شوپیان میں اسکول ٹیچر کا اغوا کے بعد قتل

شوپیان// ضلع شوپیان میں بدھ کے روز ایک اسکول ٹیچر کی گلا کٹی ہوئی لاش برآمد کی گئی۔ شوپیان کے واٹھو نامی گاؤں میں بدھ کی صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب مقامی لوگوں نے گلا کٹی ہوئی لاش دیکھی۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو مطلع کیا جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوک شخص کی شناخت اعجاز احمد لون ولد علی محمد لون ساکن گتی پورہ کے بطور کی گئی ۔ اعجاز احمد ایک اسکول ٹیچر تھا۔ 35سالہ اعجاز احمدگورنمنٹ ہائی سکول مجہ پتھری میں تعینات تھا۔وہ اپنے پیچھے تین ماہ کی بیٹی اور تین سال کا بیٹا چھوڑ گئے ہیں۔اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے بھائی طارق احمد کے ہمراہ اپنی گاڑی میں منگل کی سہ پہر کرالہ چک جانے کیلئے گھر سے نکلا اور جونہی دونوں بھائی کرالہ چک پہنچ گئے تو راستے میں ہی دو نامعلوم افراد نے انکی گاڑی روک دی اور اعجاز کو نیچے آنے کیلئے کہا۔اسکا بھائی طارق ،جو گاڑی چلا رہا تھا، سے کہا گیا کہ وہ آدھ گھنٹہ یہاں ہی انتظار کرے، کیونکہ اعجاز واپس آنے والا ہے، لیکن وہ واپس نہیں آیا۔اس دوران طارق نے اپنے بھائی کو فون کیا لیکن سیل بند آرہا تھا۔تاہم پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے وہ صبح تک کا انتظار کرنے لگے اور صبح پولیس نے انہیں اطلاع فراہم کی کہ انہوں نے واٹھو زوورہ میں سٹیڈیم اور نالہ لار کے بیچ میں ایک لاش دیکھی ہے جو اعجاز کی ہے۔ لاش کی گردن کاٹی گئی تھی۔لاش کیساتھ ایک چھٹی رکھی گئی تھی، جس میں معروف جنگجو تنظیم کا ذکر ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اعجاز احمد کے مکان میں گتی پورہ میں چند روز قبل10اکتوبر کو خونریز تصادم آرائی ہوئی تھی، جہاں 3جنگجو چھپے ہوئے تھے۔تصادم آرائی کے دوران جنگجوئوں نے مکان کو نقصان ہونے سے بچایا اور مکان کے ساتھ ہی اعجاز کے گائو خانہ میں پناہ لی جہاں تینوں جنگجو آصف احمد کاٹھو ہالن، زاہد میر گنا پورہ شوپیان اور عرفان احمد ہف شرمال مارے گئے ۔پولیس نے بتایا کہ اس قتل میں جنگجوئوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے اعجاز کو پہلے اغوا کیا اور بعد میں بڑی بیدردی سے اسکا قتل کیا۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ ہی جنگجو تنظیم کی چھٹی پائی گئی جو ایک واضح ثبوت ہے۔اس سلسلے میں پولیس نے کیس رجسٹر کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔اس دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں فورسز پر الزام عائد کیا گیا کہ فورسز نے جنگجوئوں کے گھروں پر حملہ کر کے مکانوں کی توڑپھوڑکی، کھڑکیاں اوردروازے توڑ ڈالے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اہل خانہ کو بُری طرع مارا پیٹا گیا۔اس سلسلے میں ایس پی شوپیان  نے کہاکہ اس طرح کا کوئی بھی معاملہ پیش نہیں آیا ہے۔(شاہد ٹاک)