! صحت سے غافل آج کی مائیں مختلف امراض کا شکار بنتی ہیں

ڈاکٹر رضوانہ انصاری

ہم سب جانتے ہیں کہ صحت مند ماں سے صحت مند گھرانا پروان چڑھتا ہے جو صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتا ہے، مگر عام طور پر عورت یا لڑکی کی بنیادی صحت پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کی غذا پر دھیان نہیں دیا جاتا، جس کی بنیادی وجہ ’’صنفی امتیاز‘‘ ہے۔ صحت بخش خوراک شوہر، باپ اور بیٹے کھاتے ہیں ،بچا کھچا کھانا ماں کو ملتا ہے ۔
حاملہ عورتوں کی صحت پربھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی جب تک کہ اسے کوئی تکلیف یا طبعی مسئلہ نہ ہوجائے۔ ان مسائل کاتدارک اور کل کی ماؤں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ حاملہ خواتین کو9ماہ کے دورانیے میں کم ازکم چار بار ڈاکٹر سے میڈیکل چیک اپ کروانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ حمل کوئی بیماری نہیں ہے، مگر زچگی کے مرحلے سے گزرنے کے لیے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرنا بہت ضروری ہے۔

حمل اور زچگی کی پیچیدگیوں میں غذا اور خون کی کمی سب سے بڑی وجہ ہے۔ 30سے50 فیصد تک عورتیں دوران حمل خون کی کمی یا انیمیا کا شکار ہوجاتی ہیں۔ غذا اور خون کی کمی قوت مدافعت کی کمی کا سبب بنتی ہے، جس سے خرابی صحت کے ساتھ مختلف انفیکشز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔جس سے سالانہ ہزاروں خواتین کی موت ہوجاتی ہے۔

دوسرے نمبر پر حمل کے دوران بلڈپریشر کا بڑھ جانا pre eclampsia ہے۔ ایسی صورت میں عورت کو سردرد،چکر ،چہرے ، ہاتھوں اور پیروں پرسوجن آجاتی ہے۔ دورے پڑنے لگتے ہیں اور بچے کے ساتھ ساتھ ماں کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کے لیےباقاعدہ معائنہ، علاج اور پرہیز بہت ضروری ہے۔ اسی طرح دوران حمل ذیا بطیس بھی بڑی پیچیدگیاں پیدا کردیتا ہے۔ خون میں شگر لیول بڑھ جانے اور دیگر مسائل کے ساتھ بچے کا وزن بھی بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔ یوں نارمل ڈلیوری کا امکان کم ہوجاتا ہے۔پیشاب کی نالی کا انفیکشن بھی حمل کے دوران پریشانی کا سبب بن سکتا ہے ۔PPHپوسٹ پارٹم ہیمرج یعنی ڈلیوری کے بعد بہت زیادہ خون ضائع ہوجانا بھی عورت کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ خصوصاً خون کی کمی کا شکار عورتوں میں۔

وقت سے پہلے بچے کی پیدائش بھی کمزور اور خون کی کمی کا شکار عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس صورت میں کم وزن بچے کو بہت زیادہ احتیاط اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈلیوری کے بعد مائیں دودھ پلانے کے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں، جو ماں اور بچے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ بر وقت مشورہ اور علاج سے تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔
آپریشن سے زچگی کے بعدماں زیادہ توجہ اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈلیوری کے بعد ہارمونز کی تبدیلی سے کچھ مائیں ڈپریشن کا شکار بھی ہوجاتی ہیں، اس صورت میں اُن کو بہت زیادہ توجہ ،محبت اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری صورت میں بھی ماؤں کو بہت زیادہ توجہ محبت اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے،کیوں کہ دوسری صورت میں ماں کے ساتھ بچے کوبھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

ان سارے مسائل سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دوران حمل مائیں صحت مند عادات اپنائیں۔ اپنی غذا اور دوا جو ڈاکٹر نے تجویز کی ہیں باقائدگی سے استعمال کریں۔ غیر ضروری ادویات خصوصاً حمل کے ابتدائی دورانیے میں استعمال نہ کریں۔ حمل کے شروع کے دنوں میںEmbryogenesisیعنی اعضا بننے کا عمل جاری ہوتا ہے، اس لیےغیر ضروری نقصان دہ ادویات بچے میں ذہنی وجسمانی کمزوری ،معذوری یاموت کا سبب بن سکتی ہیں۔حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں یہ ماں اور بچے کو تشنخ سے بچاتے ہیں۔

ہلکی پھلکی محفوظ ورزش، واک یا یوگا کریں۔اپنے خوف اور خدشات حل کریں۔ اس کے لئے گھریلوں خواتین یا پڑوسن سے مشورہ کرنے کے بجائے لیڈی ہیلتھ ورکر یا پھر اسپتال میں ڈاکٹر سے بات کریں اور جوبھی سوال ذہن میں ہو، اس کا جواب حاصل کریں۔ ذہنی اطمینان بھی بہت ضروری ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے معلوم کریں۔ ذہنی اور روحانی تندرستی کا خیال کریں۔ آرام کی خواہش ہو تو ضرور آرام کریں۔کچھ باتیں حمل کے دوران لینے والی غذا پر:

