صحرائی کے انتقال پر سماج کا ہر طبقہ فکر مغموم | محبوبہ مفتی ،الطاف بخاری اورسجادلون سمیت کئی سیاسی،سماجی اور مذہبی جماعتوں کا اظہار رنج

سرینگر// تحریک حریت کے چیئرمین اور سرکردہ مزاحمتی رہنما محمداشرف صحرائی کے دوران حراست انتقال پرسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،اپنی پارٹی صدر الطاف بخاری ،پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون ،جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی،سی پی آئی ایم کے رہنما محمد یوسف تاریگامی،پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین اور دارالعلوم رحیمیہ سمیت کئی سماجی اور مذہبی لیڈروں اورتنظیموں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے صحرائی کے انتقال پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے بھارت میں اختلاف رائے رکھنے پر ایک شخص کو اپنی زندگی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو چاہئے کہ موجودہ پْرخطر حالات میں قیدیوں کو پیرول پر رہا کریں۔ محبوبہ مفتی نے بدھ کو ایک ٹویٹ میںکہا’’ اشرف صحرائی صاحب کے اچانک انتقال کی خبر سن کر بے حد دکھ ہوا۔ نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے ان جیسے لاتعداد سیاسی و دوسرے قیدی مسلسل بند ہیں۔ آج کے بھارت میں اختلاف رائے رکھنے پر ایک شخص کو اپنی زندگی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے‘‘۔انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ موجودہ پْرخطر حالات میں حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ ان قیدیوں کو پیرول پر رہا کرے تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ سکیں۔اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے ایک تعزیتی بیان میں سوگوار کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ِ ثواب کے لئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا’’ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گوہوں کہ مرحوم صحرائی صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت ہو اور کنبہ کو یہ ناقابل تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا ہو۔ اپنی پارٹی اِس مشکل گھڑی میں صحرائی صاحب کے کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے‘‘۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ صحرائی صاحب ایک سیاسی رہنما تھے دہشت گرد نہیں‘‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ صحرائی کی زیر حراست اسپتال میں موت کیوں ہوئی اور اس کے لواحقین کی موجودگی میں گھر میں کیوں نہیں؟۔لون نے اپنے ایک ٹویٹ میںکہاکہ یہ کشمیری سیاست کی ستم ظریفی ہے کہ تنازعہ نے کشمیر میں اعلیٰ معیار کے رہنماؤں کو کھا لیا ہے ۔ ایک اور ٹویٹ میں سجاد لون نے سوال کیاکہ اُسے قید میں کیوں مرنا پڑا ۔کیا ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ بوڑھا مردہ شخص ریاست کے لئے خطرہ ہے؟ لون نے لکھاکہ میں تنقید نہیں کررہا ہوں لیکن صورتحال پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے ۔جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے دوران حراست مزاحمیتی لیڈر کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔بیان میں جے کے پی سی سی نے غمزدہ خاندان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے۔سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ان کی لاش کو کشمیر منتقل کیا جائے تاکہ ان کا کنبہ ان کی آخری رسومات ادا کر سکے۔  ایک تعزیتی بیان میں تاریگامی نے سوگوار خاندان سے اظہار یکجہتی کیا اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مشکلات کے بغیر ان کی آخری رسومات ادا کرنے میں ان کی مدد کریں۔ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمد یاسین نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم بے لوث سیاسی شخصیت ہونے کے علاوہ ایک بلند پایہ مذہبی سکالر تھے۔حکیم یاسین نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر چودھری محمد رمضان نے گہرے صدمے کااظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کی ہے۔ انہوںنے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کے انتقال سے دینی اور سیاسی حلقوں میں ایک خلاء پیدا ہوگیا۔ انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے محمد اشرف صحرائی کی وفات پر رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی ہے۔دارالعلوم رحیمیہ کے سربراہ مولانا رحمت اللہ نے  بزرگ رہنما محمد اشرف صحرائی کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے اور یہ آخری عشرہ جس میں ان کی وفات ہوئی حدیث شریف کی رو سے جہنم سے خلاصی کا عشرہ ھے جو ان کو نصیب ہوا۔ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر فیاض احمد شبنم اور سیول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے بھی صحرائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے بلند درجات کیلئے دعا کی ہے۔
 
 
 
 

عمر بھر کا ساتھی داغ مفارقت سے گیا:گیلانی | کشمیر ی ایک مایہ ناز فرزند سے محروم ہوگئے

