صارفین بدنام،سرکاری ادارے محکمہ بجلی کے بڑے پیمانے پر مقروض ہسپتال ، مختلف دفاتر اور فورسزفیس واجبات کی ادائیگی میں بری طرح ناکام

بلال فرقانی

سرینگر// شہر کے راج باغ اور کپوارہ ڈویژنوں میں رواں سال اپریل تک سرکاری محکموں و اداروں، کارخانوں، ہسپتالوں،پولیس و نیم فوجی دستوں پر بجلی فیس کی مد میں قریب95کروڑ روپے کے واجبات ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔محکمہ بجلی کی جانب سے مختلف اضلاع میں صارفین سے واجب الادا فیس کی وصولیابی کیلئے جامع مہم چلانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے،جس کے تحت ابتدائی دنوں میں ہی وادی بھر میں صارفین سے11 کروڑ روپے کی فیس وصول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔لیکن صرف 2ڈویژنوں اور 2سب ڈویژنوں میں قریب 1ارب روپے بقایا ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ سرکاری محکموں پر واجب الادا ہے۔

راج باغ ڈویژن
اسسٹنٹ انجینئر ڈسٹری بیوشن،کے پی ڈی سی ایل کی جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اپریل 2023تک اس ڈویژن کے تحت آنے والے علاقوں میں30کروڑ 81لاکھ 18ہزار 787روپے کے واجبات تھے جس میں چھانہ پورہ سب ڈویژن کے تحت سرکاری محکموں،سیاست دانوں اور بیرو کریٹوں کے پاس ایک کروڑ63لاکھ605روپے جبکہ پولیس و نیم فوجی دستوں کے پاس2کروڑ29لاکھ679روپے اور ہسپتالوں کے حق میں3کروڈ17ہزار365روپے بقایا تھے۔ اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرکاری محکموں کے پاس اس سب ڈویژن میں21کروڑ82لاکھ30ہزار655روپے اور فورسز و نیم فوجی دستوں اور پولیس کے پاس2کروڑ29لاکھ679 روپے کی رقم بقایا تھی۔ راج باغ میں رہائشی کوارٹروں میں قیام پذیر شہریوں کے پاس قریب37لاکھ روپے جبکہ ہو ٹلوں کوایک کروڑ50لاکھ روپے اور کرن نگر سب ڈویژن کے تحت 55کروڑ روپے کے قریب رقومات واجب الادا ہیں، جس میں سے پبلک لائٹس کے چیف اکاونٹس آفیسر کے پاس10کروڑ17لاکھ77ہزار521اور ڈی آئی جی سی آر پی ایف(پولیس) کو ایک کروڑ95لاکھ44ہزار152،23ویں بٹالین سی آر پی کو18کروڑ44لاکھ75ہزار631روپے،49ویں بٹالین سی آر پی کو16کروڑ89لاکھ75ہزار43،157بٹالین کو 4کروڑ33لاکھ29ہزار879،144ویں بٹالین کو5کروڑ14لاکھ27ہزار364روپے، ایگزیکٹیو انجینئر(ایسٹیٹس) نیو سیکریٹریٹ کے پاس ایک کروڑ53لاکھ46ہزار837 ،محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹیو انجینئر برج ڈویژن کے پاس 30لاکھ74ہزار657اور اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر(ای ایم اینڈ آر ای،ایس ٹی ڈیii) کے پاس22 لاکھ21ہزار342روپے کی رقم بقایا تھی۔اعداوشمار میں بتایا گیا ہے کہ امسال اپریل2023تک چیف پلاننگ آفس کے پاس7 لاکھ75ہزار293روپے،اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر پی ایچ ای آفس کو66ہزار800 ،لائرس چیمبروں کے پاس2 لاکھ93ہزار451،ایگزیکٹیو انجینئرالیکٹرک آفس کے پاس2لاکھ28ہزار885،ڈپٹی کمشنر اسٹیپمس آفس کے پاس41 لاکھ74ہزار902، اسسٹنٹ ایگزیکٹیوانجینئر(لیفٹریور ڈویژن،سرینگر،میونسپل کارپوریشن) کے آفس کو56لاکھ844روپے،ایگزیکٹیو انجینئر،میکنیکل سٹی ڈرین ڈویژن کے دفترکے پاس2لاکھ77ہزار655،ڈسڑکٹ پولیس لائنز کو22لاکھ23ہزار628اوراسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر،ایس ٹی ڈی اسکینڈ کرن نگر کے آفس کے پاس15لاکھ66ہزار572روپے کی رقم واجب الادا ہے۔

کپوارہ ڈویژن
کپوارہ ڈویژن میں بی ایس این ایل ایکس چینج کو امسال مارچ تک52لاکھ21ہزار854روپے،ایگزیکٹیو انجینئر آبپاشی و میکنیکل4کروڑ96لاکھ7ہزار233روپے،فوج کے مختلف کیمپوں پر3کروڑ30لاکھ35ہزار539،ایگزیکٹیو انجینئر پی ایچ ای و میکنیکل اور پمپ اسٹیشنوں کے پاس13کروڑ55لاکھ26ہزار108 روپے کی رقم مارچ2023 تک واجب الادا تھی۔