صلاح الدین نے کی مذمت

مظفر آباد// حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ دنیا کے سامنے تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے اور اس سے وابستہ رہنمائوں اور کارکنان کو دھشت گرد قرار دینے کیلئے انتہا پسند حکومت اور اس کی ایجنسیاں نیچ حربوں پر اتر آئی ہیں ۔ امرناتھ یاتریوں پر حملہ اسی مذموم حکمت عملی کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ بھارتی ایجنسیاں اور ان کے ایجنٹ ،تحریک آزادی کی شدت و حدت سے اس حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائیں گی کہ وہ بدحواسی میں اپنے ہی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار  یں گے ۔اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حزب سربراہ نے کہا کہ اس واقعہ کی آڑ میں بھارتی قیادت ایک تیر سے کئی شکار کر نے کی خواہش رکھتی ہے ۔ اس خوفناک انسانیت سوز حرکت سے ایک جائز تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے ،عالمی بردری کے سامنے اسے دھشت گردی کا روپ دینے اور بھارت کے اندر کشمیری طلباء اور کاروباری طبقے کو جو پہلے سے ہی عدم تحفظ کا شکار ہیں ، کو مزید مصائب و آلام میں ڈالنے کی مذموم کو شش ہے ۔ تاہم حزب سربراہ  نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایسے نیچ حربوں سے بھارتی ایجنسیاں، اس کے ایجنٹ کچھ حاصل نہیں کرسکیں گی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا جانتی ہے کہعسکریت پسند کشمیر اور حریت پسند عوام نے ہمیشہ  سے اپنا اسلامی فریضہ سمجھ کر یاتریوں کی مہمان نوازی اور ان کا تحفظ کیا ہے۔کشمیری قوم کی رگ رگ میں مہمان نوازی کا جذبہ موجود ہے اور وہ بلا کسی مذہبی تفریق اور رنگ و نسل کے صدیوں سے مہمان نوازی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔چیر مین متحدہ جہاد کو نسل نے واضح کیا کہ اس گھنا ونے واقعہ کے ذمہ دار بھی مستقبل قریب میں پورے ثبوتوں کے ساتھ اسی طرح بے نقاب ہونگے ،جس طرح چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ برادری ،وندہامہ میں پنڈت برادری کے قتل عام اورمژھل سیکٹر میں معصوم افراد کو غیر ملکی دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنے کے واقعات میں یہ لوگ بے نقاب ہوگئے تھے۔سید صلاح الدین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس واقعہ کی تہہ تک جانے کیلئے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے۔   انہوں نے اس بزدلانہ حملے میں مارے جانے والے یاتریوں کی لواحقین سے بھی بھر پور ہمدردی کا اظہار کیا۔