شہد و شکر سے شیریں اُردو زبان

 جدید ہندوستان میں باضابطہ 23 زبانیں اور تقریبا 1000 علاقائی بولیاں ہیں۔ یہاں تک کہ ریاستوں کی سرحدیں بھی علاقائی زبانوں کے حساب سے طے کی گئی ہیں۔ آئین ِ ہند کے مطابق ہماری اردو زبان 23دفتری شناخت زبانوں میں شامل ہے۔ جگ ظاہر ہے کہ اُردو برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے اور پوری دنیا میں اپنی چاشنی و شیرینی کی بنا پر یگانہ بھی ہے۔ بقول الطاف حسین حالی:؎
شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زباں ہماری 
پاکستان کی قومی اور رابطۂ عامہ کی زبان ہے اردو۔ جب کہ اردو بھارت کی چھ ریاستوں میں دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ 2001ء کی مردم شْماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان وطن عزیز ہندوستان میں ÷5.01 فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان ÷7.59 فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ہندوستان میں پیدا ہوتے ہوئے یہیں پل بڑھ کر اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جُڑی ہوئی ہے۔اس ضمن میں عبد السلام بنگلوری کہتے ہیں :؎
جو یہ ہندوستاں نہیں ہوتا 
تو یہ اردو زباں نہیں ہوتی
 بشمول وطن عزیز 'ہندوستان' برصغیر میں روایتاً 9/نومبر (اقبال ڈے) کو یومِ اردو منایا جاتا ہے۔ بیک وقت دنیا کے مختلف خطوں میں منائے جانے کی وجہ کر اسے عالمی یومِ اردو سے موسوم کیا جاتا ہے۔ واضح ہوکہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائٹیڈ مسلم انڈیا، ان دونوں غیر سرکاری خانگی انجمنوں کے اشتراک سے بھی قابل ذکر عالمی یومِ اردو کی تقریبات کا انعقاد برسوں سے عمل میں آتا رہا ہے۔ یہ تقریبات ہر 9/ نومبر کو منعقد ہوتا رہا ہے جو علامہ اقبال کا بھی یوم پیدائش ہے۔ اس و ژن اور مشن کے روح رواں ڈاکٹر سید احمد خان اور ان کے بعد نامور صحافی محفوظ الرحمٰن زندگی بھر اس مشن کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف رہے تاکہ اردو ایک عوامی زبان بنی رہے۔ اردو ڈے کے موقعے پر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے ملک و بیرون ملک میں جن مختلف اداروں کے ذریعے 'یومِ اردو تقریبات کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، ان میں اہم نام غالب اکیڈمی،دہلی اور انجمن ترقی اردو ہند بھی ہیں۔ 'قومی آواز' اور ڈاکٹر سید احمد خان کے مطابق غالباً گزشتہ 22 برسوں سے عالمی یوم اردو تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس موقعے پر اردو زبان و ادب کی نمایاں خدمات کے لیے مختلف خادمانِ اردو کو ایوارڈز بھی نوازے جاتے ہیں تاکہ اردو کی خدمات میں قابل ِ قدر اضافہ ہوتا رہے۔ موجودہ نئی نسل کو گاہے گاہے قومی لیڈران ، صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اورو دیگر دانشورانِ قوم و ملت کے ذریعہ یہ سننے کو مل ہی جاتا ہے کہ اردو زبان ہماری ثقافت اور تہذیب ہے۔ اس ضمن میںمعتبر شاعر اختر شاہجہانپوری کا شعر ملاحظہ کریں:؎
ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا
ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں
اس سے متعلقہ سیاق و سباق کا ہونا اور ماضی میں اردو کی شیریں لطافت اور مشترکہ زبان ہونے کا شرف حاصل ہونا طشت از بام رہا ہے۔ آج بھی اردو زبان میں لکھے گئے اسلاف و بزرگوں کے اقوال، تصانیف ، تالیفات اور تخلیقات کو پڑھتے جائیے اور سر دھنتے رہیے سا ہے۔ اہل علم و زبان کی زبان دانی کے کیا کہنے۔ تب ہی تو بشیر بدر نے زیر نظر شعر کہا ہے:؎
وہ عطر دان سا لہجہ میرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو
چونکہ اردو محض ایک بھاشا نہیں ہے بلکہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ یہ ہندوستان کی ثقافتی و تہذیبی میراث بھی ہے۔ اہل ہند کے مطابق اردو زبان کو ہمارے بھارت کی ماتر بھاشا 'ہندی' کی سگی بہن بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اس تعلق سے عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کہتے ہیں:؎
  سگی بہنوں کا جو ہےرشتہ اردو اور ہندی میں
کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا
لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے
منظر اور پس منظر دونوں ہی اعتبار سے اردو کی لطافت اور مٹھاس کے قائل سبھی زبان والے نظر آتے ہیں۔ اس کا اظہار عام زندگانی میں گفتگو، تقریر، لیکچرز اور انٹرویوز کے حوالے سے ہوتا رہتا ہے۔ آج بھی پورے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کے گوشوں میں یہ شیریں زبان 'اردو' اپنی میٹھی موجودگی کا احساس یوں دلا رہی ہے کہ:؎
 سیکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ اباں ہے اردو
 حالانکہ اردو کی تاریخ محض چند سو سالہ پرانی ہے تاہم اپنی مٹھاس، نزاکت اور خوبصورت لب و لہجے کی وجہ سے ہماری  پیاری اردو زبان پوری دنیا میں خوب پہچانی جاتی ہے۔ اس کا دَم بھرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔دلیل کے طور پر ریختہ کا ادبی پلیٹ فارم کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ریختہ ڈاٹ کام کے ویب سائٹ وغیرہ بھی اس کی دھوم کے شواہد ہیں۔ بقول مرزا داغ دہلوی:؎
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ،اردو زباں کی ہے
ہماری اردو زبان نے دنیا کو اعلیٰ درجے کے دانشور، ادیب اور شاعر دیے ہیں۔ ان میں میر تقی میر، مرزا غالب، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری، ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، پنڈت برج نارائن چکبست اور فیض احمد فیض و دیگر خاص طور سے پہچانے جاتے ہیں۔ اردو کی ہمہ گیری، اس زبان کی شائستگی اور خوشبوئے شیریں سر چڑھ کر کچھ اس طرح  بولتی ہیں کہ:؎
سلیقے سے ہوائوں میں وہ خوشبو،گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
اردو زبان کی عملی تشبیہات باور کراتے ہیں کہ اردو کو عملی زندگانی میں اپنانے سے تہذیب و سَبھیّتا سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس کا سراپا مظاہرہ و مشاہدہ معروف شاعرو کوَی منیش شکلا کے ذیل کے شعر سے یوں ہوتا ہے:؎
بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
 اردوبھاشا کا استعمال لوک سبھا اور راجیہ سبھا (ایوان)میں وزرائے اعظم اور اراکین پارلیمنٹ(جن میں تارا کشوری سنہا سے لے کر من موہن سنگھ ہی نہیں بلکہ سشما سوراج و دیگر تک ہیں) نے اردو کے اشعار کے ذریعہ اپنے خیالات کو پیش کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔غالباً ان کے ذہنوں میں اردو زبان کی شیرینی اور نفاست کے تناظر میں دِگج کَوی سندیپ گپتے کا ذیل کا شعر گردش کرتا رہا ہو:؎
