شیخ الشیخ ،عارف باللہ ،ولی کامل ،نُند ریش

کشمیر کو ہزاروں برس سے (پیر وار )یعنی ریشی، منیوں، اولیاا ور اللہ کے بر گزیدہ بندوں کی سر زمین سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سر زمین اللہ کے عظیم اور باکرامات بڑے بڑے اولیا اور ریشی منیوں کا مسکن رہی ہے اور بعد میں اسلامی دور میں ہزاروں باکمال سادات نے یہاں اپنی آرام گاہوں سے اس مٹی کو جو شرف عطا کیا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں اور اس طرح کشمیر نہ صرف دنیا کی حسین دلہن کے ماتھے کا جھومر ہے بلکہ یہاں ہزاروں با کمال سادات اور اللہ کے بر گزیدہ (نند) معنی بہت ہی خوبصورت اور حسین ریشی،باکمال صوفی چاند ستاروں کی مانند تاباں ہیں۔ کشمیر کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس سر زمیں کا وجود ہی ایک عظیم ریشی ،’’ کشپ‘‘ سے جڑا ہے ۔دراصل یہ ریشی بھی اپنے زمانے میں اللہ کا بر گذیدہ اور مقام اعلیٰ پر فائز ریشی رہا ہوگا ۔ یہاں بہت ہی مختصر طور اہل صفا کی تعبیر بھی ناگزیر ہوجاتی ہے تاکہ ریشیت اور صوفیت کا موازنہ اور مماثل نقاط کا بھی اندازہ ہوجائے ۔
 تصوف پر سینکڑوں کتابیں مہیا ہیں لیکن میں یہاں صرف سیدنا شیخ سید عبدالقادر جیلانی ؒکے نقاط پر اکتفا کروں گا۔آپ ؒحروف تصوف کی حقیقت یوں بیاں فرماتے ہیں:’’ صوفیائے کرام کا اہل تصوف کے نام سے موسوم ہونا ۔نور معرفت اور توحید کے ذریعے اپنے باطن کو جملۂ آلایشوں سے پاک صاف کرنا ہے ۔’ ت‘ سے مراد توبہ ، ظاہری اور باطنی ۔’ص‘ سے مراد صفائی قلب اور مقام سر کی۔’و‘ سے مراد ولایت ہے، یہ مقام صفائی نفس کے بعد حاصل ہوتا ہے ۔’ف‘ سے مراد فنا فی اللہ ہے، جب صفات بشریت ختم ہوجاتی ہیں تو صفات باری موجود رہتی ہیں ۔ چونکہ ذات باری غیر فانی ہے، اس لئے عبد فانی کو بھی باقی باللہ کا مرتبہ حاصل ہوجاتا ہے۔سید عبدالقادر کے نزدیک تصوف کے چار حروف ، سلوک، شریعت ، طریقت و حقیقت کی ساری منزلیں ، ان کے سارے آداب ان چار حروف سے ہی ماخوذ ہیں۔لیکن اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ شریعت اور طریقت کوئی الگ الگ علوم نہیں۔
 امام ابو القاسم التشتری ؒ فرماتے ہیں کہ’’ جس شریعت کو حقیقت کی مدد حاصل نہ ہو وہ غیر مقبول اور جو حقیقت شریعت سے مقید نہ ہو، وہ غیر حاصل رہتی ہے ‘‘۔ سائنس داں اپنی تجربہ گاہ میں نئے نئے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر خاص نتیجوں پر پہنچ کر دنیا سے انہیں تسلیم کرالیتے ہیں بالکل اس طرح کا نظام اسلام میں موجود ہے جو عقیدہ اور ایمانیات کے محسوس نتائج کو سامنے لاتا ہے اور یہی نظام روحانی تجربات اور مشاہدات پر مبنی تصوف ہے اور اس علم کے سائنس داں صوفیائے عظام کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ان مختصر تشریحات کا بغور جائزہ لینے سے کئی نہیں بلکہ سارے نقاط میں ریشیت اور صوفیت ایک ہی آماجگاہ سے پھوٹے ہوئے چشمے لگتے ہیں ، اور ان کے جوہر میں کوئی خاص فرق نہیں۔اسی لئے بہت سارے نقطہ داں سمجھتے ہیں کہ ریشیت بھی صوفیت کی ایک شاخ ہے اور جس طرح صوفی ایک خاص طرح کی زندگی گذارتے ہیں، اسی طرح ریشیت بھی ایک جداگانہ طرز زندگی ہے۔
