شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کے دعوئوں کے بیچ سڑکیں اور گلی کوچے پانی پانی

سرینگر //سرینگر شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کے دعوئوں کے بیچ جمعرات کو انتظامیہ کی پول اُس وقت دوبارہ کھل گئی جب تین گھنٹوںکی بارش سے شہر کی سڑکیں اور کے گلے کوچے دریائوں کا منظر پیش کرنے لگے ۔ جمعرات کی صبح 6بجے کے بعد سے وادی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہواجو قریب تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے نتیجے میں اگرچہ اہل وادی نے راحت کی سانس لی تاہم اس وقت انہیں اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔بارش کے ساتھ ہی شہر سرینگر کے متعدد علاقے زیر آب آگئے اور لوگوں کو آمد ورفت کے دوران چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر سرینگر میں 36ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور یہ سلسلہ تین گھنٹوں تک چلتا رہا ۔شہر کے قلب میں واقعہ لالچوک کے گونی کھن ، جہانگیر چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، سرائے بالا،مہاراجہ بازار،شہید گنج، امیرکدل، کوکر بازار، کورٹ روڑ، جنگلات گلی، آبی گذر، پولو ویو، ریگل چوک، ڈلگیٹ، منور آباد، بربرشاہ، سولنہ، رام باغ، نٹی پورہ، چھانہ پورہ، باغات، برزلہ، پرے پورہ، راولپورہ، بمنہ، بٹہ مالو، ایس ڈی کالونی، ریکہ چوک ، کرن نگر، کاکہ سرائے، فردوس آباد، خمینی چوک،ایچ ایم ٹی ، شال ٹینگ ، جواہر نگر ، راجباغ ، کرسو راجباغ ، ایچ ایم ٹی، کرالپورہ سمیت درجنوں علاقوں میں بارشوں کا پانی سڑکوں پر جمع ہوا جو بعد میں رہائشی مکانات کیساتھ ساتھ تجارتی اداروں میں بھی داخل ہوا ۔کئی مقاماتپر بازاروں میں بارشوں کا پانی جمع ہونے کے نتیجے میں یہاں 2014کی سیلابی صورتحال کے مناظردیکھنے کو ملے ۔لوگوں نے انتظامیہ پر الزم عاید کیا ہے کہ ایک طرف شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کادعویٰ کیا جارہا ہے وہیں دوسری جانب معمولی بارش سے نپٹنے کیلئے سرکار کے پاس کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے ۔لوگوں نے کہا کہ سال2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد ڈرنیج سسٹم کو تعمیر کرنے کے دعویٰ صرف کاغذات تک ہی محدود رہے ہیںاور زمینی حقائق کچھ اور ہی بیان کر رہے ہیں ۔جمعرات کو دن بھر لوگوں کو عبورومرار میں مشکلات اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی نکاسی کیلئے بھی کوئی اقدمات نہیں کئے گئے۔ ۔شہری آبادی کا کہنا ہے کہ شہر سرینگر میں ابھی بھی لگ بھگ 40فیصد آبای ایسی ہے جہاں پر ڈرنیج کا کوئی بھی نظام نہیں ہے اور معمولی بارش بھی سیلاب کا موجب بن جاتی ہے ۔معلوم رہے کہ انتظامیہ اور مونسپل حکام آئے روز شہری ترقی کے دعویٰ کرتے ہیں اس سلسلے میں پلان مرتب کئے جاتے ہیں لیکن ہر بار کی طرح 2019میں بھی انتظامیہ کے ان دعوئوں کی پول کھل گئی ہے ۔