شہر میں بھکاریوں پر پابندی عائد، دیکھتے ہی پکڑنے کا حکم

سرینگر// حکومت نے سرینگر میں عوامی  اور مذہبی مقامات پر گداگری پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمان جاری کیا۔حکم نامہ میں کہا گیا کہ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ شام دیر گئے سرینگر کی سڑکوں پر گداگروں کی کثرت ہوتی ہے،جو عام لوگوں کیلئے بڑے پیمانے پر پریشانیوں کو موجب بنتا ہے۔ وادی میں موسم بہار کے آغاز سے ہی غیر ریاستی گدا گروں کی فوج بھی دراندازی کرتے ہوئے کشمیر کی حسین وادیوں میں پہچ جاتے ہے،تاہم یہ سیاحوں کی مانند کشمیر کی خوبصورت وادیوں کا نظارہ کرنے نہیں بلکہ گدا گری کا پیشہ کرنے کیلئے وارد ہوتے ہیں۔ماہ رمضان میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا ہے،اور ہر گلی،نکڑ سڑک اور مسجد کے باہر ان کا تانتا بندھا رہتا ہے،جو نہ صرف عام لوگوں بلکہ نمازیوں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ غیر ریاستی گدا گروں کی تعداد میں گزشتہ کئی برسوں سے مسلل اضافہ ہوو رہا ہے،اور انتظامیہ انہیں روکنے اور ان پر قدغن لگانے میں ناکام ہو رہی ہے۔سماجی میڈیا پر متحرک شہریوں نے اس کے خلاف ایک مہم بھی شروع کی،جبکہ فہد منظور،توبہ امین اور تابش حبیب کے علاوہ حانیہ خان نے با ضابطہ طور پر ایک مہم بھی چلائی، جس کے بعد حکومے نے بھی سخت فیصلہ لیتے ہوئے سرینگر  میں مذہبی اور عوامی مقامات پر گداگری پر پابندی عائد کی۔اس سلسلے میں بدھ کو ضلع ترقیاقتی کمشنر سرینگر سید عابد رشید شاہ نے  ایک حکم نامہ بھی جاری کیا،جس میں جموں کشمیر سے منسلک’’ انسداد گداگری  قانون‘‘1960 کے تحت فرمان جاری کیا گیا۔حکم نامہ میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق گداگری ایک جرم ہے،اور’’یہ لازمی ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکبین سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی گرمائی دارالحکومت ہونے کے ناطے سرینگر کو جموں کشمیر میں سماجیوا قتصادی طور پر ایک اہمیت حاصل ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کی طرف سے جاری آر ڑر میں کہا گیا’’ ریاست کی دارالحکومت  ہونے ناطے سرینگر میں کثیر آبادی ہے،اور یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ضلع کو مزید شہری دوست،اور عوام کو پریشانیوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے تمام اقدمات اٹھائے جائے۔مزید اہم سیاحتی مقام ہونے کے ناطے یہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا مسکن بھی ہے‘‘۔حکم نامہ میں کہا گیا کہ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ شام دیر گئے سرینگر کی سڑکوں پر گداگروں کی کثرت ہوتی ہے،جو عام لوگوں کیلئے بڑے پیمانے پر پریشانیوں کو موجب بنتا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے5نقاط پر مشمل حکم نامہ میں کہا ہے کہ عوامی مقامات،مساجد کے اندر اور باہر،مندروں یا دیگر عوامی مذۃبی مقامات کے اندر یا باہر کسی قسم کی گدا گری پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ حکم نامہ میں کسی بھی نجی رہائش گاہ میں گدا گری کیلئے داخل ہونے،حسول خیرات کیلئے کسی بھی قسم اشیاء کی نمائش اور دکھاوئے،اختراتی یا بیماری کو دکھانے،چاہے انسانی یا جانور کی ہو ،پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ گدا گروں کو الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں منسلک’’ انسداد گداگری قانون‘‘1960 دفعہr/w4کرئمنل پروسیجر کوڈSvt 1989 کی دفعہ61کے تحت انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ ایس ایس پی سرینگر اور بڈگام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان احکامات کو سختی کے ساتھ نفاذ عمل میں لائے،اور اس حوالے سے گرفتار شدہ افراد کی تعداد سے متعلق روزانہ مطلع کریں۔