صارفین پر اندھیرے کی مار، جنوبی کشمیر میں کوئی شیڈول نہیں، محکمہ بجلی ہر قاعدے سے آزاد

سرینگر // محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے چند روز پہلے جاری کئے گئے کٹوتی شیڈول کے بعد بجلی سپلائی میں بدترین بے قاعدگی پیدا ہوگئی ہے اور وادی کے کسی بھی علاقے میں کہیں پر بھی شیڈول پر مکمل عمل در آمد نہیں ہورہا ہے۔شہر سرینگر اور قصبوں میںکہیں اعلان شدہ بجلی شیڈول سے زیادہ وقت کیلئے بجلی کاٹ دی جاتی ہے تو دیہات میں کہیں پر بھی کٹوتی شیڈول نافذالعمل نہیں کیا گیا ہے۔چند روز پہلے محکمہ بجلی نے اندھیرا قائم رکھنے کیلئے ایک بدترین شیڈول جاری کیا تھا اس کے مطابق شہر کے میٹر والے علاقوں میں چھ گھنٹے اور نان میٹر والے علاقوں میں 9گھنٹے بجلی بند رکھنے کا علان کیا گیا ۔تاہم شہر کے اکثر میٹر والے علاقوں سے لوگ شکایت کر رہے ہیںکہ وہاں دن میں صرف 6گھنٹے بجلی بند نہیں رکھی جاتی بلکہ بیچ میں آدھ آدھ گھنٹے کیلئے اضافی کٹوتی بھی کی جاتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔شہر کے نان میٹر والے علاقوں کا حال تو بے حال ہے ۔ہمدانیاں کالونی بمنہ اور پائین شہر کے بیشر علاقوں میں 24گھنٹوں میں صرف 6گھنٹے ہی بجلی دیکھتے ہیں جبکہ شیڈول کے مطابق انہیں صرف 11گھنٹے بجلی فراہم لازمی ہے،لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔جنوبی کشمیر کے 4اضلاع اننت ناگ، کولگام، شوپیان اور پلوامہ میں پاور بریک ڈائون ہے۔محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ ونپوہ میں ٹاور گرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا جس کے بعد جنوبی کشمیر میں بجلی سپلائی پوزیشن بہت ہوجائے گی لیکن برفباری کے بعد جنوبی کشمیر میں جو بدتین صورتحال پیدا ہوئی اسے دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بجلی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کئی واٹر سپلائی سکیمیں بیکار ہوچکی ہیں جن سے لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کیا جارہا تھا۔جنوبی کشمیر میں فی الوقت کوئی کٹوتی شیڈول نہیں ہے۔وادی کے جن میٹر ونان میٹر والے علاقوں میں بجلی شیڈول جاری کیا گیا ہے وہ صرف دکھانے کیلئے ہے ۔کپوارہ کے لولاب ، کرالپورہ ، شمناگ ، ہندوارہ ، تارت پورہ ، راشن پورہ، ملیال ، کے علاوہ کیرن اور کرناہ کی حالت ایسی ہے کہ وہاں لوگ شدید بجلی بحران سے تنگ آچکے ہیں ۔ بانڈی پورہ کے چونٹی مولہ ، دردپورہ ، گنڈی پورہ ،گلشن پورہ ،آلوسہ ،اہرگام ، آیتمولہ ،چونٹی واڑی ،ڈار پورہ ،کنوسہ ،خیار ،ملن گام ، زلون ، کویل مقام ،نادی ہال ،پنزگام ، پتو شے ،بنکوٹ میں بھی بجلی کا حال بے حال ہے ۔ بارہمولہ ضلع کے ساتھ منسک علاقے جن میں پٹن ، سوپور ، بونیار ، کنزر ٹنگمرگ ، رفیع آباد ، روہامہ ، اوڑی ،واگور ، زین گیز کے متعدد دیہات بھی پچھلے ایک ماہ سے بدترین بجلی کٹوتی کا شکار ہیں ۔ادھر گاندربل ، کنگن ، سنبل اور دیگر علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی شیڈول صرف نا م  کا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو اندھیرا زیادہ اور روشنی کم ملتی ہے ۔محکمہ بجلی کے ایک علیٰ افسر کا کہنا ہے کہ وادی کو اس وقت 22سو میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اور محکمہ 13سو میگاواٹ بجلی فراہم کر کے بھی اورلوڈنگ کے نیچے دب گیا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ جو شیڈول محکمہ نے جاری کیا ہے اُس کے مطابق ہی لوگوں کو بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کٹوتی شیڈول میں بھی تب نرمی لائی جا سکتی ہے جب لوگ اورلوڈنگ میں کمی لائیں گے ۔