صرف اہم تنصیبات کی حفاظت پر مامور ہوگی۔BSF

سرینگر// انتخابات کے پیش نظر سرحدی حفاظتی فورس گرمائی دارلحکومت میں’’ گارڈ ڈیوٹی‘‘ پر تعینات ہوگی،جبکہ سی آر پی ایف کو امن و قانون سے نپٹنے کیلئے مامور کیا جائے گا۔آئی جی بی ایس ایف نے تصدیق کی کہ وہ امن و قانون سے نہیں نپٹیں گے،جبکہ سی آر پی ایف کا ماننا ہے کہ وہ بنکروں اور کیمپوں سے انخلاء نہیں کر رہے ہیں۔حکومت ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ سرحدی حفاظتی فورس کو سرینگر میں گارڈ ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا۔اعلیٰ حکام کے مطابق سرینگر میں سرحدی حفاظتی فورس اہلکاروں کو14برسوں کے بعد تعینات کیا جا رہا ہے اور انکی بنیادی ذمہ داری اہم سرکاری تنصیبات اور عمارتوں کی نگہبانی ہوگی۔ آئی جی بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ دو روز قبل سرینگر میں فورسز کی جو100اضافی کمپنیاں پہنچی ہیں،ان میں سرحدی حفاظتی فورس کی35کمپنیاں شامل ہیں،جس کے ساتھ ہی پارلیمانی انتخابات کے دوران ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے سی آر پی ایف کو امن و قانون سے نپٹنے کی ذمہ دیاریاں تفویض کی جائیں گی۔ آئی جی سرحدی حفاظتی فورس اوینو کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم صرف گارڈ ڈیوٹیاں ہی دیں گے،ہم امن و قانون سے نہیں نپٹ رہے ہیں‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ2016کی ایجی ٹیشن کے دوران بی ایس ایف کو ایک ہفتے کیلئے وادی میں تعینات کیا گیا تھا،جس کے بعد انہیں واپس روانہ کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اضافی فورسز کی کمپنیاں صرف انتخابی عمل کیلئے طلب کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا’’ اضافی فورسز کا35اے سے متعلق افواہوں یا کسی اور چیز کیلئے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے،چونکہ سرینگر جموں شاہرہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے بند تھی،تو100کمپنیاں جو کہ قریب10ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہیں، کو ہوائی راستے سے لانا پڑا،جس کے بعد انہیں گاڑیوں کے ذریعے انکے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا‘‘۔سی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ جس طرح حالیہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کیلئے ریاست نے تیاریاں کی،اسی طرح اضافی فورسز اہلکاروں کو پارلیمانی اور ممکنہ اسمبلی انتخابات کیلئے طلب کیا گیاہے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا ’’ایسا نہیں ہے کہ سی آر پی ایف پیچھے ہٹ رہی ہے،یا بنکروں و کیمپوں کو بی ایس ایف کیلئے خالی کر رہی ہے،بلکہ ہم بنیادی طور پر امن و قانون کے چیلنجوں سے نپٹیں گے،کیونکہ شرپسندوں کی طرف سے انتخابی عمل میں خلل اور احتجاج کے خدشات ہیں،جبکہ بی ایس ایف گارڈڈیوٹی کا کام کریں گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف100کمپنیاں بلکہ پلوامہ کے لیتہ پورہ میں سی آر پی ایف پر حالیہ حملے کے تناظر میں انتخابی عمل کے دوران سلامتی کے احساس کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید اہلکار آرہے ہیں۔سی آر پی ایف کے اعلیٰ افسر کا کہنا تھا’’ اس وقت انتخابی عمل کیلئے وسیع علاقے ہیں،اور اسی لئے اضافی سیکورٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں‘‘۔سیکورٹی ذرائع کا تاہم کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ٹیم کی جموں کشمیر میں4اور5مارچ کے دورے پر یہ منحصر ہے۔ذرائع نے بتایا’’ اگر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے یہ فیصلہ لیا کہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات مشترکہ طور پر کرائے جائیں،تو اس صورت میں ریاستی حکومت مرکز کو کم از کم300اضافی فورسز کمپنیوں کی درخواست کرے گی۔‘‘ اس وقت جموں کشمیر میں سی آر پی ایف کی50کمپنیوں موجود ہیں،جن میں کشمیر میں40اور جموں میں10مقیم ہیں۔