صدر اسپتال میں کورونامریضوں میں 74فیصد کمی

 سرینگر //صدر اسپتال سرینگر میں زیر علاج کورونا متاثرین کی تعداد میں74فیصد کمی آنے کے بائوجود بھی نہ تو اسپتال میں او پی ڈی بحال کیا گیا اور نہ ہی معمول کی جراحیوں کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ صدر اسپتال آنے والے مریضوں کا کہنا ہے کہ اسپتال کے مختلف شعبہ جات میں زیر علاج مریضوں او پی ڈی اور جراحیاں بحال ہونے کے منتظر مریضوں کو حالت بگڑنے کی وجہ سے نجی اسپتالوں اور کلنکوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ 15مئی کو دوسری لہر کے عروج کے دوران صدر اسپتال میں کورونا متاثرین کیلئے رکھے گئے 290 بستروں میں سے 282پر کورونا متاثرین زیر علاج تھے لیکن 44دنوں کے اندر اندر اسپتال میں زیر علاج کورونا متاثرین میں 74فیصد کمی آئی لیکن اس کے بائوجود بھی نہ تو اسپتال میں او پی ڈی اور نہ ہی جراحیوں کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اسپتال میں ابھی بھی شعبہ ای این ٹی، شعبہ امراض قلب اور دیگر شعبہ جات میں ہزاروں ایسے مریض جراحیوں کے منتظر ہے جو مالی صورتحال ابتر ہونے کی وجہ سے جراحیاں کرانے سے قاصر ہیں۔  17اپریل کو سرکار نے تمام اسپتالوں میں جراحیوں کا عمل بند کردیا ہے۔صدر اسپتال سرینگر میں او پی ڈی کھولنے اور معمول کی جراحیاں بحال کرنے پر بات کرتے ہوئے جی ایم سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر سلیم خان  نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سرکاری کی جانب سے اجازت نہیں ملی ہے ‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اسپتال سرینگر میں روزانہ 2000سے 2500مریض او پی ڈی میں عالج و معالجہ کیلئے آتے ہیں  لیکن پچھلے 3ماہ سے یہ مریض اپنا طبی معائنہ کرانے سے قاصر ہیں۔