شوپیان جھڑپ میں مالک مکان کی ہلاکت

سرینگر//شوپیاں کے کھڈ پورہ علاقے میں دو ماہ قبل جھڑپ کے دوران جاں بحق شہری شاہد منظور کی ہلاکت سے متعلق سیول انتظامیہ اور پولیس رپورٹوں میں متضاد دباتیں سامنے آئی ہیں۔جہاں پولیس نے انہیں جنگجوئوں کا اعانت کار جتلایا ہے، وہیں انتظامیہ رپورٹ کے مطابق وہ عام شہری تھا۔شوپیاں کے کھڈ پورہ علاقے میں3 نومبر کو جھڑپ کے دوران ایک جنگجو عرفان احمد اور مالک مکان شاہد منظور جاں بحق ہوئے تھے۔واقعہ سے متعلق ضلع ترقیاتی کمشنرشوپیان نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں ایک رپورٹ پیش کی ہے،جس میں کہا گیا ہے ’’ ضلع کے ایس ایس پی کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ زیر نمبرCRB/HR-14/18/29993-94  محرر19دسمبر2018 میں کہا گیا ہے کہ پولیس تھانہ شوپیاں کو مصدقہ اطلاع ملی کہ شاہد احمد میر ولد منظور احمد ساکن کھڈ پورہ کے مکان میں موجود کمین گاہ میں حزب المجاہدین کا ایک جنگجو موجود ہے‘‘۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا’’ فوج کی23پیرا اور شوپیاں پولیس نے کھڈ پورہ کا محاصرہ کیا اور تلاشیوں کے دوران اس مکان میں موجود جنگجو باہر آئے اور خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی ،جس میں23پیرا سے وابستہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا‘‘۔ پولیس کے مطابق’’ تلاشی دستے نے بھی دفاع میں فائرنگ کی جس کے دوران ایک جنگجو عرفان احمد بٹ ولد علی محمد بٹ ساکن بنڈزو پلوامہ اور اس کا معاون زخمی ہوئے،اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے‘‘۔اس دوران کمیشن میں ڈپٹی کمشنر شوپیان کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ تحصیلدار شوپیاں نے بھی معاملے کو نوعیت سے ایک رپورٹ زیر نمبر 1582/Teh/Spn/MM/18-19 محرر11دسمبر2018کو پیش کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے’’(تحصیلدار) کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ3نومبر کو شوپیاں کے کھڈ پورہ علاقے میں جھڑپ ہوئی جس میں ایک جنگجو عرفان احمد ساکن بنڈ زو پلوامہ اور ایک شہری شاہد احمد میر ولد محمد منظور میر ساکن گاگرن مارا گیا،جبکہ جاں بحق شہری پیشے سے ایک مزدور تھا۔‘‘ واضح رہے کہ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کی اس شہری ہلاکت کی مناسبت سے ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جس پرکمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی نے ایس ایس پی شوپیاں اور ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