شہری ہلاکتیں۔۔۔۔۔ گومگو حالت کب تک؟

 جموںوکشمیر غالباً ملک کی واحد ریاست ہے، جہاں انسانی جانوں کی قیمت اس قدر ارزاں ہوگئی ہے کہ حکومت کی جانب سے شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کے معاملے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر ریاستی انسانی حقوق کمیشن معاملات پر توجہ مرکوز نہ کرے تو شاید انتظامیہ اس حوالے سے زبان کھولنا بھی گوارا نہ کرے۔ کمیشن کی جانب سے انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کی ایک خبر کو خاطر میں لائے جانے کے بعد ہی اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ سال2016کےاندر ایجی ٹیشن کے دوران 78شہری ہلاکتیں پیش آئیں۔ چونکہ عوامی اور سیاسی سطح پر دبائو بڑھنے کے بعد حکومت نے کئی معاملات کی مجسٹریل انکوائری کروانے کے احکامات صادر کئے تھےتاہم 34معاملات میں ایسا نہیں کیا گیا۔ چنانچہ انسانی حقوق کمیشن نے از خود معاملے پر توجہ مرکوز کرکے حکومت سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کی، لیکن فی الوقت جو رپورٹ کمیشن کو پیش کی گئی ہے اسکے مطابق چھ اضلاع کے ضلعی کمشنروں نے صوبائی انتظامیہ کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے، اس بنا پہ کمیشن نے سرکاری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرکے نئے سرے سے مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کھریو علاقہ میں فوجی کیمپ کے اندر مارپیٹ کے ذریعہ ہلاک کئے گئےلیکچرار کے معاملے میں اگر چہ پولیس نے تحقیقاتی عمل مکمل کرلیاہے اور ملزموں کی نشاندہی بھی کی ہے تاہم انہیں افسپا کے تحت تحفظ حاصل ہونے کے بہ سبب تب تک زیرتعزیر نہیں لایا جاسکتاجب تک کہ مرکزی حکومت اس کے لئے منظور نہیں دیتی اور اطلاعات کے مطابق ریاستی سرکار کو ابھی تک یہ منظوری نہیں ملی ہے۔ شہری ہلاکتوں کی صورتحال پر ایسا نہیں کہ صرف ریاست کے اندر ہی غم و غصہ پایا جاتا ہو بلکہ ملکی سطح پر بھی کئی حلقوں نے اس پر برہمی کا اظہارکرکے شہری ہلاکتوں کی وجوہات کا پتہ لگانے کےلئے بھرپور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔اور تو اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی حقوق تنظیموں اور گروپوں نے ان ہلاکتوں کے لئے فورسز کو ذمہ دا رٹھہراتے ہوئے اُن پر معیاری طریقہ ٔ کار ،جسے عرف عام میںSOPکہا جاتا ہے، سے انحراف کو ہلاکتوں کی بنیادی وجہ گردانا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہنا غالباً غلط نہ ہوگا کہ شہری ہلاکتیں ،جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں ، بہت کم حکومتی توجہ کی مرکز بنتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سیاسی دبائو کم کرنے کےلئے سیاسی بیان بازیوں کے توسط سے تحقیق و تفتیش کے وعدے اور اعلانات کرکے عوامی غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی بھر پور کوششیں ہوتی رہتی ہیں اور تحقیقی عمل کی شروعات بھی اس عنوان سے کی جاتی ہے کہ اُسکے انجام پر کسی کو بھروسہ نہیں رہتا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یقینی طو پر سال2016کی ہلاکتوں کی تحقیق و تفتیش کی صورتحال یہ نہ ہوتی۔ حکومت کے ارباب حل و عقد کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ ہر ایک انسان کے شہری اور آئینی حقوق ہوتے ہیں ، جن کے ساتھ کسی قسم کی دست درازی کسی کا حق نہیں بنتا ،چہ جائیکہ انکی جانیں بھی لی جائیں۔ خاص کرایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری نظا م قائم ہو اور جسے دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ ہو، وہاں اگر اکیسویں صدی میں صورتحال  یہ ہے تو پھر خدا ہی حافظ ہے۔اب چونکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں پر ایک مفصل رپورٹ پیش کرے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ مرکوز کرکے قانونی اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی اصل صورتحال کو سامنے لانے میں کسی پس و پیش سے کام نہ لے۔ بصورت دیگر آئینی اداروں پر سے عوام کا اعتبار ختم ہونا بعید از قیاس نہیں۔