شُکرانے کےنفل اور سجدۂ شکر

 آج کل سوشل میڈیا پر ایک بحث چل رہی ہے کہ شکرانے کے نوافل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں،اس لئے اسے پڑھنا اسلام میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں ، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نمازِ شکر کا پڑھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ثابت ہے۔ رسول اللہ ؐ فتح مکہ کے موقع پر سیدھے اپنی چچا زاد بہن حضرت امّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہوئے ،غسل فرمایا اور ہلکی قرأت فرما کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ اس نماز کو ’’صلوٰۃ الفتح ‘‘ اور’’صلوٰۃ الشکر‘‘ بھی کہتے ہیں اور چوں کہ چاشت کے وقت ان نوافل کی ادائیگی کی گئی تھی، اس لیے’’صلوٰۃ الضحیٰ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ بہرحال اس نماز کو جو نام بھی دیا جائے ،اصل غرض اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرنا تھا۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بدر کے دن ابوجہل کی موت کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے نماز شکر ادا کی، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف مواقع پر سجدۂ شکر کرنا بھی ثابت ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پاس جب کوئی خوش کن خبر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے، لہٰذا کسی نعمت کے مل جانے پر یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر سجدۂ شکر ادا کرنا جائز ہے اور مکمل نماز پڑھنا شکرکا اعلیٰ درجہ ہے۔
سجدۂ شکر کی صورت یہ ہے کہ تکبیر کہہ کرانسان سجدے میں چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح بیان کرے اورپھر دوسری تکبیر کہہ کر سجدے سے سر اٹھالے، مگرفرض نماز کے بعد یا مکروہ اوقات میں ایسا کرنے سے گریز کرے۔ سجدۂ شکر سے متعلق امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب یہ جملہ کہ ’’ و کان أبو حنیفة لایراهاشیئًا‘‘ کا مطلب فقہاء نے یہ بھی بیان کیا ہےکہ حضرت امام صاحب ’’سجدۂ شکر‘‘کو سنت نہیں سمجھتے تھے اوریہ مطلب بھی لیا ہے کہ آپ ’’سجدۂ شکر‘‘ کو مکمل شکر نہیں سمجھتے تھے ، کیوں کہ کامل شکریہ مکمل نماز کی صورت میں ادا ہوتاہے ،جسے نماز شکر کہتے ہیں۔ (تفسير ابن کثير8/ 511 ۔ سنن الدارمی1/ 406۔فتاویٰ تاتارخانیہ:484ج2۔الفتاویٰ الھنديۃ1/ 136)