 ریشی سنسکرت زباں کا لفظ ہے، جس کے معنی (پاک دعائیہ نعت یا نظم گانے والا ) ہوتا ہے۔ صوفی کی طرح ریشی کا تصور بھی اس مرد کامل کی طرح کا ہے، جس کی باطنی آنکھ ظاہری دیواروں کو پھاند کر مادی دنیا سے پرے اسرار حق سے واقف ہوچکی ہوں ۔ شاید یوں کہنا زیادہ آساں ہوگا کہ ریشی بھی ماورائے زماں و مکاں ہوتا ہے اور جس طرح اصل صوفی زماں و مکاں کی قید سے آزاد ہوتا ہے، اسی طرح ریشی بھی ان منازل سے بھی آگے ہوتا ہے ۔ زمانہ وسطیٰ میں بھی ریشی ایسے شخص کو کہتے تھے جو پرہیز گار ہو متقی ، تارک الدنیا اور جس کی قلبی نگاہیں وا ہوچکی ہوں۔یہ کشف و کرامات میں کامل سمجھے جاتے ہیں ،ان کی اقسام یوں تھیں:  دیو ریشی ، برھم ریشی ، راج ریشی ،مہارشی ، پریرشی ، شروتہ رشی،اور ساتویں کند ریشی ۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ سات کے ہندسے کو علم الاعداد میں بھی ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ سات ہی سروں اور سوراخوں ،سات ہی سمندروں اور سات ہی بر اعظموں، سات ہی آسمانوں کی بات میں ریشی بھی سات۔ صوفیوں کی دنیا میں مقامات یا منازل بھی سات ،شب و روز بھی سات ۔ایک عرصے تک کشمیر بدھ مت کا گہوارہ رہا ہے، تبت ، چین ، جاپان ، منگولیا ، اور وسط ایشیاء کے بہت سارے علاقوں میں بدھ دھرم کا پرچارکشمیر سے ہی ہوکر گذرتا تھا ، اس لئے  بدھ مت کا اثر بھی لازمی طور پر یہاں نمایاں رہا ہوگا۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریشیت زندگی سے فرار ہے اور شاید یہ تاثر جین مت اور بدھ مت سے ہی پیدا ہوا ہے۔ لیکن بغور جائزہ لینے سے یہ بات درست نہیں لگتی۔ریشیوں کا سماج میں بہت بلند مقام تھا ،( اتھر وید ) کا نام بھی  (اتھروں ریشی) کے نام پر ہے اور بھگوت گیتا بھی ویاس ریشی کی قلمی کاوش کا نتیجہ ہے۔رگ وید کا زمانہ ۱۵۰۰  ق م ۔۔۔ اور ۲۵۰۰  کے درمیان خیال کیا جاتا ہے۔اس کتاب میں بھی رشیوں کا تذکرہ یوں ہے :’’ میں ہی کاک شیوتھ ریشی ہوں ، مقدس نغموں کو سر گم بخشنے والا ، میں نے ہی کت سا کو گلے لگایا ،مجھے دیکھو میں کوی اوشان ہوں ‘‘۔رگ وید:اس سے مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کشمیر میں ریشیت کا ایک سلسلہ ارتقا پذیر تھا ، کشمیر کے شیو درشن نے بودھوں کی کئی فکری دلائل کو اپنا کر بھی ان کے جس بنیادی روئے کی شدید مخالفت کی تھی ،وہ وجود مطلق سے بودھوں کی بے نیازی تھی (ڈاکٹر سیار محمد)، مختصر سے اس خاکے سے ریشیت کا تصور دینا تھا نہیں تو ریشیت اور صوفیت پر بہت سارا اعلیٰ پائے کا لٹریچر مارکیٹ میں موجود ہے۔
