شیخ طارق جاوید ۔ تفریح کا بادشاہ فن اور فنکار

گلفام بارجی۔ہارون سرینگر

ایک زمانے میں سرینگر دور درشن کے کاشرچینل سے جو ڈرامے، سیریلز،ڈاکومنٹری اور میوزیکل پروگرام وغیرہ ٹیلی کاسٹ ہواکرتے تھے ، اُن پروگراموں میں کام کرنے والے فنکار وں میں سے کئی معروف اداکار آج بھی لوگوں کے دلوں میں گھر بنائے ہوئے ہیں، اگرچہ ان اداکاروں میں کئی معروف اداکار اب اس دنیا میں نہیں ،تاہم ان کی یاد آج بھی تازہ ہے۔یہ بات اس زمانے کی ہے جب دوردرشن کیندر سرینگر کاشرچینل سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے سیریلز میں ایک نام اُبھر کر سامنے آیا اور ناظرین کے دلوں پر راج کرنےلگا اور وہ نام ہے شیخ طارق جاوید۔
شیخ طارق جاوید ماہِ مئی سال 1954 کو سرینگر کے شہید گنج علاقہ میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم ڈی اے وی اسکول سے شروع کی ،بعد میں نیشنل ہائی اسکول میں داخلہ لیاپھر اعلیٰ تعلیم ایس پی کالج سے حاصل کی۔شیخ طارق جاوید شروع سے ہی آرٹ کے شعبے کی طرف مائل تھے اور انہیں بچپن سے ہی اداکاری کا جنون تھا۔سال 1969 میں پندرہ سال کی عمر میں ہی اسٹیج اور ریڈیو ڈراموں میں بطور اداکار کام کرنا شروع کیا۔ جب سال 1973 میں یہاں ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 26 جنوری 1973 کو دوردرشن کیندر سرینگر سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے پہلے شو میں پرفارم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور دوردرشن کیندر سرینگر سے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ سال 1979 میں شیخ طارق جاوید نے ممبئی فلم انڈسٹری کی طرف رُخ کیا اور چار سال کی جدوجہد کے دوران ممبئی دوردرشن کے کئی سیریلز کے علاوہ چند فلموں میں بھی بطور اداکار کام کیا۔ سال 1989 میں انہیں پرسار بھارتی براڈکاسٹنگ کارپوریشن آف انڈیا نے بحیثیت پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تسلیم کیا اور سال 1990 سے انہوں نے اپنے بینر آر آر پروڈکشنز کے تحت پچاس سے زائد پروڈکشنز مکمل کی اور ان پروڈکشنز میں مختلف زبانوں پر مشتمل پانچ سو سے زائد اقساط شامل ہیں۔ سال 1990 میں اپنی پہلی پروڈکشن میں شیر کشمیر مہجور پر ایک دستاویزی فلم تیار کی، جس کی عوام میں خوب پزیرائی ہوئی۔ اس فلم میں مہجور صاحب کی بہو نعیمیہ احمد مہجور ،فلم کے زاویوں میں سے ایک تھیں۔ 90 کی دھائی میں جب کشمیر کے حالات ابتر ہوئے اور دوردرشن کیندر سرینگر بند ہونے کے قریب تھا،تو انہوں نےاپنےبھرپور تعاون سے دوردرشن کیندر سرینگر کو بند ہونے سے بچایا اور رضاکارانہ طور پر اناؤنسر کے طور پر کام کیا۔ اُس وقت کے ریڈیو کشمیر اور آج کی آکاشوانی سرینگر سے نشر ہونے والا مقبول عام پروگرام ’’وادی کی آواز‘‘ کو جاری رکھا۔شیخ طارق کے کیرئیر کا ایک اور اہم حصہ ’’اکھ دلیل لولچ‘‘ہے M/s R.R پروڈکشنز اور دیگر دو پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ مل کر تیار کی گئی یہ پہلی مکمل طوالت کی ڈیجیٹل کشمیری فیچر فلم تھی،جو قریباً 39 برس کے بعد کشمیر میں بننے والی پہلی کشمیری فیچر فلم تھی ۔اس فلم کو میڈیا اور کشمیری عوام نے کافی سراہا اور ان کی اس کوشش کو ملک اور ملک کے باہر بھی پزیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے بذات خود اس فلم میں حصہ لیااور جاگیر دار سکندر کے طور پر مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے دیگر 68 اداکاروں کی قیادت کی۔ شیخ طارق جاوید کشمیر کے واحد وہ فلم ساز ہےجس سے ملک کے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے قومی نشریاتی ادارے راجہ سبھا ٹیلی ویژن 2012-2013 کے لئے انگریزی زبان میں ایک قومی دستاویزی فلم Living Heritage- Kashmir’s Architecture Through Ages کی تیاری اور ہدایت کاری کے لئے منتخب کیا۔انہوں نے یہ منصوبہ مئی 2013 میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ سال 2002-2003 میں شیخ طارق جاوید کو منفی کردار شاندار طریقے سے نبھانے کے لئے شاکر اور اسلم میموریل ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ انہیں ،اُس وقت کے ڈائریکٹر دوردرشن کیندر سرینگر اشرف ساحل نے پیش کیا۔اسی طرح این فلمز(جالندھر پنجاب) اور سلطان پروڈکشنز (پنجاب) نے ستمبر 2003 میں سرینگر میں منعقدہ ایک میگا ایونٹ پنجابی دھمکا کے دوران فن کے شعبے میںاُن کے کام کے اعتراف میں تعریفی ایوارڈ سے نوازاگیا۔اپریل 2008 کو فن کے شعبے میں بی کے مہجور فاونڈیشن اور اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے تعاون سے انہیں خلعت مہجور سے نوازا گیا ۔ اسی طرح انہیں فروری 2010 میں ابھینو تھیٹر جموں ،جولائی 2012 اور سال 2013 شیروانی ہال بارہمولہ میں، مارچ 2016 کلچرل اکیڈمی کے آڈیٹوریم ہال میں اور دیگر کئی شاندار سرکاری و غیر سرکاری تقریبات میںاعزازات سے نوازا گیا۔سال 1984 میںاُنہیںجے اینڈ کے دوردرشن اور ریڈیو ڈرامہ آرٹسٹ، رائٹرز اور فری لانس پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کے طور منتخب کیا گیا اور تب سے جب تک کامیابی کے ساتھ اس عہدے پر فائزہوکر اس انجمن کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔یہ انجمن کشمیر کی پہلی تسلیم شدہ آرٹسٹ یونین ہے۔ شیخ طارق جاوید سال 1969 سے آل انڈیا ریڈیو اور بالخصوص ریڈیو کشمیر سرینگر جس سے آج آکاشوانی سرینگر کے نام سے جاناجاتاہے کے لئے بطور ڈرامہ آرٹسٹ کام کررہاہے۔ انہوں نے آج تک آکاشوانی سرینگر کےذریعے کشمیری اور اردو زبانوں میں تیار کئے گئے ایک ہزار سے زائد ڈراموں اور سیریلز میں حصہ لیا جو بعد میں آل انڈیا ریڈیو کے مختلف اسٹیشنوں سے نشر کئے گئے۔ انہیں آکاشوانی سرینگر کے شہرت یافتہ پروگرام(زونہ ڈب) میں بھی کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اس کے علاوہ انہوں نے آکاشوانی سرینگر سے ہی پچاس قسطوں پر مشتمل سیریز ’’سندھ باد جہازی‘‘(الف لیلیٰ) میں بھی بطور ڈرامہ آرٹسٹ کام کیا ہے۔ اپنے 50 سالہ کیرئیر میں انہوںنے سال2013 تک دوردرشن کیندر سرینگر سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے ہزاروں ڈراموں اور سیریلز میں بطور اداکار کام کیا ہے۔شیخ طارق جاوید نے جہاں دوردرشن کیندر سرینگر کے لئے اداکاری کی، وہیں انہوں نے ہدایت کاری میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ان کے مقبول عام سیریلز میں انصاف، آخر کس چھو،مزاحیہ سیریل ’’کریم ننہ وؤر‘‘ ،’’پر ژھیون‘‘،’’گل اور بلبل‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوںنے سینکڑوں اقساط پر مشتمل میوزیکل پروگرام اور مختلف عنوانات کے تحت ڈاکومنٹریز بھی تیار کی اور ایک نجی پروڈکشن ہاؤس کے لئے ’’چلڈرن آف ٹوڈے‘‘کے عنوان سے پانچ انگریزی دستاویزی فلموں کی ہدایت کاری بھی انجام دی، انہیں وادی کےکئی مشہور اداکار اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں۔ الله تعالیٰ انہیں لمبی عمر عطا فرمائے۔
[email protected]