شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میںپروفیسرمنظراعظمی میموریل لیکچر

جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اورقومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان حکومت ہند نئی دہلی کے اشتراک سے ’’غیرافسانوی نثرکی اہمیت ‘‘کے موضوع پر ’’پروفیسرمنظراعظمی میموریل لِکچر‘‘کاانعقادکیاگیا جس میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسرابن ِ کنول نے موضوع سے متعلق پرُمغزلِکچردیا۔اس دوران ڈین ریسرچ سٹڈیز جموں یونیورسٹی پروفیسررجنی ڈینگرا نے پروگرام کی صدارت کے فرائض انجام دیئے جبکہ سابق صدرشعبہ اُردوکشمیریونیورسٹی پروفیسرقدوس جاویدمہمان ذی وقارتھے۔پروفیسرابن کنول نے اپنے خصوصی خطبے میں کہاکہ پروفیسرمنظراعظمی کی اُردوادب میں خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انہوں نے ’’غیرافسانوی نثر‘‘کی اہمیت پربولتے ہوئے کہاکہ غیرافسانوی ادب میں انشائیے ، سفرنامے ،خودنوشت ،سوانح حیات،رپورتاژ، خاکے ،مکاتیب وغیرہ آتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ غیرافسانوی ادب میں طبع آزمائی کرناایک چیلنج بھراکام اورفن ہے۔پروفیسرابن ِ کنول نے غیرافسانوی ادب کی اہمیت اوراس کے ارتقاء پربھی تفصیلی اظہارخیال کیا۔پروفیسرقدوس جاویدنے اپنے خطاب میںغیرافسانوی اُردوادب کی تاریخ پرتبادلہ خیال کیا۔انہوں نے زبان ،طرزاسلوب کے تناظرمابعدجدیدنثرکی بنیادی چیزوں کے بارے میں بھی سامعین کوجانکاری دی۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈین ریسرچ اسٹڈیزجموں یونیورسٹی پروفیسررجنی ڈینگرانے اُن دنوں کے بارے میں بتایاجب پروفیسرمنظراعظمی شعبہ اُردومیں پروفیسرکے طورپرخدمات انجام دیتے تھے ۔پروفیسررجنی ڈینگرانے مزیدکہاکہ شعبہ اُردومیںبہت عظیم شخصیات مثلاً پروفیسرگیان چندجین ،پروفیسرشام لال کالرا، پروفیسرجگن ناتھ آزاداورمنظراعظمی وغیرہ نے خدمات انجام دیں جوکہ شعبہ کیلئے باعث فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسرمنظراعظمی میموریل لِکچرکاانعقادحقیقی معنوں میں اس عظیم اُردوادیب کوبہترین خراج عقیدت ہے۔پرنسپل انسٹی چیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس جموں یونیورسٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک نے بھی اپنے خطاب میں پروفیسرمنظراعظمی کی خدمات کوسراہااورپروفیسرابن کنول کے لیکچرکوطلباء اوراُردوسے شغف رکھنے والوں کیلئے کافی معلوماتی قراردیا۔اس دوران ظاہربانہالی کے افسانوی مجموعے ’’توی کنارے ‘‘کابھی اجراء کیاگیا۔