صحافیوں کی تنگ طلبی، ورکنگ جرنلسٹوں نے کام کاج بندکرنے کی دھمکی دی

سرینگر// کشمیر ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور کشمیر جرنلسٹ ایسو سی ایشن نے این آئی اے کی جانب سے کشمیری صحافی عاقب جاوید حکیم کو نئی دہلی طلب کرنے جیسی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر صحافیوں کو تنگ طلب کرنے کی کارروائیوں پر روک نہیں لگائی گئی تو وہ بطور احتجاج اپنا کام بندکریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے کی جانب سے سرینگر سے شائع  ہونے والے انگریزی روزنامہ’’کشمیر اوبزرور‘‘ کے رپورٹرکو دلی طلب  کئے جانے کا مقصدریاست جموںوکشمیرمیں غیر جانبدارانہ صحافت کو دبانا اور یہاں کے صحافیوں کو دہشت زدہ کرنا ہے۔ کشمیر ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور کشمیر جرنلسٹ ایسو سی ایشن نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے کشمیری صحافی عاقب جاوید حکیم کو نئی دہلی طلب کرکے ان سے پوچھ تاچھ کرنے کے عمل کی سختی سے مذمت کی ہے۔ ایسو سی ایشن نے بتایا کہ وادی کے صحافیوں کو پوچھ تاچھ کے لیے نئی دہلی طلب کرنا اصل میں کشمیری صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان کے قلب و ذہن پر دہشت کا ماحول قائم کرنے کے مترادف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جانے مانے صحافی عاقب جاوید صحافی کو دختران ملت  سربراہ آسیہ اندرابی کا کچھ ماہ قبل انٹرویو لینے کے سلسلے میں نئی دہلی طلب کیا گیا ہے۔کشمیر ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور کشمیر جرنلسٹ ایسو سی ایشن نے بتایا کہ وادی کے صحافیوں کو وفاقی ایجنسی کے ذریعہ نئی دہلی طلب کرنا اور صحافیوں کے ساتھ غیر مہذب طریقے سے پیش آنا یہاں کی صحافتی آزادی کا گھلا گھونٹنے کے برابر ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ وادی کے ایک صحافی کو کچھ دن قبل ہی نئی دہلی میں اس ایجنسی کے دفتر پر حاضر ہونے کی اطلاع دی گئی اور وفاتی ایجنسی نے یہ تک نہیں سوچا کہ مختصر وقت کے اندر مذکورہ صحافی کس طرح نئی دہلی تک کا سفر طے کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ این آئی اے کے کردار پر ماضی قریب میں بھی انگلیاں اُٹھ چکی ہیں ۔گزشتہ برس بھی انہوں نے ایک صحافی کامران یوسف کوبے بنیاد الزامات کے تحت نئی دہلی طلب کرکے یہاں کی صحافت کو اپنی خواہش کے عین مطابق چلانا چاہا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست جموںوکشمیر کے اندر صحافیوں کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر لگاتار بلاجواز طریقے پر ہراسان اور نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایسو سی ایشن نے بتایا کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ بھارت نے آزادی برائے صحافت کو بہت حد تک پامال کردیا ہے۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی سرکار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ صحافیوں کو دبانے کے بجائے انہیں غیر جانبدارانہ طور پر کام کرنے کا موقعہ فراہم کریں۔ ایسوسی ایشن نے بتایا کشمیر سے وابستہ صحافتی برادری ان کارروائیوں پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ ہر آن حالات و واقعات کا گہرائی سے جائزہ لے گی ۔انہوں نے ریاستی گورنر این این ووہرا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری صحافیوں کو این آئی اے کی جانب سے تنگ طلب کرنے جیسی کارروائیوں پر فوری روک لگانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،بصورت دیگر وادی کے جملہ صحافی ادارے بطور احتجاج اپنا کام کاج بند کردیں گے۔