شیخ نورالدین رحمتہ اللہ علیہ

حقیقت اعلی کی والہانہ تلاش اور سماجی عدل و انصاف کے حصول کی خاطر لل دید (1320-1392) کی دشت نوردی رنگ لارہی تھی۔ وسط ایشیا اور ایران سے صوفیاء کرام کی ایک اچھی خاصی تعداد وارد کشمیر ہوکر یہاں کے مذہبی فکر کو مضمحل کرکے ایک انقلاب عظیم برپا کرنے کی راہ پر گامزن تھی۔ ایک طرف صوفی نظریہ ہمہ اوست کشمیر کے مقامی ادویتا واد (نان ڈولزم) کا ایک متبادل فراہم کررہا تھا تو دوسری طرف عملی سطح پر صوفیاء کرام کی بے نفسی، ایثار اور فیاضی (الٹروزم) کشمیر کے سواد اعظم کو اسلام کی تجلی سے فروزاں کررہی تھی۔
اس صورت حال میں دو طرح کی اقلیتیں، جو زیرک بھی تھیں اور فیصلہ کن بھی، کشمیریوں کے اعصاب پر سوار ہونے کے پر تول رہی تھیں۔ یہاں پر یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ دو جماعتیں نسلی، مذہبی یا جغرافیائی اعتبار سے اقلیتیں نہیں تھیں، بلکہ یہ اس لحاظ سے اقلیتیں تھیں کہ یہ کشمیر کی اکثریت کے مقابلے میں اسلام کو بحیثیت ضابطۂ حیات اختیار کرنے میں نہ صرف پس و پیش سے کام لے رہی تھیں بلکہ اس راہ میں عوام کی حوصلہ شکنی کا باعث بھی بن رہی تھیں۔ ان میں سے پہلی جماعت ان لوگوں پر مشتمل تھی جن کو مروجہ مذہبی اور ثقافتی سانچے میں ایک فیصلہ ساز حیثیت حاصل تھی۔ اس لئے اس جماعت کو اپنی حیثیت بنائے رکھنے کے لئے نت نئے جتن کرنا پڑ رہے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یہ لوگ عوام کو باور کرانا چاہتے تھے کہ وہ لوگ اسلام کے گرویدہ ہوکر دراصل اپنے پیروں پر تیشہ چلارہے ہیں۔
دوسری جماعت دراصل ان ابن الوقت لوگوں کی تھی جو موقع پرستی کی نئی نئی مثالیں قائم کررہے تھے۔ ہوا کا رخ بھانپ کر یہ جان چکے تھے کہ پرانی مذہبی روایات سے چمٹے رہنے کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ البتہ نئے مذہبی سانچے میں ڈھلنا بھی ان کے لئے آسان نہیں تھا، کیونکہ اس کے لئے نئی روایت پر نہ صرف تیقن کی ایک خاص سطح درکار تھی بلکہ اس کی خاطر ثابت قدمی کے ایک وافر ذخیرے کی بھی احتیاج تھی۔ چونکہ اس جماعت میں دونوں صفات کا فقدان تھا، اس لئے ان لوگوں نے ایک بیچ کی راہ اختیار کرکے بہروپیوں (شارلٹنز) کی شکل اختیار کرکے دونوں طرف کے فوائد سمیٹنے کا سامان کیا۔ شاید یہ لوگ اس انتظار میں بھی تھے کہ کون سی روایت کامیاب ہوتی ہے تاکہ اسی طرف پلٹی کھاکر اپنے مفاد کو محفوظ کیا جائے!
