شمالی ہندوستان سرد لہروں کی لپیٹ میں

 چنڈی گڑھ//پورے شمالی ہندوستان میں سردلہریں اب خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے پنجاب اور ہریانہ کے بیشتر مقامات پر درجہ حرارت صفر تک پہنچ گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق علاقے میں آئندہ24 گھنٹوں کے دوران بارش ، بوندا باندی ،سرد لہریں اورکہرا پڑنے کا امکان ہے ۔ آج چند مقامات پر سخت کہرا رہا جس میں لدھیانہ، پٹیالہ، ھلوارا، آدم پور، بھٹنڈا، حصار، کرنال اور سرسا شامل ہیں ۔ آئندہ دو دنوں میں گھنا کہرا پڑنے کے آثار ہیں۔سرد لہروں کی وجہ سے امرتسر، ھلوارا، حصار، نارنول سمیت کئی مقامات کا پارہ صفر تک پہنچ گیا جس میں سے زیادہ تر علاقوں میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔بھٹنڈا، آدم پور کا پارہ ایک ڈگری، روہتک، لدھیانہ، کرنال کا پارہ دو ڈگری پہنچ گیا ہے ۔چنڈی گڑھ اس موسم کا سرد ترین مقام رہا۔ انبالہ میں پانچ ڈگری، بھیوانی تین ڈگری، پٹیالہ چار ڈگری، دہلی میں دو ڈگری، سرینگر صفر سے سات ڈگری نیچے ، جموں تین ڈگری پررہا۔ہماچل پردیش میں بھی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے عام زندگی متاثر رہی ۔ شملہ کادرجہ حرارت میدانی علاقوں سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ۔بھنتر، سندرنگر، منالی، کلپا کا درجہ حرارت صفر سے نیچے ایک سے دو ڈگری تک رہا۔دھرم شالہ دو ڈگری، شملہ چار ڈگری، کانگڑا ایک ڈگری، ناھن دو ڈگری، اونا ایک ڈگری اور لاھل اسپیتی سمیت قبائلی علاقوں میں درجہ حرارت صفر سے دس ڈگری تک نیچے چلا گیا ہے اور پائپوں میں پانی منجمد ہو گیا۔ادھر  مدھیہ پردیش میں شدید ٹھنڈ کی وجہ سے بیتول میں 13سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔یہاں درجہ حرارت ایک ڈگری پر پہنچ گیا،جس سے عام لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔شمالی ہندوستان کی طرف سے چلنے والی سرد ہواؤں کی وجہ سے یہاں گزشتہ 13برسوں میں سب سے کم درجہ حرارت ایک ڈگری درج کیاگیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ اس موسم کی سب سے سرد رات رہی۔کپکپانے والی اس ٹھنڈ کی وجہ سے لوگوں کو بے حد پریشانی ہورہی ہے ۔محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں درجہ حرارت مزید گرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔سال 2011 کی پانچ جنوری کو یہاں کا درجہ حرارت سب سے کم 2.2درج کیاگیا تھا،جبکہ محکمہ موسمیات کے اہلکار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 13برسوں میں اتنی سرد رات کبھی نہیں رہی۔کم از کم درجہ حرارت کے گرنے کے ساتھ ہی یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی مسلسل گررہا ہے ۔آج یہ 22.2رہا جس سے دن میں بھی لوگ ٹھنڈ محسوس کررہے ہیں۔ادھر بڑھتی ٹھنڈ نے نچلی اور غریب بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی پریشانی بڑھادی ہے ۔محکمہ موسمیات کے اہلکاروں نے بتایا کہ وہ 13سال سے یہاں تعینات ہیں اور پہلی بار سب سے کم اعدادو شمار درج کیا ہے ۔ادھر کسانوں کے کھیتوں میں بھی پانی کی بوندیں برف میں تبدیلی ہوگئیں۔وہیں کھیتوں میں لگی سبزیاں بھی کم پارے کی وجہ خراب ہورہی ہیں۔کسانوں کے چہرے پر بھی پریشانی صاف نظر آرہی ہے ۔کہرے سے فصلوں کو نقصان ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔محکمہ زراعت کھیتوں کی میڑھ پر دھواں کرنے اور فصلوں میں آبپاشی کرنے کی تجویز دے رہاہے ۔یواین آئی