شیخ خاندان کی استحصالی سیاست ہی مصیبت کی جڑ:انجینئر رشید

 سرینگر// ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے کہاہے کہ پاکستا نی وزیر اعظم کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے عمر عبداللہ اپنے والد ڈاکٹرفاروق اور شیخ عبداللہ کی فحش اور تاریخی غلطیوں پر لب کشائی کرےں۔ کپوارہ میں مختلف وفود سے تبادلہ خیال کے دوران عوامی اتحادپارٹی کے سربراہ انجینئررشیدنے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ قیادت سے سوال کرنا اور خلوص کی بنیاد پر احتساب کا مطالبہ کرنا اگر چہ ہر شہری یا جماعت کا حق ہے لیکن جس طرح سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیدعلی گیلانی سے چند باتوں کی وضاحت مانگی ہے ایسا کرنے سے پہلے اُن پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے حوالے سے کشمیریوں کو دھووکہ دینے اور اُن کے جائز ارمانوں کا خون کرنے میں منافقانہ رول کے بارے میں کچھ سوالوں کو جواب دیں۔ انجینئر رشید نے کہا ”جہاں لوگ بشمول عمر عبداللہ سید علی گیلانی سے یہ پوچھنے کا بھر پور حق رکھتے ہیں کہ انہوں نے تب ہندوستانی آئین کے تحت انتخابات میں حصہ کیوں لیا جب نہ صرف لوگ ان انتخابات سے دور رہنا پسند کرتے تھے بلکہ رائے شماری کی تحریک بھی عروج پر تھی لیکن ایسا کرنے سے پہلے عمر عبداللہ کو بتانا چاہئے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ سارے کشمیری پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقا ن عباسی کے اُس بیان کی مذمت کریں جس میں انہوں نے خود مختار کشمیر کے قیام کو مسترد کیا تھا تو انہیں چاہئے کہ پہلے وہ خود آزاد جموں کشمیر کے نظرئیہ کی حمایت کا واضح اعلان کریں۔ یہ بات ہر ایک کو ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جہاں پاکستانی وزیر اعظم نے خود مختار کشمیر کے نظرئیہ کو صرف اس لئے مسترد کیا کیونکہ وہ کشمیر مسئلہ کے حوالے سے انتشاری کیفیت سے بچنا چاہتے ہیں وہاں ڈاکٹرفاروق نے خود مختار کشمیر کی نظرئیہ کی مخالفت اس لئے کی کیونکہ وہ ایسا کہہ کر مذید انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اٹانومی کی بحالی کا نعرہ دیکر مسئلہ کی اصل حیثیت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ عمرعبداللہ کو یہ با ت ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جموں کشمیر صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی وجہ سے ایک متنازعہ علاقہ ہے اور ان قراردادوں سے انحراف کشمیر مسئلہ کے وجود کو ہی ختم کر دیتا ہے ۔ پھر بھی اگر عمر عبداللہ ، گیلانی یا شاہد خاقان عباسی کی خود مختار کشمیر کے نظرئیہ کی مخالفت کرنے کی مذمت کرتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ پھر اپنے والد فاروق عبداللہ کی بھی بھر پور مذمت کرے جنہوں نے خود ختار کشمیر کے نظرئیہ کو یکسر مسترد کر دیا ۔ گیلانی کو تاریخ کے اوراق کا سبق یاد دلانا عمر عبداللہ کا حق ہے لیکن اگر وہ شیخ صاحب کی طرف سے رائے شماری کے نعرے کو کشمیریوں پر احسان سمجھ کر گیلانی کی سرزنش کرتے ہیں تو اُن پر لازمی ہے کہ وہ شیخ صاحب کی بھی اس بات کیلئے مذمت کریں رائے شماری کا نعرہ دیکر پہلے انہوں نے آزادی پسندوں کی حوصلہ شکنی کی اور پھر انہوں نے رائے شماری کے وعدے کو خود ہی تابوت میں دفن کیا ۔ عمرعبداللہ کو سمجھ لینا چاہئے کہ جہاں گیلانی یا کسی اور سے بھر پور سوالات مختلف اوقات پر پوچھے جائیں گے وہاں ان تمام مصیبتوں کی جڑ شیخ خاندان کی ہی استحصالی اور اقتداری سیاست ہے “۔ انجینئر رشید نے کہا کہ ہر کسی کشمیری قیادت کے دعویدار کو چاہئے کہ وہ سوالات کا انتخاب کرتے وقت اس بات کو مد نظر رکھیں کہ اس سے قوم کے اندر مذید تفرقہ نہ ہو اور اس کیلئے لازمی ہے کہ ہر چیز کیلئے صحیح وقت کا انتخاب کیا جائے اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو پہلی ترجیح بنا دیا جائے ۔