شہر سرینگر…….غلیظ شہرہونے کا تازہ کلنک!

 جموںوکشمیر جہاں سیاسی اور سیاحتی اعتبار سے عام طور پر عالمی سطح پر موضوع بحث رہتا ہے وہیں اب یہ ریاست ماحولیاتی تباہی کے زمرے میں بھی نئے عنوان کے ساتھ سامنے آیاہے۔ غالباً یہ کہنا غلط نہ ہوگا ریاست کے گرمائی دارالحکومت شہر سرینگر کو دنیا کے پندرہ غلیظ ترین شہروں کی فہرست میں10واں مقام ملنا ہمارے حکام اور سماج کےلئے ایک ایسا ’’اعزاز‘‘ ہے جس کے بوجھ سے انکی گردنیں اگر جھک جائیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ کبھی اپنے صاف و شفاف اور تازگی بخش ماحول کےلئے دنیا بھر میں مشہور اس وادی کا مرکزی شہر ، جو دنیا کے کونے کونے سے سیاحوں اور فطرت کے دلدادگان کو کھینچ کھینچ کر یہاں لاتا رہا ہے، آج غلیظ ترین قرار دیا جائے تو اس سے بڑھ کر  افسوسناک امر کیا ہوسکتا ہے۔یہ درجہ بندی کسی ایرے غیرے نے نہیں کی ہےبلکہ عالمی سطح کی تنظیمِ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کی ہے جس نے شہر سرینگر کے ہوا کے نمونوں کی جانچ کرکے اس میں مضر صحت عناصر کی مقدار قابل ِ قبول حد سے بہت زیادہ پائی ہے۔ خاص کر شہرکے مصروف ترین علاقوں لالچوک، بلواڑ روڑ، جہانگیر چوک اور رام باغ کے علاقوں میں ، جہاں کئی برسوں سے بھاری حجم کی تعمیراتی کام جاری ہیں، ہوا کی آلودگی میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہو تا جار ہا ہے اور یہ آلودگی اس حد سے کہیں زیادہ ہے، جو طبی اعتبار سے قابل قبول قرار دی جاتی ہے۔ اس صورتحال کےلئے تعمیراتی کاموں سے اُٹھنے والے گردوغبار کا بڑھتا ہوا دبائو ہو اکو انسانوں کے لئے نقصان دہ حد تک آلودہ بنا رہا ہے۔ انہی کالموں میں بار دبار حکام پر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وادی کے اندر تعمیراتی منظر نامے میں قواعد وضوابط کی دھجیاں اڑائی جاتی رہی ہیں لیکن متعلقہ ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ نجی سطح پر ہو رہے تعمیراتی کاموں کو چھوڑ سرکاری پروگراموں کے تحت زیر انجام تعمیرات کےلئے مٹریل لانے لے جانے اور تعمیراتی کام کے دوران  گردوغبار اُٹھنے سے سڑکوں پر دھول کی تہیں جم جاتی ہیں ، جن پر ٹریفک آواجاہی سے گرد و غبار کے ریلے اُٹھ کر ہوا میں شامل ہوکر اُسے آلودہ بنا دیتا ہے۔ اس صورتحال میں عام لوگوں کی صحت متاثر ہونا منطقی بات ہے ۔ چونکہ تعمیراتی کاموں اور ٹریفک سیکٹر سے وابستہ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور منصب داروںکے مفادات وابستہ ہیں، لہٰذا وہ قواعد و ضوابط کی خلاف وزیوں پر کسی قسم کے سرکاری ردعمل کی دھارکند کرنےکی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ ریاست کے اندر فی الوقت کوئی مؤثر ٹریفک پالیسی موجودہی نہیں اور شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں ملک کی متعدد ریاستوں کے نمبر پلیٹوں کی حامل استعمال شدہ اور پرانی گاڑیوں کے کاروان درکاروان نظر آتے ہیں، جو ہر طرف دھواں بکھیرتی دورٹی رہتی ہیں۔محکمہ ٹریفک کی جانب سے روزانہ پلیوشن قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف چالان کئے جانے کے اعداد و شمار بڑھاچڑھا کر پیش کئے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر اسکے اثرات کہیں نہیں دکھتے۔ عالمی ا دارہ ٔ صحت کی یہ رینکنگ عالمی سطح پر کشمیر کی بدنامی کا باعث بنے گی،کیونکہ حکومت ریاست کے اندر سیاحت کو شعبے کو بڑھاوا دینے کےلئے جو جتن کر رہی ہےوہ سب اس حالت میں دھر ے کے دھرے رہ جائینگے، کیونکہ کوئی سیاح اپنے خون پسینے کی کمائی خرچ کرکے فضائی آلودگی کے بہ سبب بیماریاں خریدنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ شہری عوام کی صحت کو بھی خطرات درپیش ہیں، جس کی طرف اگر فوری توجہ مبذول نہ کی گئی تو آنے والے ایام نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ الغرض عوام اور سرکار پر یکسان طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہر میں آلودگی کو کم سے کم کرنے کےلئے جتن کرے، جبھی ایک خوشگوارمستقبل کی توقع کی جاسکتی ہے اور ماتھے سے یہ تازہ کلنک مٹایا جاسکتا ہے۔