شمس کمال انجم

 
شاعری میں مثبت سوچ اور فکر کو تمام تر لسانی، فنی اورجمالیاتی محاسن کے ساتھ برتنا آسان نہیں۔ لیکن معاصر اردو شاعری میں شمس کمال انجم کا نام اسی بنا پر اپنی ایک منفرد شناخت کا حامل ہے کہ روز مرزہ کی زندگی کی طرح شاعری میں بھی مثبت اور تعمیری قدروں کو برتنا شمس کمال انجم کی فطرت میں شامل ہے۔ شمس کمال انجم کی غزلوں کے مجموعہ ’’لولوء منثور‘‘ سے شعر بہ شعر گذرتے ہوئے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر چند کہ شمس کمال انجم اردو کے صف اول کے معاصر غزل گوشعراعرفان صدیقی، عالم خورشید، سلطان اختر، عبد الاحد ساز، رفیق راز، خالد بشیر اور شفق سوپوری وغیرہ کے بعد کی نسل کے شاعر ہیں لیکن شمس کمال انجم کی غزل بولتی ہے کہ صرف اس بناپر ان کے شاعرانہ انفراد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں عربی ،اردواور اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر شمس کمال انجم کا شمار عربی زبان وادب اور اسلامیات کے حوالے سے برصغیر کے معتبر محققین اور ناقدین میں ہوتا ہے۔قدیم وجدید عربی زبان وادب کی تاریخ پر گہری نظر کی بنا پر شمس کمال انجم کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ مختلف ادبی، سماجی وثقافتی موضوعات پر ان کے مضامین آئے دن شائع ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن دیکھا جائے تو شمس کمال انجم بنیادی طور پر شاعر ہیں اور ان کی شاعری ، ذات ، زندگی اور زمانہ سے متعلق حقائق ومسائل وتجربات ومشاہدات کے اظہار کا بہانہ ہے۔ خلوص ، رواداری اور منکسر المزاجی ان کی شخصیت کے لازمے ہیں۔ اپنی شاعر ی کے بارے میں نہایت سادہ لوحی سے وہ کہتے ہیں۔
میں چھوٹا موٹا شاعر ہوں اشعار بھی کچھ کہہ لیتا ہوں
میں غالب وفیض وفراق وجگر اقبال یا جوش ومیر نہیں
……
گو میرؔ جیسے ہم بڑے شاعر نہیں ہیں شمسؔ
پر فکر وفن کے ہم نے بھی جوہر دکھائے ہیں
انکساری شرفا اور خصوصیا جینوین شعراء کی طبیعت کا حصہ رہی ہے۔ میر تقی میر ؔہوں کہ غالبؔ، اقبالؔ ہوں کہ جگرؔ، فراقؔ ، فیضؔ سبھی بڑے شاعروں نے الگ الگ عنوان سے فکر وفن کے خوب جوہر دکھائے ہیں لیکن غالب سے قطع نظر کہ ان کا سات خون معاف ہے، کسی نے بھی اپنے شاعر ہونے پر غرور یا تفاخر کابھی اظہار شاید باید ہی کیا ہے۔ شمس کمال انجم نے بھی انکساری برتی ہے لیکن ان کی شاعری گواہی دیتی ہے کہ وہ ایک منفرد شاعر ہیں اور اپنی شاعری میں فکر وفن کی علویت کا مظاہرہ کمال شاعرانہ محاسن کے ساتھ کیا ہے۔ در اصل معاملہ یہ بھی ہے کہ گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کی گروہ بندیوں کی وجہ سے سینکڑوں جینوین شاعر اور ادیب نظر انداز ہی کیے جاتے رہے ہیں۔ شمس کمال انجم بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ان کی شاعری کے امتیازات کی جانب بھی اتنی توجہ مبذول نہیں کی گئی ہے جتنی توجہ کی حقدار ان کی شاعری ہے۔ لیکن شمس کمال انجم کے معاصر شعراء میں نمایاں نہ ہونے کے اور بھی اسباب ہیں۔ سب سے بڑا سبب خود شمس کمال انجم کی بے نیازی ہے۔ فطری شاعر ہیں۔ شعر کہنے میں رفتار سست نہیں لیکن چھَپنے چھَپانے کے معاملے میں درویشی کو روا رکھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ روایت پسندی، کلاسیکیت، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مرحلوں سے مردانہ وار گذر جانے کے باوجود شمس کمال انجم کی آواز ان کی اپنی آواز ہے۔ کسی بھی طرح کی فیشن پرستی ، تقلید یا تصنع سے آزاد، ان کی غزل عام غزل گو شعرا کی طرح محض حسین اور پرکشش لسانی سانچوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تعمیر ی فکر ودانش اور تجربہ ومشاہدہ کے روشن نقطے اور دائرے ہوتے ہیں۔ چند اشعار سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
شمس کمال انجم کے شعری مجموعے کی پہلی غزل دیوان غالب کی غزل کی زمین میں ہی ہے لیکن اشعار میں مضامین کی تخم ریزی اپنے مزاج کے مطابق کی ہے مثلا:
حرف آخر گرچہ ہے لکھا ہوا تقدیر کا
معجزہ بھی رنگ لاتا ہے بہت تدبیر کا
صدق گوئی جذبۂ فرہاد کی طالب ہے شمسؔ
حفظ ایماں آج کل لانا ہے جوئے شیر کا
غالبؔ کے چراغ سے اپنی شاعری کی قندیلیں روشن کرنا، ذوق شعری کی علویت کی دلیل ہی تصور کیا جائے گا۔ لیکن بے پناہ تخلیقی جوہر اور اختراعی قوت کے مالک شمسؔ کمال انجم کے یہاں غزل در غزل نئی زمین اور نئے آسمان بھی نظر آتے ہیں۔
ذات کے حوالے سے اپنے ماحول اور معاشرے کے کرب کا اظہار غزل گویوں کا وطیرہ رہا ہے۔ لیکن شمس کمال انجم اسے اپنی انداز میں بیان کرتے ہیں:
صحرا میں دھوپ اوڑھ کے بیٹھے ہوئے ہیں ہم
تشنہ لبی کی آنچ سے جھلسے ہوئے ہیں ہم
……
کوئی غم یا عذاب سا کچھ ہے
دل میں اک عذاب سا کچھ ہے
لیکن شمسؔ کمال انجم کو اپنی ذات سے زیادہ اپنی قوم کی فکر ستاتی ہے آج مختلف اسباب کی بناء پر قوم کو جن ناگفتہ بہ چیلنجوں کا سامنا ہے اس کے لیے کون ذمہ دار ہے یہ سب جانتے ہیں لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اس صورت حال میں بھی ہماری قوم غور وفکر ، فراست مومن سے کام لینے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم الزام دوسروں کو دیتے ہیں لیکن قصور اپنا بھی ہوتا ہے۔شعر ملاحظہ کریں۔
ہر روز مجھ پہ لگتی ہیں تہمت نئی نئی
آنگن میں روز آتے ہیں پتھر نئے نئے
……
خواب تو آتے ہیں تعبیر نہیں آتی ہے
قاریِ وقت کو تفسیر نہیں آتی ہے
 
قوم مسلم تو ہے خوابیدہ توکل پڑھ کر
ارتقاء کی اسے تدبیر نہیں آتی ہے
………
کچھ سوچتے نہیں ہیں کسی مسئلے پہ اب
جذباتیت کے بحر میں ڈوبے ہوئے ہیں ہم
………
ثابت حقیقتوں کی طرف دیکھتے نہیں 
مفروضہ داستانوں میں الجھے ہوئے ہیں ہم
عام احساس یہ ہے کہ بیسویں صدی کی ساتویں آٹھویں دہائی کے معتبر شعرا مظہر امام، ناصر کاظمی، شہر یار، افتخار عارف، بانی، ساقی فاروقی ، ظفر اقبال اور محمد علوی وغیرہ سے الگ اور آگے اکیسوی صدی کی اردو غزل میں نئی اور معتبر آوازیں سامنے نہیں آرہی ہیں۔ نام لینا چاہیں تو چار پانچ نام لینے میں پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ در اصل یہ ہے کہ یہ دور ہی قدروں کی شکست وریخت کا ہے۔ غیر یقینی صورت حال اور کنفیوزن نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح شعر وادب کو بھی بڑا ذہن پیدا کرنے کے معاملے میں ’بانجھ‘ کردیا ہے۔ ادب میں بھی ’’روز اک تازہ تماشہ نئے عنوان کے ساتھ‘‘ کی کیفیت نے عام انسانوں کی طرح تخلیق کاروں سے بھی فیصلہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے کہ کون سا راستہ کعبے کی طرف جاتا ہے او رکون ترکستان کی طرف۔ معاصر اردو شاعری میں اکتادینے والی یکسانیت کے علاوہ مختلف اور متضاد لسانی وموضوعاتی ، فنی اور فکری اور اظہار وبیان کے اعتبار سے جو انتشار اور بحران نظر آرہا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کی تاریخ میں شاعری تو ہورہی ہے لیکن ایسی شاعری جو قلب کو گرمادے، روح کو تڑپادے، تقریبا نا پیدا ہوچکی ہے۔ اس صورت حال میں، عرفان صدیقی ، احمد مشتاق، سلطان اختر ، عالم خورشید، خالد بشیر ، رفیق راز ، شفق سوپوری اورمہتاب حیدر نقوی وغیرہ کے ساتھ شمس کمال انجم کی شاعری میں بھی تازہ ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے ہیں۔ اور غزل / شاعری کے امکانات کی شمعیں روشن ہوتی نظر آتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ شمس کمال انجم کی شاعری میں ترقی پسندوں کی طرح کھلی نعرہ بازی ہو یا اقبال کی طرح انقلابیت ہو بلکہ شمسؔ کی شاعری میں دھیمے اور مہذب لب ولہجے میں فکر خیال اور سیرت وکردار کو تعمیری سانچے میں ڈھالنے کا ایک آہستہ رد عمل ملتا ہے۔ اسی لیے شمس کے اشعارسنے یا پڑھنے کے ساتھ ہی قاری کے دل ودماغ میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ شمس کمال انجم کے مجموعۂ غزلیات ’’لولوء منثور‘ کے مطالعے کے بعد قاری کو اس کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔
رابطہ09419010472