کشمیر میں  اسلامی ریشیت کا تعین خود علمدار نے کیا ،جس سے ہم حتمی اور کشمیر کے پسِ منظر میں حروف آخر سمجھتے ہیں ( پہلا ریشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، جن کا آسمانی نام احمد ہے۔ دوسرا ریشی حضرت اویس کرنیؒ ہیں ، پھر ذلک ریشی ، پلاس ریشی ،اور اس کے بعد رُمہ ریشی پانچویں ریشی گذرے ہیں، پھر چھٹے کا نام (میراں ریشی ؟’’ نند‘‘ اپنے آپ کو ساتواں ریشی بتاتے ہیں اور اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں کون سا ریشی ہوں اور میرا نام کیا ہے ؟ ، ( ترجمہ کلام شیخؒ )، حضرت شیخ نو رالدین نورانی (نُند ریش)کا سلسلہ بقول عشرت کاشمیری راجہ کاہن پال ، راجہ بکرما جیت کے خاندان کی پانچویں پشت سے ملتا ہے۔
یہ اوجین سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ امرناتھ یاترا کے لئے براستہ کشتواڑآرہے تھے کہ ٹھاٹھری سے آگے کاندنی پہنچا تو یہاں کی خوبصورتی من کو بھا گئی اور بسیرا کر لیا۔جلد ہی آس پاس اپنے گرد و نواح کے علاقوں پر حکومت کرنے کا شوق پیدا ہوا ، پھر کشتواڑاور آس پاس تک اپنی حکومت قائم کی۔یہ حکومت سینکڑوں سال ان کے اولادوں میں قائم رہی۔ کچھ وجوہات کی بنا ا ن کی اولادیں کشمیر منتقل ہوئیں ، سلر سنز انہی راجگان سے تھا جو بے بسی اور بے کسی کی حالت میں بجبہاڑہ یاسمن ریشی کی خدمت میں پہنچ جاتا ہے ، جہاں اس سے ریشیوں کی گائیں چرانے اور گھاس کھلانے کا کام سونپا جاتا ہے ۔
یہاں ان کی دنیا ہی بدل گئی، یاسمن ریشی اور حضرت سید حسین سمنانیؒ کی ملاقاتوں کا تذکرہ کئی مورخوں نے کیا ہے ،ایک د ن صدرہ ماجی کا سر پرست کھی جوگی پورہ کا چوکیدار ان دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور ان سے صدرہ ماجی کے حال احوال سنائے تو مجلس میں یاسمن ریشی نے فرمایا کہ میں اس کی شادی اسی لڑکی کے خاندان کے ایک لڑکے سے کروں گا۔ قرین قیاس ہے کہ اسی وقت اسی محفل میں سلر سنز نے کلمۂ شہادت پڑھا ہوگا ۔راجا اوگر دیو جب کشتواڑ سے بھاگا تھا تو اسی خاندان کے کچھ افراد دور کوٹ تحصیل کولگام میں آکر رہنے لگے تھے ،کچھ وقت کے بعد کسی وبائی مرض سے اس خاندن کے سارے افرادمر گئے لیکن ایک راجہ ان میں سے گاؤں کھی جوگی پور ہ میں رہنے لگا ، یہاں اس راجہ کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی ، تین چار برسوں کے اندر ہی اس لڑکی کے سارے وارث اور رشتے دار مرگئے اور اس لئے لڑکی کو گاؤں کے چوکیدار کے سپرد کیا گیا ،یہی وہ لڑکی تھی جس سے صدرہ ماجی کہا جاتا ہے ،جس کے رشتے کی بات حضرت حسین سمنانی ؒاور یاسمن ریشی نے سلر سنز کے ساتھ طے کی اور حضرت سمنانیؒ نے ہی ان کا نکاح پڑھا ۔
ایک روایت ہے کہ اس نکاح میں ، حضرت سید علی ہمدانیؒ بھی بکشف شامل ہوئے۔سلر سنز جو ایک زمانے میں راجہ زادہ تھا ، مویشی چرانے پر مجبور ہوتا ہے اور شہزادی ، صدرہ ماجی بھی سارے زمانے میں اکیلی ایک چوکیدار کے ہاں پرورش پاتی ہے ، یہ کیسے کھیل ہیں جنہیں ہم نہیں سمجھتے اور ان دونوں کا ملن دیکھئے کس پائے کے لوگ انجام دیتے ہیں ۔اس طرح شیخ نو رالدین ولی نجیف الطرفین ہیں ۔ صدرہ جس گھر میں پلی بڑی، اُسی گھر میں سلر ، اسلا می نام سالار الدین کو بھی رہنا پڑا اور یہ گاؤں کھی جوگی پورہ ہے ،نہ کہ کیموہ، جہاں حضرت شیخ پیدا ہوئے۔ (یہ معلومات تاریخ حسن کھوئہامی ، ، فوق ، عشرت کاشمیری ، کشمیر میں تصوف ریشیت کے تناظر میں اور بزرگان کشمیر) پر مبنی ہیں۔
�����