صارفین کو موردِ الزام ٹھہرانے کی اعتباریت کتنی؟

سرینگر //محکمہ بجلی وادی کے صارفین پر فیس کی ادائیگی میں لیت ولعل اور بجلی چوری کے الزامات عائد کرنے سے نہیں تھکتاوہیں سرکاری محکمہ جات اور سیکورٹی ایسٹیبشلمنٹ پر واجب الادا کروڑوں کی رقم وصولے جانے کیلئے کوئی کاروائی کجا عوامی سطح پر ایک بیان بھی نہیں دیا جارہا ہے۔اعدادوشمار کی رو سے وادی کے صارفین ہی ریاست کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ فیس ادا کرتے ہیں لیکن سردیوں کے سخت ایام میں انہیں ہی بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے اور الزام بھی ان پر ہی عائد کیا جاتا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیاست داں ، بیروکریٹس اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے سینکڑوں افراد بھی بجلی فیس ادا نہیں کر تے جس کا خمیازہ عام آدمی کو بجلی کٹوتی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ کئی بار ایسے محکمہ جات کو نوٹس جاری کئے گے لیکن یہ محکمہ جات بلوں کی ادائیگی میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ذرائع نے چند محکمہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن پرپچھلے کچھ برسوں سے بجلی فیس کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں ۔شہر کے نیڈو ہوٹل میں سی آر پی ایف پر ستمبر 2018تک محکمہ کے 0278747 1روپے کی بل واجب الا دا ہے ۔اسی طرح کمانڈنٹ (این ٹی) 3Rdبٹالین کے پاس بجلی بل کے7465396روپے واجب الادا ہیں ۔ٹورسٹ ڈولپمنٹ کارپوریشن سرینگر27لاکھ 95ہزار 6سو 23روپے کی بجلی بلوںکا مقروض ہے ۔ایس ایم سی سرینگر کے فواروں کے استعمال کیلئے جو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اس کے 2281447روپے واجب الاد ہیں ۔سی ایچ نمبر 2ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ18لاکھ 26ہزار 3سو 23روپے کا مقروض ہے ۔منیجر یاتری نواس سرینگر 17لاکھ 19ہزار 5سو 88روپے کی بجلی بلوں کا مقروض ہے ۔جی ٹی ایل انفاسکٹیچر یو آر ای،PTV.LT سرینگرکی طرف 15لاکھ 58ہزار 4سو 44روپے کی بلیں واجب الا دا ہیں ۔ڈپٹی ڈائریکٹر پروٹو کال بنکٹ ہال بجلی بلوں کے 14لاکھ 74ہزار 6سو 58روپے ادا نہیں کررہا ہے  ۔جوائنٹ ڈائریکٹر (جی )پارکس فلوری کلچر کے پاس 13لاکھ 92ہزار 2سو 27روپے واجب الا دا ہیں ۔سی ای او بی بی کنٹ آفس سرینگر بھی محکمہ بجلی کی 12لاکھ 84ہزار 6سو 52روپے کا مقروض ہے ۔ڈپٹی ڈائریکٹر ٹورازم سٹریٹ لائٹس 11لاکھ 16ہزار 8سو 50روپے کے مقروض ہیں ۔انجینئر واٹر ورکس ڈویژن آر سی روڑ پر 10لاکھ 99ہزار 5سو99 روپے کی بلیں واجب الادا ہیں ۔سپرڈنٹ ای این ٹی کشمیر نرسنگ ہوم 10لاکھ 90ہزار 9سو 69روپے ،سرینگر ڈولپمنٹ (ٹی) اٹھارٹی سٹور  619108روپیکی بلیں واجب الادا ہیں ۔اسی طرح سابق وزراء اعلیٰ اور دیگر وزراء کی رہائش گاہ پر مامور بی ایس ایف کیمپوں کی طرف بجلی کے 539057روپے بقایا ہیں ۔اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کنسٹرکشن ڈویژن فسٹ سرینگر کی طرف محکمہ بجلی کے 476700روپے کی بل واجب الادا ہے ۔گرلز ہائی سکول کوٹھی باغ 398252روپے کا مقروض ہے۔ٹریجری آفسر صدر ٹریجری 338202روپے ، سکریٹری جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن  282513روپے ،چیف ایجوکیشن آفسر سرینگر  252466روپے ،پرنسل چیف کنزویٹر فارسٹ  225959روپے اورسیکٹری جموں وکشمیر سٹیٹ ایڈوائزری بورڈ 200434روپے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اس دوران بتایا جاتا ہے کہ سرینگر میں قائم واحد بچوں کے ہسپتال جی پی پنتھ نے بجلی بل کے 8کروڑ سے زیادہ کی رقم ادا نہیں کی ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ پولیس بھی بجلی کی بلیں ادا کرنے میں ناکام ہے ضلع پولیس لائن کے پاس 28لاکھ ، کرائم برانچ 22لاکھ ایس ایس پی کنٹرول روم نیو سیکریٹریٹ فسٹ اینڈ سیکنڈ 2.61لاکھ ۔ایس ایس پی( سی آئی کے) 2.17لاکھ وومن پولیس سٹیشن 13لاکھ ایس ایس پی اپریشن کارگو 57لاکھ ، آئی جی پی ریلوے 12.8لاکھ سینئر سپرڈنٹ آف پولیس نیو بلڈنگ 1.61لاکھ کمانڈنٹ جے کے اے پی 5بٹالیں فار نیو بلڈنگ 1.8لاکھ شامل ہیں۔اور اس طرح دیگر محکمہ جات کی طرف بھی بجلی بلوں کے کروڑوں روپے واجب الاداہیں ۔