شمسی توانائی سکیم|| جموں کشمیر میں15رکنی کمیٹی تشکیل سرکاری عمارتوں پر پلانٹ نصب کرنیکا منصوبہ

بلال فرقانی

 

سرینگر//مرکزی کابینہ کی طرف سے چھتوں پر شمسی بجلی پینل نصب کرنے کی پالیسی کو منظوری دینے کے بعد جموں کشمیر حکومت نے سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر سولر پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا۔ جموں کشمیر حکومت نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ خطے میں سرکاری عمارتوں پر سولر بجلی پلانٹوں کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں قریب1900سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر شمسی بجلی پلانٹ نصب کئے گئے ہیں اور سال2025تک باقی20ہزار عمارتوں پر بھی شمسی بجلی پلانٹ نصب کئے جائینگے۔

 

اس سلسلے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر شمسی بجلی کی تنصیب کے لیے ٹینڈرنگ کے فیصلے اورعمل درآمد کیلئے’ قابل تجدید توانائی سروس کمپنی‘(رسکو)ماڈل کا طریقہ کار عملایا جائے گا۔محکمہ مکانات و شہری ترقی کی کمشنر سیکریٹری مندیپ کور کے مطابق اس سلسلے میں’’ محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے انتظامی کنٹرول کے تحت سرکاری عمارتوںکی چھتوں پر شمسی توانائی کے پلانٹوں کی تنصیب کے لیے’وی جی ایف ادئیگی‘(اس اسکیم کا مقصد بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تعاون کرنا ہے جو معاشی طور پر جائز ہیں لیکن مالی طور قابل عمل نہیں ہے‘‘ کے طریقہ کار کو عملایا جائے گا۔ حکومت نے اس سلسلے میں محکمہ مکانات و شہری ترقی کے انتظامی سیکریٹری کی سربراہی میں ایک15رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کمیٹی میں سرینگر اور جموں میونسپلٹی کارپوریشنوں کے کمشنر،لیکس کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین،سرینگر اور جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کے وائس چیئرمین، محکمہ شہری ترقی و مکانات کے ڈائریکٹر فائنانس،اسی محکمہ کے سپیشل سیکریٹری،جموں اور کشمیر کے ڈائریکٹر لوکل باڈئز جموں کشمیر ہاوسنگ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر،یو ای ای ڈی کے چیف انجینئر، محکمہ شہری ترقی کے جوائنٹ ڈائریکٹر منصوبہ بندی، تقسیم کاری کمپنیوں کے نمائندے اور تکنیکی سفارشات کیلئے جموں کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی،این ایچ سی یا آر ای سی کے نمائندے شامل ہیں۔یہ کمیٹی محکمہ میں تمام سرکاری عمارتوں میں شمسی کاری کے مشن کی نگرانی کرے گی تاکہ دسمبر 2024 تک یا اس سے پہلے وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایت کے مطابق نتائج برآمد کئے جاسکے۔کمیٹی’ قابل تجدید توانائی سروس کمپنی‘(رسکو) ٹینڈر اور نفاذ عمل میں لانے والی ایجنسیوں کی نشاندہی کے حوالے سے فیصلوں کی سفارش کرے گی۔مندیپ کور کے مطابق15رکنی کمیٹی کمیٹی قابل عمل عمارتوں کی نشاندہی کرے گی اور تمام بڑے طریقہ کاروں کو جمع کرے گی جیسے چھت اور انخلاء کے نیٹ ورک کی دستیابی، بجلی کا مجموعی لوڈ،منظور شدہ منسلک لوڈ کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں پر خرچ ہونے والے ریونیو بجٹ وغیر اور جموں کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کے ساتھ اس کا اشتراک کرے گی۔کمیٹی بڑی عمارتوں کے لیے اسٹیٹ افسرانونچارج افسران کو نامزد کرے گی جہاں قابل تجدید توانائی سروس کمپنی‘(رسکو)،کیپکس و ہائی بریڈماڈل نافذ کیا جائے گا۔ کمیٹی کوسرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کو تیز کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی تجویز دینے کے لیے کنسلٹنٹوں(مشیروں) و تکنیکی صلاح کاروں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