دلہن کی مہندی جیسی ہے اردو زباں کی شکل
خوشبو بکھیرتا ہے عبارت کا حرف حرف
 اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں قانونی طور پر اردو کوکل ہند سطح پر جب سرکاری زبان بنانے کا موقع آیا تو یہ تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی! چونکہ یہ زبان آزادی سے پہلے ایک مشترکہ قدروں والی زبان بن گئی تھی پھر بھی ٹیکنیکل بنیادوں پر اس کو سرکاری منظوری نہ مل سکی! تاہم یہ متذکرہ زبان کی اہمیت و افادیت ہی تھی کہ انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اردو کی تعلیم دینے کا سلسلہ رائج کیا تھا۔ الغرض یہ واحد زبان ہے جس نے مختلف فرقوں میں رابطہ کی زبان کا کردار ادا کیا نیز اس کے ارتقاء کے بارے میں دیکھا جائے تو اسے اولیاء کی زبان بھی کہا جاسکتا ہے۔ اولیاء کرام نے ہندوستان میں اپنے خیالات و افکار کو بذریعہ اردو زبان یہاں کے عوام کو متوجہ ہی نہیں کیا بلکہ وحدت کی بنیاد پر انھیں متحد بھی رکھا۔ طویل عرصے تک زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا اظہار اور ذرائع ابلاغ کے لیے اردو ہی کا چلن رہا۔ مگر افسوس کہ تعصبانہ طور پر اردو کو ایک مخصوص مذہب اور فرقے سے جوڑ کر اسے روزی روٹی سے الگ کر دیا گیا تاکہ یہ زبان دم توڑ دے! جبکہ یہ ہندوستان ہی میں پیدا ہوئی۔ یہیں پلی، بڑھی اور پروان چڑھ کر سب کو اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ بقول منصور عثمانی:؎
جہاں جہاں کوئی اردو زبان بولتا ہے
وہیں وہیں مرا ہندوستان بولتا ہے
 عالمی یوم اردو منانے والی (اوپر بیان کیے گیے) ان تمام تنظیموں کو ہم سلام کرتے ہیں جن کی وجہ سے آج یہ دن منایا جارہا ہے۔ اس سے نئی نسل کو اردو کی تاریخ اور مستقبل میں اس کی اشاعت و فروغ کے بارے میں عزم کرنے کے مواقع ملیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اردو سے حقیقی محبت کرنے والے بنیں. دوسرے لفظوں بر زباں محب اردو بننے کی بجائے ہم گفتار اور تقریر کے نہیں بلکہ کردار کے غازی بنیں۔ مثلاً ہم جس شعبۂ حیات سے تعلق رکھتے ہیں خواہ انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم، صحافت، تجارت ہو؛ غرض جو جہاں ہے وہ اپنی مادری زبان اردو کو اپنی زندگی میں شامل کریں تاکہ آنے والی نسلیںبھی اس امانت کی پاسداری کرسکیں۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ہمیں جاننا چاہیے کہ کسی قوم کو اگر ختم کرنا ہو تو اسکی زبان کو ختم کرنے والے اصول پسندوں کی تعصب و تنگ نظری کی وجہ سے کہیں ہم اہلِ اردو کی اپنی شناخت اور یکائی والی حیثیت بھی ختم نہ ہوجائے! کیوں کہ فی زمانہ ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ۔۔۔اُف!!! اس بات کا خیال رہے کہ ہم لاشعوری یا غیر محسوس طریقہ سے اس کا شکار نہ ہوجائیں۔ فی وقت زعفران ماحول ان مقاصد کے لیے تمام حربے کا استعمال ہی نہیں کر رہی ہے بلکہ اس ضمن میںتعصبانہ شدت پسندی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ قابل تشویشناک ہے کہ اس منہ زوری پر نہ قانونی کاروائی ہے نہ سماج کی پابندی! ایسے پراگندہ ماحول میں بھی ہم اردو والے اپنی تہذیب و شناخت کو محفوظ کرسکتے ہیں بشرطیکہ ہم مرکزی قانونِ حق تعلیم کی تکمیل و تعمیل کے لیے آگے آئیں۔ اس لیے کہ ریاستی حکومت ہی نہیں حکومتِ مقامی کو لازم ہے کہ وہ چھ سے چودہ سال والے بچوں کے لیے مدارس کا آغاز کریں۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر شاہی اور حکو مت کے بیروکریٹس اس سے غفلت و کوتاہی برت رہے ہیں۔ اس لیے کہ ہم خود غفلت و عدمِ معلامات کا شکار ہیں۔ بقول شاعر(نامعلوم):؎
