صدر اسپتال کا شعبہ ایمرجنسی

سرینگر//چند دنوں کی خاموشی کے بعد سوموار کو سرینگر کے صدر اسپتال میں قائم شعبہ ایمرجنسی و حادثات میں ایک مرتبہ پھر چیخ و پکاراور آہ و بکاء کا ماحول بپا ہوا جہاں احتجاجی مظاہروں میں شامل لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال میں زخمی ہونے والے متعددافراد میں سے17 افراد کو یہاں پہنچایا گیا۔زخمیوں میں 9افراد گولیوں کی زد میں آئے ہیں جبکہ8افراد پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک نوجوان کی دونوں آنکھیں پیلٹ لگنے کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔ سرینگر کے صدر اسپتال میں منگلوار کی صبح سے ہی ایمبولنس کی آوازوں نے ماحول کو رنجیدہ کردیا کیونکہ پلوامہ میں لشکر جنگجووں کہ ہلاکت کے خلاف مظاہروں میں شامل لوگوں پر فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال میں پیلٹ اور گولیاں لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جن میں 17زخمی نوجوانوں کو سرینگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا ۔سرینگر کے صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر احمد چودھری نے بتایا کہ منگلوار کو اسپتال میں 17زخمیوں کا داخل کیا گیا جن میں 9افراد گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے ہیں جبکہ 8افراد پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیںجن میں 5آنکھوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے ہیں جبکہ تین نوجوانوں کے جسم کے دیگر اعضاء میں پیلٹ لگے تھے۔سرینگر کے صدر اسپتال میں شعبہ امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر طارق قریشی نے بتایا ’’منگلوار کو شعبہ امراض چشم میں صرف 5ایسے مریضوں کوداخل کیا گیا جو پلوامہ میں مظاہروں کے دوران آنکھوںپر پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے نوجوانوں میں سے محمد عمر ساکن پلوامہ دونوں آنکھوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہواہے جبکہ دیگر4نوجوانوں کی ایک آنکھ میں پیلٹ لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچوں نوجوانوں کی ابتدائی جراحی انجام دی گئی ہے ۔ادھر شعبہ حادثات اور ایمرجنسی میں دن بھر زخمیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا جس دوران اسپتال میں ماحول کافی پر تنائو رہا جبکہ زخمی نوجوانوں کے لواحقین کی چیخ و پکار چاروں طرح سنائی دے رہی تھی۔