شیخ محمد عبداللہ اوربیگم اکبرجہاں کی کاوشوں کاثمر

سرینگر//نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس ،سینئر لیڈر و سابق وزیر سکینہ ایتو، صوبائی صدر خواتین ونگ انجینئر صبیحہ قادری اور سوشل میڈیا انچارج سارا حیات شاہ نے بچیوںکے قومی دن کے موقعہ اپنے پیغام میں کہا کہ جموں وکشمیر کو ترقی کی راہ پر لانے کے لئے خواتین کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے سلسلے کو جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو مقام بخشا ہے، وہ دنیا کے کسی بھی مذہب نے نہیں دیا۔ اسلام دختر کشی کے خاتمے کا درس دیتا ہے کیونکہ خواتین کو حقیر سمجھنے والا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آقائے دوجہاں ؐنے بچیوں کی عزت اور ان کے ساتھ پیار و محبت کا درس دیا ہے اقوام عالم اُس پر عش عش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں کیلئے مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داریاں سب کو نبھانا ہوں گی۔خواتین کو شامل کئے بغیر 21ویں صدی میں کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں پر بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین ، بزرگوں اور اساتذہ کی فرمانبرداری ، عزت و احترام کریں اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج ہماری بچیاں ہر میدان میں آگے ہیں، پھر چاہے وہ کھیل کود ہو، مروجہ اور اخلاقی تعلیم ہو۔ انہوں نے کہا کی نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے دوران ریاست میں خواتین میں تعلیم کو عام کرنے کیلئے بچیوں کی تعلیم کیلئے نئے نظریات پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ خواندگی سے ہی پرامن اور ترقی یافتہ کشمیر کی بنیاد مضبوط ہوگی۔تعلیم کے بغیر کوئی قوم بھی ترقی نہیں کرسکتی ہے۔ ہمیں ترقی کے لئے لڑکیوں کی شرح تعلیم میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں تعلیم نسواں کے لئے کئے گئے کام کی جھلک اُسی روز نظر آتی ہے ، جب کسی بھی کلاس کے نتائج سامنے آتے ہیں اور لڑکیاں ہر بار لڑکوں کو پیچھے چھوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ اور بیگم اکبر جہاں کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیری خواتین نے بین الاقوامی سطح پر تعلیم ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور کھیل کے شعبوں میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس ہی ہے جس نے کشمیری خواتین کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ تمام جمہوری اور بنیادی حقوق دلوائے۔