شدید برفباری کی پیشگوئی۔۔۔۔۔۔ انتظامی تساہل سے گریز کی ضرورت!

رواں موسم سرما کی شروعات کے ساتھ ہی برفباری نے جہاں ماحولیاتی اعتبار سے ایک اچھا پیغام دیا ہے وہیں وادی کشمیر ، لداخ اور جموں کے پیر پنچال و چناب خطوں میں بجلی اور پانی جیسی لازمی عوامی ضروریات کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے عام لوگوں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران وقفے وقفے کی برفباری کی وجہ سے بجلی اور پانی کی فراہمی میں بار بار روکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں اور بالائی علاقوں میں رسل و رسائل کے ذرائع بھی متاثر ہوتے رہے ہیں، تاہم لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اسکا مقابلہ کر تے رہے ہیں اور حکام نے بھی ان مشکلات کاازالہ کرنے کی بساط بھر کوششیں کی ہیں، اگر چہ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ضروریات سے انکی کوئی مطابقت نہیں رہی ہے۔ اب چونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 19جنوری سے کئی روزہ شدید برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہےاس کی وجہ سے عام لوگوں کے فکر و تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کیونکہ ظاہرسی بات ہے کہ اگر برفباری شدید نوعیت کی ہوتی ہے تو مشکلات پیدا ہونا لازمی امر ہے ۔ اس حوالے سے اگرچہ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں کے نام ایڈوائزری جاری کرکے انہیں کسی بھی ناگہانی آفت کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے تاہم اس امر کی ضرورت ہے کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے اس ایڈوائزری پر سنجیدگی کے ساتھ علمدرآمد ہو ، کیونکہ ماضی میں اکثر ایسے حالات میں متعلقین کی خامیاں کھل کر سامنےآتی رہی ہیں، جسکا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ خاص کر بالائی علاقوں میں آمد و رفت کے ذرائع برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ حال ہی میں کرناہ ٹنگڈار روڑ پر کئی مسافر پھنس گئے، جن میں سے ایک خاتون لقمہ اجل بھی ہوگئی۔ لہٰذا اس نوعیت کی ایمر جنسیوں سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری کی ضرورت ہے ۔ چونکہ موسم سرما کے دوران بزرگوں اور بچوں کو اکثر مختلف اقسام کے عارضے لاحق ہو جاتے ہیں، لہٰذا ان سے نمٹنے کے لئے مقامی اور مضافاتی طبی اداروں میں ضروری ادویات کا معقول سٹاک رکھنے اور متعلقہ عملے کی حاضری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔موسم کی حالیہ کروٹ نے وادی کے بازاروں پر بھی فوری طور منفی اثرات ثبت کردیئے۔ سرمائی لباس اور جوتوں کی فروخت میں زبردست اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قیمتوں میں بھی من مانے اضافے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔مگر متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول نہیں ہو رہی ہے اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ  بازاروں میں اشیائے ضروریہ اور سرمائی ضروریات کی چیزوں پر نظر رکھنے والے حکام خوابِ خرگوش میں ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو شاید فٹ ویئر کی دوکانوں پر ضرورت مندوں کو کھلم کھلا دو دو ہاتھوں لوٹنے کے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے ۔چونکہ سری نگر جموں شاہراہ بھی وقفے وقفے سے مسدود ہو کر رہ جاتی ہے لہٰذا ایسے مواقع کی تاک میں بیٹھے رہنے والے اخلاق سے ماوراء تاجروں کا مخصوص طبقہ حسب روایت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے ڈھانچے کو متاثر کرنے میں کوئی کسر اُٹھائے نہیں رکھتا جس سے یقینی طور پر عام صارفین خصوصاً غریب طبقہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ڈیویژنل انتظامیہ اگر چہ وقت وقت پر صورتحال کا جائزہ لینے کا عمل جاری رکھےہوئے ہے ،تاہم موجودہ مرحلے پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ تاجر طبقے میں چھپی کالی بھیڑ وں کو اشیاء کی مصنوعی قلّت پیدا کرنے اور ناجائز منافع خوری کرنے کا موقع نہ ملے ۔ یہ تمام باتیںڈویژنل انتظامیہ کی دسترس میںہیں ۔عوام کی طرف سے یہ اُمید کی جارہی ہے برفباری کا نیا مرحلہ گراں بازاری اور بلیک مارکیٹنگ کے قہر میں تبدیل نہیں ہو۔ یہی وقت ہے جب انتظامیہ کو تندہی اور لگن کے ساتھ لوگوں کو راحت پہنچانے کی سمت میں مثبت اقدامات کرنا ہوں گے ، جبھی فرائض کے تئیں اس کی سنجیدگی کا حق ادا ہوسکتاہے ۔