شدید گرمیوں کے بعد بادل پھٹنے سے سیلابی ریلوں کا قہر

سرینگر+جموں//حالیہ بارشوں سے جموں خطہ ، بالخصوص وادی چناب اور خطہ پیر پنچال کے پہاڑی علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہوئیں۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران ایک بچے سمیت کم از کم 3افراد کی موت واقع ہو گئی جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ موسلا دھار بارشوں سے رہائشی مکانات سمیت کئی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ گول سے زاہدبشیر  نے اطلاع دی ہے کہ علاقہ گگرسولہ میںکل صبح سکولی اوقات کے دورا ن اُس وقت ایک دلدوزحادثہ پیش آیاجب ایک چوتھی جماعت کاطالب علم سکول جاتے ہوئے نالہ میں گرکرلقمہ اجل بن گیا۔ بتایاجاتاہے کہ خطیب احمدولدامتیاز احمد شاہ ساکنہ گگرسولہ صبح سکول گیااورشدیدبارشوںسے نالے بھی اپنے اُفق پرتھے اور نالہ پارکرتے ہوئے طالب علم کاپائوںپھسل گیااور وہ نالے میںجاگرا ۔بتایاجاتاہے کہ اس کے ساتھ چھوٹابھائی اوردیگر اسکولی بچے بھی تھے ۔ ظہیراحمد نامی ایک استاد کاکہناہے کہ یہ طالب علم پرائمری سکول شاہ محلہ میں زیر تعلیم تھا اورصبح نوبجے کے قریب یہ دوسرے بچوںکے ہمراہ سکول جارہاتھا کہ نالہ پارکرتے تھے اس کاپائوںپھسل گیااورتقریباًدوسو فٹ آگے پانی کے ساتھ بہہ گیا۔ساتھ بچوںنے سخت شورمچایا اوراس دوران آس پاس لوگ بھی موقعے پرآئے لیکن تب تک طالب علم موت کی آغوش میںچلا گیاتھا۔ کٹھوعہ سے حافظ قریشی نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کی بنی تحصیل میں ڈوگر کے قریب ایک رہائشی مکان کے منہدم ہونے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوا ہے ۔ متوفی کی شناخت بہادر سنگھ کے طور پر کی گئی ہے جب کہ اس کا بیٹا کمل سنگھ ہسپتال میں زیر علاج ہے ۔ پونچھ سے عشرت بٹ کے مطابق چکرارا منڈی علاقہ میں گزشتہ روز ایک خاتون سیلابی ریلے میں بہہ گئی، بدھ کے روز اس کی نعش برآمد کر لی گئی۔ اس کی شناخت اشرفہ بی دختر غفار ساکن منڈی کے طور پر کی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ خاتون منڈی دریا عبور کر رہی تھی کہ اچانک پانی آگیا جو اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ضلع ادہم پور کے ڈوڈو بسنت گڑھ اور لاٹی و پنچیری علاقوں میں بھی بارشوں سے کئی مکانات کے زمین بوس ہونے کی خبر ہے۔
ترال(سید اعجاز) 
پنتھہ چوک کے کھن مو علاقہ میں آسمانی بجلی گرنے کے بعد پانی کا ریلہ بستی میں داخل ہونے سے پوری آبادی زیر آب آگئی جس کی وجہ سے علاقہ میں رابطہ سڑکوں ، کھڑی فصلوں اور رہائشی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔، پانتھہ چوک کے مضافاتی علاقہ کھن مو میں بدھ کی صبح 10:30بجے کے قریب نزدیکی پہاڑی پر ایک کے بعد ایک آسمانی بجلی گرنے سے دو زور دار دھماکوں کے چند منٹ بعد پانی کا ایک ریلا بستی میں داخل ہوا جس میںچند منٹوں میں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔ مقامی آبادی نے بتایا کہ علاقہ میں جہاں رابطہ سڑکوں ، زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچاوہیں پانی کا بہائو اس قدر زیادہ تھا کہ وہ  مکانوںکی اونچی دیواروں کو گرا کر داخل ہوا۔ منظور احمدنامی ایک نوجوان نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ علاقہ میں شام دیر گئے تک علاقہ کی سڑکیں زیر آب آنے سے گھروں سے باہر لوگ بستی میں داخل نہیں ہو سکے جبکہ پانی نے علاقہ میں موجود کئی فیکٹریوں میں موجود میٹریل کو اپنے ساتھ بہا لیا ۔ محکمہ مال کے زرائع  سے معلوم ہوا کہ علاقہ میںسینکٹروں کنال اراضی پر پھیلی دھان کی فصل بھی زیر آب آنے سے تباہ ہو گئی ہے،۔اسی دوران پانپور کے مضافاتی علاقہ وہاب صاحب میں بھی تیز باشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے بعد ندی نالوں میںطغیانی آنے کی جہ سے کئی رابطہ سڑکیں ناقابلِ آمد رفت بن گئیں۔اس حوالے سے تحصیلدار پانت چھوک عبدالرحمٰن ڈار نے بتایا کہ کھنمو علاقہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم فصلوں اور مکانوں کو اندر پانی داخل ہونے سے نقصان پہنچا ہے ۔ جبکہ علاقہ کی سڑکیں زیر آب آنے سے ابھی تک کوئی بھی ٹیم نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے بستی کے اندر نہیں پہنچ سکی ہے ۔