اگر تم چاہتے ہو اردو بچانا
میاں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا
 ازل سے ظاہر کہ اردو ذریعہ تعلیم میں مذہبی سرمایا سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے اس ذریعہ ہی سے اپنا معاشرہ، ماحول اور اپنی تہذیب از سرِ نو مہذب ہوسکتی ہے اور اب اردو کی شیریں لطافت جو صرف نغموں اور مشاعروں میں سمٹ کر رہ گئی ہے وہ اپنی نئی نسل کی زندگی میں آجائے تو ہماری نئی نسل اس طرح ہوسکتی ہے کہجیسا کہ معروف شاعر احمد وصی اپنے شعر میں یوں فرماتے ہیں :؎
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے ،جسے اردو آئے
معتبر شاعرآذر بارہ بنکوی  اس پس منظر میں کچھ اس طرح کہتے ہیں:؎
بچپن نے ہمیں دی ہے یہ شیرینیٔ گفتار
اردو نہیں،ہم ماں کی زباں بول رہے ہیں
اردو کے تحفظ اور بقا ہی نہیں بلکہ ترویج و اشاعت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو صرف اسی بات سے مطمئن نہ ہونا چاہیے کہ آج بھی موجودہ تنگ نظر و متعصبانہ ماحول میں ہندی، تیلگو اور مراٹھی زبان والے اردو کو فیشن سمجھ کر استعمال کرتے ہیں لیکن جب تک اردو زبان سے ذریعہ تعلیم زیادہ سے زیادہ نہ ہوگا اس وقت تک اردو والے اپنی زبان سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں سے تعلیم پانے والے نو نہالوں کے لیے مہارت حاصل کرنا دشوار ہپی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ فکر کا تقاضا ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے ماہرین تعلیم کا مسلمہ و متفقہ فیصلہ ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر عمل کریں اور مقامی و ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں مستعد بھی رکھے۔  بقول شاعر:؎
میری اردو کے تحفظ کے لیے
ہر گلی میں ایک مدرسہ چاہئے
کیونکہ ہم اس زبان کی نفاست کوپھر سے محسوس کرنا  اور مستقبل کو تراشناچاہ رہے ہیں۔ مذکورہ بالا شرع میں مدرسہ سے مطلب ہر محلے میں اردو میڈیم اسکول لیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پیاری و عالمگیر شناخت والی شیریں اردو زبان کے تحفظ و بقا کے لیے پہلی فرصت میں بذریعہ اردو میڈیم والی تعلیم گاہوں کو آباد کرنے اور انہیں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
بہرحال اردو ایک عظیم زبان ہے اور اس کا ضمیر و خمیر ہی ہے کہ اس نے غیر معمولی عظمتوں کو جنم دیا ہے اور یہی اس امر کی دلیل ہے کہ اردو صرف زبان یا تہذیب ہی نہیں بلکہ ایک تحریک اور طرزِ حیات کا بھی نام ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ اردو کے دن عہد کریں کہ ہم سب اس تہذیب اور ثقافتی ورثہ کی حفاظت کرنے اور فروغ دینے کے عمل کا حصہ بنیں جو ہماری اپنی پہچان ہے، اور جس کی بدولت بھی ہمارا عزیر ملک دنیا میں پہچانا جانا جاتا ہے۔ بقول شاعر :؎
ایک ایک حرف کی رکھنی ہے آبر و مجھ کو 
سوال دِ ل کا نہیں ،میری زباں کا ہے
رابطہ۔8820239345