کشمیر کے اسی مذہبی اور ثقافتی تغیر و تبدل کے دوراہے پر شیخ نورالدین (1377-1438) کی شخصیت سامنے آتی ہے اور ان دونوں جماعتوں کی ایک خاص پیرائے میں راہنمائی فرماتے ہیں۔ ایک جماعت، جس کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ تصوف کے راستے سے اسلام کو اپنانے کی صورت میں کشمیری اپنی شناخت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، کو حضرت شیخ باور کراتے ہیں کہ حقیقت اعلی کو زمان و مکان میں مقید نہیں کیا جاسکتا ہے۔ متجسس دماغ ہمیشہ زمانے اور وطن کی حدود و قیود کو بالائے طاق رکھ کر حقیقت کی تلاش میں سرگرداں رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف زندگی گزارنے کے خاص رنگ ڈھنگ اپنائے ہیں بلکہ مابعدالطبعیات اور روح و بدن کی دوئی کے ساتھ ساتھ روح کی لافانیت کے عقیدے کو بھی اپنی فکر کا جزو لاینفک بنایا۔ اس ضمن میں قدیم یونان میں اگر کئی مفکرین کے علاوہ فیثا غورثی فلسفے (پائیتھا غورینزم) کے حاملین نے تصوف کی ایک خاص قبیل کو رواج دیا تو بر صغیر میں رشیوں نے عوامی اخلاقیات (پبلک موریلٹی) کے نرالے معیارات قائم کیے۔ اس باپت البیرونی "کتاب الہند" میں رقمطراز ہیں: "ایسا ہی معاملہ یونانیوں کا بھی تھا اور بالکل ایسا ہی معاملہ ہندوؤں کا بھی رہا ہے۔ ان (ہندوؤں) کا ماننا ہے کہ ان کا مذہبی قانون اور اس کے تمام احکامات کا ماخذ پیغمبر کے بجائے رشی ہیں، جو ان کے بزرگ اور برگزیدہ ہستیاں ہونے کے ساتھ ساتھ مذہب کے ستون ہیں۔"
اپنے زمانے کے رشی سرخیل ہونے کی وجہ سے شیخ نورالدین نے لفظ رشی کے اس تصور کو اپنے ہم وطنوں اور ہم عصروں کے ذہن میں اتارنے کے لئے بڑے ہی باوثوق اور پر اعتماد انداز میں کہا:
اول رشی احمد رشی
دویم حضرت اویس آیے
ترییم رشی زلک رشی
ژورم حضرت پلاس آیے
پآنژم رشی رمہ رشی
شییم حضرت میران آیے
سئتمس کئرہم ہشنو دئشی
بکس رشی مئہ کیا ناو
یعنی پہلے رشی احمد (حضرت محمدؐ) تھے، دوسرے رشی حضرت اویس قرنی ؓ ہوئے۔ تیسرے رشی زلک رشی تھے، جبکہ چوتھے رشی حضرت پلاس گزرے ہیں۔ پانچویں رشی رمہ رشی آئے جبکہ چھٹے رشی حضرت میران تھے۔ ساتویں رشی کو (یعنی مجھے) بھی رشی کے طور پر مشہور کردیا گیا ہے، میں کیسا رشی ہوں اور میرا نام کیا ہے؟
اس طرح شیخ نورالدین رشیت کو حقیقت اعلی کی تلاش کے ساتھ ساتھ دنیا میں رہن سہن کے منضبط اور مہذب قوانین کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آپ ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کا اصل سرچشمہ قرار دیکر اپنی قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ جن بزرگوں کے (صوفیاء کرام) کے ہاتھوں وہ ہدایت پارہی ہے ،انہوں نے اسی ذات اقدس سے یہ ہدایت پائی ہے۔ اور جس طرح مقامی رشی ایک دوسرے سے زاہدانہ زندگی کے رموز اخذ کرتے آئے ہیں، بالکل اسی طرح محمد (احمدؐ) بھی اسی زہد کے آداب اپنے ساتھیوں (جن میں سے اویس قرنی کا آپ نے نام لیکر ذکر کیا ہے) کو سکھاکر گئے ہیں اور انہی آداب کے تکمیلی ڈھانچے کی تعلیم اب صوفیاء کرام کشمیریوں کو دے رہے ہیں۔ اس لئے اس تعلیم و تعلم سے کشمیریوں کو متوحش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم شیخ کی جانب سے یہ ایک باضابطہ کوشش بھی معلوم ہورہی ہے کہ وہ مقامی رشیوں کو ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑ کر روحانی ہدایت کے نظام پر صوفیاء کرام کی ایک قسم کی اجارہ داری کو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ تاہم شیخ کی اس سعی کا واحد مقصد یہ معمول ہورہا ہے کہ مقامی روایت زہد کو رسالتمآب  صلی اللہ علیہ وسلمکی ذات گرامی سے ملاکر ایک آفاقی رنگ دیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر جب میر سید علی ہمدانی کے فرزند ارجمند، میر سید محمد ہمدانی وارد کشمیر ہوتے ہیں تو شیخ برملا پکار اٹھتے ہیں کہ "کآشرین پیر آو، یعنی کشمیریوں کا مرشد (کشمیر) آگیا ہے۔"
