شکیل میرکی سربراہی میں وفدایس ڈی ایم وایس ڈی پی اوسے ملاقی

 تھنہ منڈی / جمعہ کے روز صدر میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی شکیل احمد میر کی قیادت میں عوام کا ایک وفد سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھنہ منڈی اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر تھنہ منڈی سے ملاقی ہوا اس دوران وفدنے مطالبہ کیاکہ ٹیمپو حادثے کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور ضلع ہسپتال راجوری کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی طرف سے مریضوں کیساتھ کی گئی بد سلوکی اور مار پیٹ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے جائے۔ قصبہ تھنہ منڈی اور دیہات کے لوگوں پر مشتمل یہ وفد سب ڈویژن مجسٹریٹ تھنہ منڈی ڈاکٹر تنویر احمد خان اور سب ڈیویژنل پولیس آفیسر تھنہ منڈی افتخار احمد چوہدری سے ملاقی ہوا۔ وفد میں شامل لوگوں نے آفیسران سے کہا کہ پیر کے روز ڈیرہ گلی کے قریب ٹیمپو ٹریولر کے حادثے میں دو خواتین لقمہ اجل ہوئیں جبکہ دیگر 14 افراد زخمی ہوئے تھے  جن کو تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال میں ابتدائی طبی سہولیات فراہم کرنے کے بعد ضلع ہسپتال راجوری روانہ کیا۔ضلع ہسپتال راجوری میں چند ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے باعث زخمیوں کے ورثا نے احتجاج کر کے ان کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کو میڈیا کے ذریعے   منظر عام پر لانے کی کوشش کی تھی۔منگل کے روز ورثا نے گیٹ کے باہر پر امن احتجاج کیا گیا۔ دوران احتجاج زخمیوں کے ورثا اور پولیس و سول انتظامیہ کے درمیان گفت وشنید کا سلسلہ جاری تھا۔ اتنے میںہسپتال کے۔چند ڈاکٹروں اور طبی عملہ نے مشتعل ہوکر ورثا کے ساتھ بد سلوکی کی۔وفد نے کہاکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے نے زخمیوں کے ورثا کو ایک منظم سازش کے تحت دن دہاڑے بے رحمی سے مارپیٹ کرتے ہوئے ہسپتال کو جنگ کا میدان بنا دیا۔ پولیس کی بر وقت مداخلت سے بچائوہوا ورنہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ضلع ہسپتال زبح خانہ بن چکا ہے جبکہ ڈاکٹر قصاب کا رول ادا کر رہے ہیں جو قابل افسوس ہے ۔انھوں نے کہا  کہ انتقامی کاروائی کرتے ہوئے سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات بند کر دیں۔ وفد نے کہا کہ بجائے انصاف دلوانے کے الٹا ورثا کے خلاف کاروائی کرنے پر کمر بستہ ہوگئے۔ وفد میں شامل لوگوں نے کہا ہے کہ ٹیمپو حادثے کے مریضو ں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا۔جائے اور نہتے ورثا کے خلاف یکطرفہ کاروائی کو روکا جائے۔ انہوںنے ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہلاک شدگان کے ورثا کے حق میں معاوضہ اور مضروب ہوئے افراد کے حق میں معاوضہ دیا جائے۔ بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اگر اسکے بعد ضلع ہسپتال راجوری  کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے طرف سے امتیازی سلوک جاری رہا تو تھنہ منڈی کی عوام سڑکوں پر اتر کر احتجاجی راستہ اختیار کریں گے۔