شمال و جنوب کی ایک جیسی کہانی

 سرینگر// وادی میں نامعلوم افراد کی طرف سے پراسرار طور پر خواتین کی بال تراشی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔شمال و جنوب میں ایسے واقعات کی تعداد150سے تجاوز کر گئی ہے۔ اعدادوشما ر سے ظاہر ہورہا ہے کہ شہر سرینگر میں ہر روز جوان سال خواتین اور چھوٹی لڑکیوں حتیٰ کہ عمر رسیدہ خواتین کو بھی نشانہ بنانے کا گھناونا فعل انجام دیا جارہا ہے۔تاہم اس دوران کئی مقامات پر ایسی کوششوںکو ناکام بھی بنایا جاچکا ہے۔وادی میں گزشتہ ایک ماہ سے نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کی جبری گیسو تراشی کی جارہی ہے۔لیکن ابھی تک پولیس اس معمہ کو حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔اس امر کے باوجود کہ پولیس نے کسی بھی ملوث شخص کو پکڑنے کیلئے 6لاکھ کا انعام بھی رکھا ہے۔ خواتین کی مبینہ چوٹیاں کاٹنے کے واقعات سب سے زیادہ سرینگر میں رونما ہورہے ہیں ،جن کی تعداد35 تک پہنچ گئی ہے،جبکہ ضلع شوپیاں میں سب سے کم3واقعات پیش آئے ہیں۔ اسکے بعدجنوبی ضلع کولگام کا نمبر آتا ہے جہاں ایسے27 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔فی الحال بارہمولہ تیسرے نمبر پر ہے جہاں ابتک23خواتین کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔کئی جگہوں پر خواتین  کی2مرتبہ بھی چوٹیاں کاٹی گئیں۔ادھر سرینگر کے علاوہ قصبہ جات میں رضاکارانہ طور پر نوجوانوں نے شبانہ گشتوں کا سلسلہ شرع کیا ہے۔گاندربل،سرینگر،پانپور، بارہمولہ،اوڑی اور کپوارہ میں درجنوں شہریوں،جن میں غیر ریاستی باشندے بھی شامل ہیں،کو بال تراش ہونے کے شبہ میں زد کوب کیا گیا۔چوکی بل،سلر پہلگام،بونیار،کولگام اور گاندربل میں مقامی لوگ الزام عائد کر رہے ہیں،کہ بال تراشوں کی شک میں جن لوگوں کو دبوچا گیا،وہ  یاتو فوج یا پولیس کے اہلکار نکلے۔شہریوں کا مزید الزام یہ بھی ہے کہ جس جگہ یہ واقعات پیش آتے ہیںاور مقامی لوگ بال تراشوں کا تعاقب کرتے ہیںوہاں نزدیک ہی فوج یا پولیس اہلکار پائے جاتے ہیں،تاہم فوج اور پولیس ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔پولیس نے کئی نوجوانوں کو مبینہ افواہیں پھیلانے کی پاداش میں حراست میں بھی لیا ہے،جبکہ واقعات کو اجتماعی نفسیاتی بیماری بھی قرار دیا گیاہے۔وزیر اعلیٰ نے گیسو تراشی کے واقعات میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیاہے وہیں مزاحمتی جماعتوں کا الزام ہے کہ سرکار ان واقعات کے پیچھے ہے۔