٭کوشش کرکے اپنی غذا کو متوازن رکھیں۔تیز مرچ مسالے، زیادہ نمک، زیادہ چٹنی اور زیادہ چکنائی سے اجتناب برتیں۔
٭حمل کے دوران غذائی ضروریات میں کافی اضافہ ہوجاتا ہے، عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا میں لمحیات ،کیلشم، فولک ایسڈ، فولاد، وٹامن سی اور DHA کو شامل کریں۔
لمحیات انڈا، دودھ اور گوشت مچھلی وغیرہ سےحاصل ہوتے ہیں اور بچے کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیلشیم بچے کی ہڈیوں کے لیے نہایت ضروری ہے یہ دودھ،دہی، پینر وغیرہ سے حاصل ہوسکتا ہے۔ فولک ایسڈ حمل کے شروع کے دنوں میں حرام مغز کے بننے میں مدد فراہم کرتا ہے اور بچے کو پیدائشی نقائص سے بچاتا ہے۔ یہ ہمیں خشک دالوں، پالک اور ہری سبزیوں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ فولاد ماں اور بچے کے خلیوں تک آکسیجن پہنچانے کاکام کرتا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے گوشت، مچھلی، مرغی ، کلیجی ، پالک اور سیب کا استعمال ضرور کریں۔وٹامن سی حمل کے دوران مختلف اقسام کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی فولاد کو جسم میں جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ ہمیں ترش پھل جیسے مالٹا ،کینو،اور لیموں وغیرہ میں زیادہ ملتا ہے۔

ڈی ایچ اے ۔ بچے کی ذہنی نشوونما اور آنکھوں کی بصارت کی پختگی کیلئے نہایت ضروری ہے۔ یہ ہمیں متوازن غذا اور مچھلی سے حاصل ہوتا ہے۔ متوازن غذا کے لیے ضروری ہے کہ اس میں پانچ غذائی گروپس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور شامل ہو۔حمل کے دوران متوازن غذا ماں اور بچے کی صحت کی ضامن ہوتی ہے ان گروپس میں شامل ہیں۔

نشاستہ: یہ ہمیں اناج، گندم ، چاول ، جو ،روٹی دلیہ،وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے۔لحمیات گوشت ،انڈا ، دہی ،پنیر وغیرہ سے ملتا ہے۔چکنائی ہمیں مختلف اقسام کے تیل گھی، مکھن اور خشک میوہ جات سے حاصل ہوسکتی ہے۔معدانیات حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ سبزیاں ہیں ۔ وٹامن کے لئے ہمیں موسم کے پھلوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

یہاں تک تو بات ہوئی حاملہ عورتوں کی جنہیں کل ماں بننا ہے۔ ہمیں مستقبل کی ماؤں یعنی آج جو بچیاں یا لڑکیاں ہمارے سامنے ہیں۔ اُن کی صحت پر توجہ دینی بہت ضروری ہے۔ ان کی غذا کا خیال رکھنا اس لیے بھی بہت ضروری ہے، تاکہ ان میں غذا اور خون کی کمی نا ہو۔ ان کی ہڈیاں مضبوط ہوں۔ ان بچیوں کو کھیل کود کی ترغیب بھی دینا چاہیے، تاکہ وہ صحت مند ہوں۔ ان کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی ضرور کروانا چاہیے، تاکہ مستقبل کی مائیں اپنے ہونے والے بچوں کو پیدائشی نقائص اور مسائل سے بچا سکیں۔

یہاں چالیس سال سے اوپر ان ماؤں کا ذکر بھی ہوجائے جن کے بچے بڑے ہوچکے ہیں۔ ایسی خواتین ہمارے یہاں عام طور پر غیر متحرک زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ اس عمر میں ان کے لیے میڈیکل چیک اپ بہت ضروری ہے ۔ عورتوں میں بریسٹ کینسر خطرناک حدتک بڑھ رہا ہے ۔40سال سے بڑی عمر کی عورتوں میں آسٹیوپروسس(ہڈیوں کا بھربھراپن) ذیا بطیس ، بلڈپریشر، مینوپاز کی تکالیف، جوڑوں اور کمر میں درد اور نیند کے مسائل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ وہ اپنا معائنہ کروائیں۔ اپنا کیلشم اور وٹامن ڈی چیک کروائیں۔بلڈ پریشر کے ساتھ خون میں شوگر لیول بھی چیک کرانا ضروری ہے۔خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہوتو فوری علاج کروائیں۔ غذا کا دھیان رکھیں، وزن بڑھنے نہ دیں، واک یا ورزش کریں اور کچھ اچھی مصروفیات تلاش کریں ۔مثلاً کتابیں پڑھنا، باغبانی کرنا، دوستوں اور رشتے داروں سے ملنا، فلاحی کاموں میں حصہ لینا۔

’’ماں‘‘ تو نسلوں کی امین ہوتی ہے ۔لیکن عموماً مائیں خصوصاًپہلی بار ’’ماں‘‘بننے والی خاتون اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں ،کیوں کہ انہیں علم نہیں ہوتا کہ دوران ِحمل کیا کھائیں پئیں اور کن کھانوں سے پرہیز کریں۔اس لیے اہل خانہ اُن کا خاص خیال رکھیں۔ اگر انہیں یکدم کھڑے ہونے پرچکر آتے ہیں، وہ تھکن کا شکار ہیں۔ چلنے سے ان کاسانس تو پھول رہاہے، انہیں اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہورہی ہے۔ ان کے ہاتھوں، پیروں پر ورم یا سوجن ہورہی ہے، انہیں نیند کے مسائل کا سامنا ہے۔

اگر ایسا ہے تو اُن کا میڈیکل چیک اپ ضروری ہے۔اپنی ماؤں کے ساتھ اپنے بچوں کی ماؤں اور مستقبل کی ماؤں کا بھی دھیان کریں۔ محبت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کی حفاظت کریں ۔