شوپیاں میں اقلیتی فرقے کے محافظین پر فائرنگ

شاہد ٹاک + ارشاد احمد+اشرف چراغ
شوپیان+کپوارہ // شوپیان کے ایک مضافاتی گائوں میں ملی ٹینٹوں نے اقلیتی فرقے کی حفاظت پر مامور پولیس عملے پر فائرنگ کی، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ادھر بڈگام میں تھانہ صدر پر ملی ٹینٹوں نے گرینیڈ پھینکا اور فرار ہوئے۔ منگل کی صبح ساڑھے 9بجے شوپیان ضلع کے ہی پورہ بٹہ گنڈ زینہ پورہ گائوں میں ہندو اقلیتی برادری کے ارکان کی حفاظت پر مامور 178بٹالین سی آر پی ایف پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں کی جانب سے اقلیتی گارڈ پر دور سے چند فائرکئے گئے، جس کا سیکورٹی اہلکاروں نے موثر جواب دیا۔اسکے بعد ملی ٹینٹ فرار ہوئے۔ واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور تلاشیاں لی گئیں۔ادھر پولیس نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے رات کے 9بجکر 15منٹ پر پولیس سٹیشن بڈگام پر گرینیڈ پھینکا جو گیٹ کے باہر زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کا ہنا ہے کہ اس موقعہ پر پولیس نے ملی ٹینٹوں پر فائرنگ کی جو اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔واقعہ کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔پولیس ذرائع نے کہا کہ ملی ٹینٹ موٹر سائیکل پر سوار تھے جب انہوں نے پولیس سٹیشن گیٹ کی جانب گرینیڈ پھینکا۔ادھرکپوارہ کے کلاروس علاقہ میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب فوج نے بارودی سرنگ نصب کرنے کا شبہ ظاہر کیا ۔اسکے بعد گاڑیوں کی آمد و رفت بند کردی گئی اور بم ناکارہ کرنے والی ٹیم پہنچ گئی جبکہ سونگھنے والے کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔تاہم دوران تلاشی کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔ادھرکپوارہ کے حد متارکہ پر واقع ٹاڈ کرناہ علاقہ میں بھاری مقدار میں اسلحہ و گو لہ بارود ضبط کر نے کا دعویٰ کیا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ کرناہ کے ٹاڈ علاقہ میں ملی ٹینٹوں کی ایک کمین گاہ کا علم ہوا جس کے بعد حجام محلہ ٹاڈ کرناہ میں تلاشی کے دوران 10پستول، 17میگزین ،54راونڈ گولیا ں اور 5ہتھ گولے بر آمد کئے گئے۔