شیوسیناکا حکومت کی نوجوان مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج

  جموں//شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے جموں و کشمیر یو ٹی انتظامیہ کے پبلک سروس کمیشن اور سروسز سلیکشن بورڈ کے حوالے سے 31 اکتوبر 2019 سے پہلے مشتہر کی گئی تمام پوسٹوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور اسے غیر انسانی قرار دیا ۔جموں و کشمیر شیوسینا یونٹ کے صدر منیش ساہنی کی قیادت میں پارٹی کارکن جموں میں پارٹی کے مرکزی دفتر کے سامنے جمع ہوئے اور جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔ ساہنی نے کہا کہ بی جے پی کے مرکزی اور ریاستی لیڈروں اور وزراءنے جموں و کشمیر کے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی بہت زیادہ شیخی ماری ہے۔جوبی جے پی جو نوجوانوں کی خیر خواہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، اس طرح کے فیصلے سے بے نقاب ہو گئی ہے۔ساہنی نے کہا، "حکومت کے اس فیصلے نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر ہراساں کیا ہے جسے کبھی بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا"۔ ساہنی نے کہا کہ جن نوجوانوں نے نوکریوں کے لیے درخواست دی ہے انہوں نے بھاری فیسیں ادا کی ہیں اور وہ تحریری طور پر انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان، جنہیں مسلسل یقین دہانی کرائی جا رہی تھی، وہ نوکری حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے، جسے ایل جی انتظامیہ کے سخت فیصلے نے چکنا چور کر دیا۔ساہنی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان اس نوجوان مخالف فیصلے کے لیے موجودہ حکومت کو معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف "ووٹ پر چوٹ" کی زبان سمجھتی ہے اور ریاست کے نوجوان اس زبان میں جواب دینے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