایسو سی ایشن کھنموہ کے سنیئر نائب صدر قیصر شاہدنے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران سرکار کی طرف سے جموں کشمیر بنک کو پی ایس یو میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں کو اس بات کے زبردست خدشات لاحق ہیں کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو عنقریب ہی جموں کشمیر بنک کو کسی دوسرے بنک میں ضم کیا جائے گا۔ قیصر شاہد نے کہا کہ وہ اس بات کا استقبال کریں گے کہ اگر جموں کشمیر بنک کو جوابدہ بنایا جائے گا اور اس میں شفافیت لائی جائے گی،تاہم انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گورنر انتظامیہ صرف اپنے مفادات کیلئے جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر انڈٹینگ کے زمرے میں ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے سرکار کو الٹی میٹم دیا کہ اگر جمعہ تک انہوں نے یہ فیصلہ کالعدم قرار نہیں دیا تو صنعت کار سنیچر کو مکمل ہڑتال پر جائیں گے۔قیصر شاہد نے کہا کہ1938میں بنک کے معروض وجود میں آنے کے ساتھ یہ مالیاتی ادارہ معاشرے میں ایک خاص مقام بنانے میں کامیاب ہوا۔اور اس کو اقتصادی آزادی بھی حاصل تھی،جبکہ ریاستی لوگوں نے بھی اس مالیاتی ادارے کو اپنی حمائت دی۔انہوں نے کہا کہ بنک نے ریاستی صنعتوں کو بھی کافی تعاون دیا ور مالیاتی مدد بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کو مرکزی حکومت کے سپرد کرنے کا مطلب ریاست کے دیگر ’’پی ایس یو‘‘ کے جیسے حالت کے مترادف کرنا ہے۔قیصر شاہد نے بتایا کہ ایس آر ٹی سی،جموں کشمیر سمینٹس،جے کے ٹی ڈی سی،اور دیگر اداروں کی حالت سب کے سامنے ہے۔ صنعت کاروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند جموں کشمیر بنک میں بیرون ریاست بیروکریٹوں کو تعینات کرنا چاہتی ہے۔