دوسری جماعت جو ہواؤں کا رخ دیکھ کر اپنی وفاداریوں کی من چاہی قیمت وصول کررہی تھی، کو شیخ نورالدین ہر ممکن انداز اپنا کر سمجھاتے ہیں کہ ہدایت اور گمراہی واضح ہونے کے بعد کسی کے لئے کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اپنے عمل کا رخ متعین نہ کرے۔ چونکہ یہ جماعت ایک انبوہ کثیر کی گمراہی کا سبب بن رہی تھی، اس لئے شیخ بڑے ہی درد مند انداز میں فرماتے ہیں:
یتھ واو حال ژونگ کس زال
تلہ کنہ زالیس علم تہ دین
پر کتھ ترآوتھ سو کتھ پالہ
سورئی علم چھس الف لام میم
یعنی اس بد عملی کی کالی گھٹا میں کوئی تو ہو جو عمل کا چراغ روشن کرے۔ ایسا کرنے کے لئے اسے علم و آگہی کے ساتھ ساتھ دین کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ اسے برائی (منکر) چھوڑ کر اچھائی (معروف) کو اختیار کرنا پڑے گا۔ ایسا کرنے کے لئے قرآن کا علم (الف لام میم) مینارہ نور کی طرح خدا کے مخلص بندے کی راہنمائی فرمائے گا۔
دراصل شیخ نورالدین کے زمانے میں علم و عمل سے عاری لوگ ہدایت کے مصنوعی ٹھیکیدار بنکر نہ صرف ہدایت کی راہ کو مخدوش کررہے تھے بلکہ جاہ و حشمت کے حصول کے لئے اپنی شناخت تبدیل کرکے منبر و محراب کے ساتھ چمٹ رہے تھے۔ اس زہد نما رندی کو شیخ نے اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے:
ملہ ہے آسی مولائے رومی نتہ ملہ ڈیشتھ گژھ پرن استغفار
یعنی مولانا (مرشد) اسی کو مانا جاسکتا ہے جو مولانا رومی کی طرح عرفان و عمل کا حقیقی نمونہ ہو۔ اگر ایسا نہیں تو مصنوعی ملاوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔
اس طرح واضح ہوتا ہے کہ شیخ نورالدین نے کشمیر کی تشکیل اسلامی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا جو اس تشکیل کے فکری اور عملی دونوں پہلوؤں کو محیط تھا۔ تاہم یہ عظیم کردار ادا کرنے کے لئے آپ کا فکر اور عمل کئی تغیرات سے گزرتا ہے۔ زندگی کے ابتدائی دور میں شیخ رشیت کی مقامی روایت کے مطابق گوشہ نشین ہوکر زہد کی اعلی مثال قائم کرتے ہیں۔ اگلے دور میں آپ صوفیاء کرام سے متعارف اور متاثر ہوکر گوشہ نشینی کو ترک کرکے دین کے ایک ایسے مبلغ بن جاتے ہیں جو کشمیر کے گوشے گوشے میں گھوم پھر کر خلق خدا خصوصا" عوام کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ترک دنیا کو، خاصکر عوام کے لئے، غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں شیخ اپنے خلیفہ، بابا نصر سے فرماتے ہیں:
نصر بابہ جنگل کھسن گیم خآمی مئہ دوپ یہ آسہ بئڑی عبادت
وچھ تہ یہ آس بئڑی بدنآمی سرء آس کرئنی کونی کتھ
یعنی بابا نصر! میرا جنگل جاکر گوشہ نشین ہونا ایک کوتاہی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ یہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اصل میں یہ ایک طرح کی بدنامی تھی۔ (میں نے یہ راستہ اس لئے چنا تھا کہ) حق کا عرفان حاصل ہو (جو اس کے بغیر بھی حاصل ہوسکتا تھا)!
تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ شیخ نورالدین روایت زہد کو بالکل نظر انداز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ زور دیکر اس بات کا اعادہ فرماتے ہیں کہ نفس (امارہ) کو مشقت کے تازیانوں سے ہی زیر کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ رشیت اور تصوف کے مشترکہ منشور کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
نفس چھ ونک اگہ زول
نیریس نہ پئٹ کوٹ منزول
یمی اون تہ انتھ گجہ زول
تمی  شرع  محمد  ؐ  پول
یعنی نفس جنگل کی سخت لکڑی کی طرح ہے، جسے کسی کار آمد ش میں مشکل ہی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ جس نے اس کو جلا کر راکھ کیا، اسی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کیا۔
یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ شیخ نورالدین کا کلام دراصل ان کے ذاتی تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کلام کو کشمیر کی تاریخ عرفان و زہد میں وہی اہمیت حاصل ہوئی جو مسلمانوں کی روایت تصوف میں مولانا رومی کے کلام، جس کا عرق ان کی مثنوی میں پیش کیا گیا تھا، کو حاصل ہوچکی تھی۔ جس طرح مثنوی کے بارے میں کیا گیا تھا کہ "ہست قرآن در زبان پہلوی"، بالکل اسی طرز پر شیخ نورالدین کے کلام کو "کآشر قرآن، یعنی کشمیری میں قرآن" کہا گیا۔ اسی لئے اس کلام سے کشمیر کی مساجد کے منبر و محراب کے ساتھ ساتھ یہاں کی معاشرتی اور ثقافتی محفلیں گونجتی رہی ہیں۔ کشمیر میں اتنی پذیرائی صرف مولانا رومی اور علامہ اقبال کے کلام کو ہی حاصل ہو پائی ہے۔
کشمیر اور کشمیریوں نے جس طرح شیخ کی حیات کو محسوس کرکے آپ کے فکر و عمل کو سر آنکھوں پر لیا تھا اور آپ کو ایک قومی مصلح کا درجہ دیا تھا، بالکل اسی طرح آپ کی وفات کو بھی ایسے ہی قومی پیمانے پر محسوس کیا گیا۔ ہزاروں اہلیان کشمیر کے ساتھ کشمیر کے بادشاہ، سلطان زین العابدین (1395-1470) بھی شیخ کے جنازے میں شریک ہوئے اور کشمیریوں کے اس محسن کو الوداع کیا۔ شیخ کے جنازے سے تحریک زہد (تصوف) کے ابتدائی زعیم، حسن البصری کا جنازہ یاد آتا ہے جب بصرہ کی تاریخ میں پہلی بار بصرہ کی جامع مسجد میں عصر کی نماز جماعت سے ادا نہیں ہوئی تھی کیونکہ لوگ جنازے میں مصروف تھے! خلق خدا میں اس پذیرائی کو بھی شیخ نے شاید اس طرح بیان کیا تھا:
مرنہ برونٹھٔے مربا مئرتھ مرتبہ ییی
یعنی مرنے سے قبل ہی مر جاؤ (یعنی زندگی میں خلوص اور بے نفسی کو اختیار کرو)، تاکہ مرنے کے بعد آپ کا رتبہ (خدا اور خلق خدا دونوں کے نزدیک) بلند ہوسکے!۔
(رابطہ: 9858471965ای۔میل: [email protected])