شہر میں آئے روز ٹریفک کا بگڑتا ہوا حلیہ

 سرینگر //شہر سرینگر میں آئے روز ٹریفک جام نے اب عذاب کی شکل اختیار کر کے شہریوں کو پریشان کردیا ہے۔شہر کی معروف ترین سڑکوں پر ہر دوسرے تیسرے دن یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں میلوں تک لگی رہتی ہیںجس کی وجہ سے ان گاڑیوں میں سوار برزگ ،خواتین بچے ومریض انتہائی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جبکہ مریضوں کو ہسپتالوں تک لے جانے والی ایمبولنس گاڑیاں بھی سائرن بجا بجا کر اپنے لئے راستہ تلاش کرتی ہیں لیکن دور دور تک گاڑیوں کے بے ہنگم ہجوم میں اسے بھی راستہ نہیں ملتا۔ شہر میں بے ہنگم ٹریفک جام لوگوں کیلئے انتہائی پریشانی کا بحث بن رہا ہے اور ٹریفک کے ان مسائل کے حل کیلئے حکومتی سطح پر کوئی منصوبہ سازی نظر نہیں آتی۔سوموار کو جہانگیر چوک سے لیکر بٹہ مالو تک قریب 1گھنٹے تک ٹریفک جام لگا رہا جس نے نہ صرف مسافروں بلکہ ایمبولنس گاڑیوں میں سوار مریضوں کو بھی ذہنی کوفت کا سامنا کر نا پڑالیکن ٹریفک نظام کو درست کرنے کیلئے محکمہ کا عملہ صرف تماشاہی بنا ہوا تھا ۔سیول سکریٹریٹ کے باہر ایک گھٹے تک نہ صرف مسافر گاڑیوں بلکہ نجی گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی رہیں اور ڈرائیوروں اپنے ناخن چباتے ہوئے دیکھے گئے ۔ ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ پتا نہیں کس گناہ کی سزا مل رہی ہے ۔کئی ایک مسافروں نے اگرچہ از خود گاڑیوں سے اُتر کر ٹریفک کو درست کرنے کی کوشش کی مگر بے ہنگم ٹریفک جام کے سامنے یہ مسافر بھی بے بس نظر آئے ۔مسافروں کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کو جام سے نجات دلانے کیلئے عملہ کہیں دکھائی نہیں دیتا مگر افسوس جب کسی بڑے افسر کی آمد ورفت ہوتی ہے تو پورا عملہ الاٹ ہو جاتا ہے اور یہ بھی ٹریفک جام ایک بڑی وجہ بن جاتی ہے ۔مسافروں کا کہنا تھا کہ نئے آئی جی پی ٹریفک بسنت رتھ کے آنے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے گا لیکن اب اگر شہر میں ٹریفک کی حالت دیکھی جائے تو کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرتا جب شہر میں ٹریفک جام نہ ہو ۔شہر کے ٹینگ پورہ ، بٹہ مالو ، کرانگر ، ریذیڈنسی روڑ ، جہانگیر چوک ،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ ، ٹی آر سی ، ڈلگیٹ ، سونہ وار اور زیرو برج ایسے علاقے ہیں جہاں صبح اور شام بھاری ٹریفک جام لگ جاتا ہے ۔ محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ لوگوں کو خود میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور صبر سے چلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے اور جلدی گھر پہنچنے کی خاطر یہ لوگ یہاں کی تنگ سڑکوں پر چار لائنوں میں گاڑیاں چلاتے ہیں جس سے جام لگ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹریفک کے اہلکار ٹریفک جام پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دن میں سینکڑوںچالان کئے جاتے ہیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