شیخ الحدیث شیخ مولانا شیخ محمد یونس صاحب جونپوریؒ

بر صغیر ہندوپاک میں ایسے ایسے علماء ومشائخ پیدا ہوئے ہیں کہ جن کی اخلاص مندی، تبحر علمی، جذبہ ٔ  قربانی، تقویٰ شعاری اورخشیت الہیٰ کے حالات خود ان کے عہد اور بعد میں آنے والے زمانوں میں بندگانِ خدا کی رہنمائی کے لئے مثال بنی ہوئی ہے ۔ خادمان ِدین کے کہکشانی سلسلہ کی اہم کڑی اور جماعۃ العلماء والصلحاء کے سرتاج حضرت اقدس مولانا شیخ محمد یونس جونپوری علیہ الرحمہ، شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور چندر وز قبل اپنے بے شمار معتقدین کو اشک بار چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ علم الحدیث کے بلند ستارے محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ کی صحیح البخاری کے ساتھ تازیست شیخ محمد یونس صاحب جونپوری علیہ الرحمہ کوخاص شغف اور تعلق خاطر رہا۔ بنابریں آپ کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ آپ نے ایک لفظ کی تلاش میں امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی مسند احمد کو چار بار پڑھا تھا ۔احمد بن حملؒ کا فرمان ہے کہ نابغہ روزگار شخصیات کی مقبولیت کا اندازہ ان کے جنازوں سے ہوتا ہے۔امام احمد بن حنبلؒ کے اس فرمان کا انطباق حضرت اقدس شیخ محمد یونس جونپوری علیہ الرحمہ کے جنازے پر ہوتا ہے ،جب ان کا تابوت اٹھا تو دنیانے دیکھا کہ علماء ومشائخ کی کیا قابل ِرشک قدر ومنزلت ہوتی ہے بلکہ حضرت شیخ کے جنازے کے مناظر اس شعر کے عکاس معلوم ہوئے  ؎
زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تاروں سے بھی تیرا سفر
 حضرت شیخ محمد یونس جونپوری علیہ الرحمہ تحصیل علم کے لئے جب سہارنپور آئے تو آپ کی صحت خراب ہوگئی، آپ کے اساتذہ کرام نے یہ مشورہ دیا کہ آپ گھر چلے جائیں اور حضرت اقدس شیخ زکریا کاندھلوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ پھر پرا رہ یہیں‘‘ لیکن آپ نے اس جملے پر ایسا عمل کیا کہ ساری زندگی مظاہر علوم سہارنپور میں بخاری شریف پڑھاتے ہوئے ہی گزادی بلکہ جنازہ بھی یہیں سے اٹھا۔حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی علیہ الرحمہ کا دعائیہ خط جو انہوں نے اپنے شاگرد رشید حضرت شیخ یونس علیہ الرحمہ کودیا تھا اور چالیس سال بعد اسے دیکھنے کو فرمایا تھا، اس میں موصوف لکھتے ہیں :’’ ابھی کم سن ہیں، وہ کیا عشق کی باتیں جانیں ،عرض حال دل بے تاب کا شکوہ جانیں ،ابھی تدریس دورہ کا پہلا سال ہے اور اس سیاہ کارکاتدریس دورہ کا اکتا لیسواں سال ہے اور تدریس حدیث کا سنتالیسواں سال ہے، اللہ پاک تمہاری عمر میں برکت دے او رمبارک مشغلوں میں تادیر رکھے، جب سنتالیس پر پہنچ جاؤ گے تو ان شاء اللہ مجھ سے آگے ہوگے ۔اس پرچہ کو نہایت احتیاط سے کسی کتاب میں رکھیں، چالیس سال بعد پڑھیں‘‘ ۔یہ حضرت شیخ زکریاؒ کی روحانی توجہات کا اثر تھا کہ آپ کے شاگرد رشید خلیفہ اجل اور آپ کے علمی جانشین نے عالم اسلام کی ایک مایہ ناز علمی دینی اور روحانی درسگاہ مظاہر علوم سہارنپور میں نصف صدی بخاری شریف کا درس دیا۔ حضرت شیخ محمد یونس جونپوری علیہ الرحمہ کے تعلق سے یہ ایک بات یادداشت میں ہمیشہ محفوظ رہے گی، وہ یہ کہ ایک بار دارالعلوم مظہر سعادت گجرات میں دوران ِ طالب علمی حضرت شیخ کا دیدار نصیب ہوا ۔ اس موقعہ پر اُم المدارس دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب علیہ الرحمہ بھی تشریف لائے تھے، بالکل نحیف تھے اور کھڑے کھڑے دعا فرمائی تھی۔ پورا سال ہم نے جامعہ میں گزارا لیکن ایک بار بھی استاذ گرامی قدر مفتی عبد اللہ صاحب مظاہری بانی ومہتمم جامعہ ہذا کا کسی اسٹیج سے بیان سننے کو نہ ملا جس کی حسرت اب بھی باقی ہے۔ خیر اس موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا عبد اللہ صاحب پودروی مدظلہ کو نصائح عالیہ کے لئے حضرت مفتی صاحب مدظلہ نے دعوت دی ،بس وہی چند الفاظ پہلی بار اسٹیج سے ہم نے سنیں ، پھر چند منٹ بعد حضرت شیخ یونس صاحب علیہ الرحمہ تشریف لے آئے اور درس جاری ہوگیا ، جامعہ میں عربی کا اس وقت جو بڑا درجہ تھا حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے اس کی کسی کتاب کاآخری درس دیا ، ہم تو بہت چھوٹے تھے، درس کا آخری جملہ جو انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا تھا وہ ذہن میں آج تک تازہ ہے فرمایا :یہ ہیں ’’بڈھے کی باتیں‘‘۔ اس پر ہم چھوٹے بچے ہنس پڑے تھے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل درالعلوم دیوبند کے شیخ ثانی شیخ عبد الحق صاحب علیہ الرحمہ ہمیں چھوڑ کر دارالبقاء کی طرف روانہ ہوگئے، ان کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ ان کے بعد ترانہ دارالعلوم دیوبند کے تخلیق کار اور محدث عرصہ حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری علیہ الرحمہ کا بھی وصال ہوگیا اور اب حضرت شیخ محمد یونس جونپوری علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری ۔عالم اسلام کی اس ممتاز شخصیت اور محدث جلیل کی رحلت پر ایک عالم رنجیدہ وسوگوار ہے ۔حضرت شیخ علیہ الرحمہ کا و صال ابدی فرمودہ ٔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق ’’موت العالم موت العالم‘‘ یعنی عالم کی موت عالم کی موت ہے۔حضرت شیخ کی وفات ایک عظیم سانحہ ہے جس کو اطراف عالم میں پھیلے ہوئے حضرت اقدس کے تلامذہ، احباب، اربابِ مدارس اور ہر ہر فرد نے چھلکتی آنکھوں اور غم زدہ دل سے محسوس کیا۔ ہمارے مادر علمی جامعہ ضیاء العلوم میں بھی تلامذہ اور اساتذہ اس سانحہ ٔ ارتحال پر غم زدہ ودل ملول ہوئے اور حال یہ ہوا    ؎
ویران ہے میکدہ خم وساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
عالم اسلام کی اس مایہ ناز شخصیت کے لئے رب ذوالمنن کے حضور ہم دست بدعا ہیں کہ خدائے جود وکریم درجات بلند فرمائے پوری امت کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین
رابطہ نمبر 7298788620
ای میل[email protected]