شوپیان میں جھڑپ ختم

شوپیان // ضلع شوپیان کے باربگ امام صاحب میں جنگجوؤں کی طرف سے  فورسز کی گشتی پارٹی پر حملے کے بعد شروع ہونے والا مسلح تصادم 2 جنگجوؤں کی ہلاکت اور تیسرے جنگجو کی گرفتاری پر ختم ہوگیاہے۔ قریب 16 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے دوران ایک کمسن لڑکی گولی لگنے سے زخمی ہوئی جبکہ ایک رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت الطاف احمد راتھر ولد محمد مقبول ساکن آونیورہ شوپیان اور طارق احمد بٹ ولد محمد ابراہیم ساکن باربوگ شوپیان کے طور پر ہوئی جبکہ اور ایک جنگجو کو گرفتار کیا گیا جس کی پہچان نذیر احمد ڈار ساکن چھتری پورہ شوپیان کے طورپر ہوئی ہے۔نذیر احمد نامی 17سالہ نوجوان صرف چھ ماہ قبل جنگجوئوں کیساتھ شامل ہوا تھا۔ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے بتایا کہ باربگ امام صاحب شوپیان میں  جنگجوؤں کی طرف سے فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’آپریشن کے دوران جب فورسز کے اہلکار مذکورہ گاؤں میں ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے‘۔ ڈاکٹر وید نے بتایا کہ فورسز نے جوابی فائرنگ کی اور گولہ باری کے ابتدائی تبادلے میں ایک جنگجو کو ہلاک کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس کو علاقہ میں تین جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گولہ باری کے ابتدائی تبادلے میں ایک جنگجو کی ہلاکت کے بعد دوسرے جنگجوؤں کو خودسپردگی کی پیش کی گئی۔ ڈاکٹر وید نے بتایا ’خودسپردگی سے انکار کے بعد ایک اور جنگجو کو ہلاک کیا گیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ محصور جنگجوؤں میں سے عادل حسین نامی ایک جنگجو کو سیکورٹی فورسز نے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عادل نے حال ہی میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ عادل ضلع شوپیان کے چھتری پورہ کا رہنے والا ہے۔ مسلح تصادم کے دوران خوشبو جان نامی کمسن لڑکی پاؤں میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی ہے جس کا اسپتال میں علاج ومعالجہ چل رہا ہے۔ اُدھر مہلوک جنگجوئوں طارق احمداورمحمدالطاف کی نمازجنازہ میں بڑی تعدادمیں  لوگوں نے شرکت کی جسکے بعددونوںکی میتوں کواسلام وآزدی کے حق میں نعروں کے بیچ سپردلحدکیاگیا۔