شہر میں ٹریفک جام کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری

 سرینگر//شہر سرینگر میںغیر معمولی ٹریفک جامنگ کے سلسلے نے جہاں ایک جانب عوام کو مصیبتوں کا شکار بنایا ہے وہیں اس صورتحال سے محکمہ ٹریفک کے ان دعوئوں کی پول کھل گئی ہے جن کے مطابق محکمہ ٹریفک نظام میں بہتری کیلئے اقدامات کررہاہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ نہ صرف سول لائنز بلکہ شہر کے دیگر علاقوںاور بائی پاس پر بدترین ٹریفک جامنگ اب ایک معمول بن گیا ہے۔ کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل وحمل بند رہنے کی وجہ سے ہر روزسینکڑوں لوگوں کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہے۔سرینگر کے مختلف روٹوں پر ہر دن ٹریفک جام دیکھنے کو مل رہا ہے اور ٹریفک نظام کو درست کرنے کیلئے اگر چہ مختلف جگہوں پر ٹریفک عملہ تعینات کیا گیا ہے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ٹریفک جام انہی مقامات پر سب سے زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں پر ہر وقت ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ بٹہ مالو ، جہانگیر چوک، ڈلگیٹ، ریذیڈنسی روڈ اور دیگر علاقوںکے ساتھ ساتھ بائی پاس پر ٹریفک جام کی وجہ سے ملازمین اور طلباء وقت پر اپنے منزل تک پہنچنے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ بائی پاس پربمنہ ،صنعت نگر اور نوگام میں بھی نا قابل برداشت ٹریفک جام دیکھنے کو ملتا ہے ۔جس کی وجہ سے مسافروں کو ہر روز انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہے۔کئی مسافروں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ بائی پاس پر ناقص ٹریفک نظام کی وجہ سے یہاں آئے روزہزاروں لوگ ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں اور ان کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر سرینگر میں ٹریفک حکام میٹا ڈاروں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کیلئے مخصوص سٹاپ قائم کرنے میں نا کام ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسافربردار گاڑیاں سڑک کے کسی بھی جگہ گاڑی کھڑا کر دیتے ہیں اور کافی دیر تک سڑک کے بیچوں بیچ رہ کر سواریوں کو اتارنے اورسوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔علی محمد نامی ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ’’ ہر مہینے میں ٹرانسپورٹروں اور ٹریفک حکام کے درمیان میٹنگیں طلب کی جاتی ہیں لیکن حیرت کا مقام یہ ہے کہ ان میٹنگوں میں اصل صورتحال پر تبادلہ خیال نہیں ہوتا ہے اور ان میٹنگوں میں بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن بعد میں اس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے‘‘۔نثار احمد نامی میٹا دار ڈرائیور نے بتایا کہ ’’ سڑکوں کے دونوں اطراف ریڈی بانوں کارش ہوتا ہے اوروہ لوگوں کے لیے پیدل چلنے کی جگہ بھی نہیں چھوڑ تے ہیںجس کی وجہ سے ہمیں کوفت اٹھانا پڑتی ہے ‘‘۔ ایک طرف اگر چہ ٹریفک پولیس کی کوتاہیوں کو دیکھا جارہاہے وہیں دوسری جانب ٹرانسپورٹروں کی من مانیوں سے بھی ٹریفک نظام درہم برہم ہو کے رہ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہرمیں ٹریفک جام میں تشویش ناک اضافہ سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے۔