شوپیان تصادم آرائی ختم | ایک ملی ٹینٹ، 2 فوجی اہلکار ہلاک

سری نگر// جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے زینہ پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور جنگجووں کے درمیان تصادم آرائی میں دو فوجی جوان اور ایک مقامی جنگجو ہلاک ہوا ہے۔
 
پولیس ذرائع نے بتایا: ’شوپیاں کے چرمرگ زینہ پورہ علاقے میں انکاونٹر کے دوران دو فوجی جوان اور ایک عدم شناخت جنگجوہلاک ہوا ہے‘۔
 
انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد درمیانی رات کو شوپیاں کے چر مرگ زینہ پورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔
 
انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار جونہی ایک رہائشی مکان کے اندر داخل ہوئے اور وہاں پر تلاشی کارروائی شروع کرنی چاہی تو مالک مکان نے فورسز کو یہ کہہ کر اندر جانے نہیں دیا کہ وہاں پر کوئی جنگجو موجود نہیں ہے۔
 
اُنہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار مکان مالک سے اس بارے میں پوچھ تاچھ ہی کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں مکان کے اندر موجود ملی ٹینٹ نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس وجہ سے فسٹ آر آر سے وابستہ دو اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے اگر چہ اُنہیں طبی امداد کی خاطر بادامی باغ فوجی ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ وہاں پر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔
 
مہلوک فوجی جوانوں کی شناخت سپاہی سنتوش یادو اور سپاہی رومت چوہان کے بطور ہوئی ہے جو فسٹ آر آر سے وابستہ تھے۔
 
اُن کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں رہائشی مکان کے اندرموجود جنگجو بھی مارا گیا جس کی بعد میں شناخت عبدالقیوم ڈار ساکن پلوامہ کے بطور ہوئی ہے ۔
 
انہوں نے کہاکہ مہلوک جنگجو سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیش پیش تھا۔
 
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ جنگجو کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور اُس کے خلاف کئی ایف آئی آر بھی درج ہیں۔
 
اُن کے مطابق مہلوک جنگجو کے قبضے سے اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔
 
ذرائع نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹ کو پناہ دینے اور سیکورٹی فورسز کو قبل از وقت جانکاری فراہم نہ کرنے کی پادائش میں مکان مالک کو حراست میں لے کر اُس کے خلاف یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
 
دریں اثنا پولیس نے عوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