شوپیان ، پلوامہ اور سوپور کے 7دیہات میں تلاشیاں

شوپیان+سوپور // شوپیان اور ترال میں 5دیہات کا محاصرہ کر کے تلاشیاں لیں گئیں۔بدھ کی شام راولپورہ اور دچھی پورہ شوپیان کے درمیان واقع پہل ناڑ نامی بستی کا34 آر آر، 14بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس نے محاصرہ کیا اور فوری طور پر روشنیوں کا انتظام کر کے شبانہ تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا۔رات کے 12بجے یہاں محاصرہ ہٹایا گیا جب بستی میں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع غلط ثابت ہوئی۔ راولپورہ میںدو روز قبل ہی تین دن تک آپریشن کیا گیا تھا ، جس میں ایک جنگجو کمانڈر سمیت دو جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔اُن میں کمانڈر سجاد افغانی مذکورہ گائوں اور جہانگیر احمد وانی ناڑ پورہ زوورہ کا تھا۔ ناڑ پورہ زوورہ کا جمعرات کی صبح62آر آر، 14 بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس نے محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔کئی گھنٹوں تک آپریشن جاری رہا لیکن بعد میں ختم کیا گیا۔جمعرات کی صبح ہی نولئے پوشواری شوپیان نامی گائوں کا44آر آر ، 178 بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے خصوصی دستوں نے محاصرے میں لیا اور ناکہ بندی کر کے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کیا۔ لیکن کئی گھنٹوں تک تلاشی کارروائی کے بعد محاصرہ ہٹایا گیا۔ادھر 42آر آر،سی آر پی ایف اور ایس او جی نے مشترکہ طور پرترال قصبے سے دو کلو میٹر دور آری گام اور قائم پورہ امیرآباد کا محاصرہ کیا جس کے دوران فورسز کی بھاری نفری کو داخلی اور خارجی راستوں پر بٹھا دیا گیا اور خانہ تلاشیاں شروع کی گئیں۔ہری پورہ امام صاحب شوپیان میں شام کے قریب 7بجے44آر آر، 178بٹا لین سی آر پی ایف  اور پولیس نے محاصرہ کیا اور گائوں کی ناکہ بندی کر کے تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری تھا۔ ادھر کریم آ باد پلوامہ میں گزشتہ شام دیر گئے  فوج و فورسز اور ایس او جی پلوامہ نے جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد محاصرہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محاصرہ شروع ہونے کے ساتھ ہی نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے ساتھ ہی فورسز نے نوجوانوں کا تعاقب کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کی۔ ادھر زینہ گیر سوپور کے وارپورہ گائوں کا جمعرات کی سہ پہر 22آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے خصوصی دستے نے محاصرے میں لیا اور جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کیا۔ لیکن کوئی پر تشدد واقعہ رونما نہیں ہوا۔