بانڈی پورہ (عازم جان)
بانڈی پورہ کے کئی علاقوں میں موسلا دھار  بارشوں سے طغیانی کی صورت پیدا ہوگئی ہے،کئی مقامات پر سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوا  جبکہ فصل کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ بانڈی پورہ قصبہ وارڈ نمبر 3، 4، 5،3 6،میں طغیانی بارش کے پانی نے ناقص ڈرنیج کے سبب گلی کوچے دریا کی شکل اختیار کر کے پانی گھروں میں گھس گیا ۔ لوگوں نے الزام عائد کیا  ہے کہ میونسپل کمیٹی اور ضلع انتظامیہ نے قصبہ کو نظر انداز کر دیا ہے جس کی وجہ سے بارش کا پانی مکینوں کے لئے آفت بن رہا ہے ۔اس دوران پانار بلال کالونی اہم شریف آرم پورہ چکریشی پورہ آیت مولا میں موسلا دھار بارش نے طغیانی کی شکل اختیار کرکیفصلوں کو نقصان پہنچایا ہے
گاندربل(ارشاد احمد)
اندرون گاندربل میں بادل پھٹنے سے پانی کا ریلہ یارمقام کے درجنوں مکانات میں داخل ہوا۔ اندرون گاندربل میں بادل پھٹنے سے پانی کا ریلہ تیزی سے بابا گرار نالہ سے گزر رہا تھا کہ کچھ جگہوں پر کلوٹ کی جگہ پایئپں ڈالی گئی جن میں ملبہ جمع ہونے سے پانی تیزی سے نکلتے ہوئے یارمقام علاقہ میں بابا حنیف الدین زیارت کے آس پاس محلہ میں درجنوں مکانات میں داخل ہوا جس سے مکانات میں موجود مال اسباب مکمل طور پر تباہ کردیا یارمقام کے مقامی شہری غلام محمد نے اس سلسلے میں کشمیر عظمی کو بتایا کہ پانی سیلاب کی صورت میں داخل ہونے سے مکان میں موجود مال اسباب مکمل طور پر تباہ جبکہ اندرون یارمقام سڑک بھی پانی کے تیز بہاو میں ڈھہ گئی جبکہ غلام محمد راتھر کا گاو خانہ بھی ڈھہ گیا البتہ اس میں موجود مویشیوں کو بچایا گیا۔ضلع انتظامیہ گاندربل کی جانب سے نائب تحصیلدار اور ایس ایچ او لار نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا.ادھر منیگام میں بھی پانی کے تیز بہاو نے سڑک کو مکمل طور پر تباہ کرتے ہوئے مکانات میں داخل ہوگیا 
کپوارہ(اشرف چراغ )
کپوارہ میں بعد دوپہر موسم نے اچانک کروٹ لی اور بارشو ں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد زبردست موسلا دار بارشیں ہوئیں اور متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ۔ضلع کے گزریال ،کرالہ پورہ ،دردسن ،وارسن ،لون ہرے ،،میلیال ،درد پورہ ،گوگلوسہ میں ندی نالو ں میں طغیانی آ گئی اور گزریال میں سینکڑو ں کنال پر مشتمل اراضی میں سیلابی پانی گھس آ یا جس کے نتیجے میں کھڑی فصلو ں جن میں دھان ،مکی اور دیگر فصل شامل ہیں کو بھاری پیمانے پر تباہی مچ گئی ۔لون ہرے ،دردد پورہ ،گوگلوسہ میں بھی مکانو ں اور کھیتو ں میں سیلاب نے تباہی مچادی ۔اس دوران کرالہ پورہ میں نالہ ہد میں طغیانی آ نے کی وجہ سے سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ اور شاہین پبلک سکول کی عمارتیں سیلاب کی زد میں آگئی ہیں جس کی وجہ سے کرالہ پورہ اسپتال میںزیر علاج مریضوں اور تیماداروں میں سخت تشویش پائی گئی اور وہ اسپتال چھو ڑ کر چلے گئے ۔معلوم ہو اہے کہ گوگلوسہ ،دردسن ،گزریال وارسن کے مقامات پر سڑکو ں کو بھاری نقصان پہنچ چکا جس کے نتیجے میں ان سڑکو ں پر گا ڑیو ں کی آ مد و رفت بھی معطل رہی ۔ا ٓخری اطلاعات ملنے تک ان علاقوں میں مو سلا دار بارشو ں کا سلسلہ جاری تھا اور لوگو ں میں سخت تشویش پائی جارہی ہے ۔اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ خالد جہا نگیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ پورے ضلع میں سرکاری مشینری کو سیلاب سے نپٹنے کے لئے تیار رکھا گیا ہے اور مختلف ٹیمو ں کا متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ۔