سرینگر//حریت کانفرنس (گ)چیئرمین سیدعلی گیلانی نے گہر ے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ہے کہ کشمیر کی سرزمین آج ایک مایہ ناز فرزند سے محروم ہوگئی۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ’’محمد اشرف صحرائی (میرا اشہ لالہ )اپنے رب سے جاملا۔انہوں نے دنیا بھر میںمرحوم کے غائبانہ نماز جنازہ کی اپیل کی۔گیلانی نے کہا’’ ہر زندگی کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ہمارا یقین ہے کہ موت ہی ایک دائمی زندگی کی شروعات ہے لیکن اس پیرانہ سالی میں جب عمر بھر کا ساتھی اور راہ وفا کا ہمراہی داغ مفارقت دیکر اس جہان فانی سے کوچ کرتا ہے تو آنکھیں آنسو بہانے کے بجائے خشک ہوجاتی ہیں،لب الفاظ کہنے کے بجائے سل جاتے ہیں اور قلب و ذہن یہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا کہ میرے دست راست،تحریکی اور تنظیمی ہمراز اب ہم میں موجود نہیں رہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ دلخراش خبر سنتے ہی رفاقت کے تمام مناظر آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں۔موصوف ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کے پیکر مجسم تھے جنہیں نہ تو کسی بڑے سے بڑے نفع کا لالچ اور نہ ہی کسی بڑے سے بڑے نقصان کا خوف اپنے موقف سے ہٹاسکتا تھا۔گیلانی کے مطابق اپنے بیٹے کی جدائی کسی باپ کیلئے کیا صدمہ ہوسکتا ہے لیکن عزم و حوصلہ کی اس چٹان کو یہ صدمہ عظیم بھی اپنے موقف سے سر مو انحراف تک آمادہ نہ کرسکا۔اس اولوالعزمی ،اس استقامت اور اس حوصلے کو ہزاروں سلام۔بزرگ رہنما نے کہا کہ قیدوبند کی صعوبتیں صحرائی کیلئے کوئی نئی بات نہیں تھی جس راستے کے وہ مسافر تھے اُس پر تو عمریں اسی دشت کی سیاحی میں گزرجاتی ہیں لیکن جس طرح دوران حراست انہیں علاج و معالجہ کی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا گیا ،اس سے اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ ان کی موت ایک زیر حراست قتل ہے جس کیلئے حکام براہ راست ذمہ دار ہیں۔ گیلانی نے بیان میں کہا ’’آیئے اپنے اس محسن اور اپنے اس شہید کو شایان شان طریقے پررخصت کریں اور دنیا کے جس کسی گوشے میں ہم موجود ہوں ،صحرائی صاحب کیلئے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کریں‘‘۔ 
 
 
 
 

 عوام نے ایک مخلص اور با صلاحیت رہنما کھو دیا:حریت (ع) |  نظربندوں کو انسانی بنیادوںپر رہا کرنے کی اپیل 

سرینگر// حریت کانفرنس (ع)نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے جیل حکام کی جانب سے عدم توجہی کے سبب انکی تکلیف میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور بالآخر انکی موت واقع ہوئی۔ایک بیان میں حریت نے جیل حکام کے اس غیر انسانی رویے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد درجہ افسوسناک قرار دیا۔حریت کانفرنس نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر مختلف جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کی بار بار اپیلوں کے باوجود انہیں رہا نہ کیا جانا انکی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔بیان میں محمداشرف صحرائی کی سیاسی خدمات کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا گیاکہ صحرائی کی وفات سے جموں و کشمیر کے عوام نے ایک مخلص اور با صلاحیت رہنما کو کھو دیا ہے۔بیان میں کہا گیاکہ تحریک مزاحمت کے دوان صحرائی کی خدمات اور قربانیوں کو نہ صرف عوام یاد رکھیں گے بلکہ اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔بیان کے مطابق حریت چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق، حریت ایگزیکٹیو اراکین پروفیسر عبدالغنی بٹ، بلال غنی لون، مولانا مسرور عباس انصاری اور جملہ قیادت کی جانب سے مرحوم کو بھر پور الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل اور مرحوم کو جنت الفردوس عطا کرے۔بیان میںحریت نے ایک بار پھر حکام پر زور دیا ہے کہ کوروناکے پھیلائو کے سبب محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، ظہور احمد،پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد،فاروق احمد ڈار،آسیہ اندرابی ،فہمیدہ صوفی اورناہیدہ نسرین وغیرہ سمیت کشمیر اور کشمیر سے باہر مختلف جیلوں اور قید خانوں میں مقید تمام قیدیوں اور نظربندوں کو انسانی بنیادوںپر فوری طور پر رہا کیا جائے۔