شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد سے آبادی سخت پریشان

 سرینگر// شہر میں ٹولیوں کی صورت میں دھندناتے پھررہے آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے اور نس بندی کرنے کے سرکاری دعویٰ سراب ثابت ہورہے ہیںاور شہروں اور قصبوں میں آوارہ کتوں کی تعداد بھی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے ۔شہر میں کتوں کی بڑھتی آبادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں اتوار کو مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر سڑکیں سنسان تھیں وہیں شہر کی گلی، کوچوں اور نکڑوں پر رات کی طرح دن میں بھی آوارہ کتوں کا راج رہا۔شہر میں ایسی کوئی بھی گلی نکڑ نہیں جہاں کتوں کے کھول موجودنہ ہوںجس کے سبب لوگوں اور خاص کر خواتین اور بچوں کو گھروں سے باہر آنے میں ڈر محسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ کشمیر میں انسان کی کوئی قیمت نہیں بلکہ جانورو ں کی قیمت ہے کیونکہ ان کو مارنے پر پابندی ہے۔ محکمہ مونسپلٹی اگرچہ یہ ہیلے بہانے کر رہی ہے کہ گھروں ، ہوٹلوںاور دفاتر سے نکلنے والے ٹھوس فضلہ کو کھلے میں پھینکنے سے کتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے وہیں متعلقہ محکمہ کتوں کو ٹھکانے لگانے میں ناکام ہے۔ کئی برس قبل محکمہ نے اس حوالے سے کتوں کی نس بندی کیلئے آپریشن تھیٹر بنانے کا بھی منصوبہ بنایا تھا لیکن یہ منصوبہ ناکام ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ۔کئی برس قبل حقوق حیوانات کے قانون کے تحت آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کی گئی اور اس کے بعد ایک قانون بنایا گیا کہ کتوں کو مارنے کے بجائے اُن کی نس بندی کی جائے اور تب سے اب تک کتوں کے مارنے پر پابندی ہے۔شہر میں اب ہر گلی کوچے اور نکڑ پر کتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جس نے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل کر دیا ہے ۔کرسو راجباغ کے بنڈ پر اس قدر کتوں کی تعداد ہوتی ہے اُن کو دیکھ کر خوف آتا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار میونسپل حکام سے مطالبہ کیا کہ اُن کو ٹھکانے لگانے کیلئے اقدمات کریں لیکن اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے ۔لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہر سے کتوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے اقدمات کئے جائیں تاکہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کو روکا جا سکے۔