شدید احتجاج کے بیچ گھرانہ آبی پناہ گاہ کیلئے402کنال اراضی 14مرلہ اراضی منتقل

 جموں//معائوضہ کی رقم میں اضافہ کے مطالبہ کو لیکرعوام کی جانب سے شدید احتجاج کے بیچ محکمہ جنگلی حیات نے ہندوپاک بین الاقوامی سرحد کے نزدیک گھرانہ گائوں میں آبی پناہ گاہ کے انتظامی منصوبہ کیلئے 402کنال14مرلہ حاصل کرکے اس پر باڑ لگادی۔عینی شاہدین کے مطابق صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود گھرانہ ویٹ لینڈ کے لئے زمین کے حصول کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے خواتین سمیت مقامی لوگ بھی وہاں جمع ہوگئے۔خواتین نے گھرانہ ویٹ لینڈ کے اگلے 10 سالہ انتظامی منصوبے کے لیے حد بندی کی گئی اراضی کے حصول کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کے دوران نعرے بازی کی قیادت کی۔حالات کشیدہ ہونے کے بعد محکمہ ریونیو اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں کے ساتھ ایک مضبوط پولیس فورس کے اہلکاروں کو علاقے میں باڑ لگانے کی سہولت فراہم کی اوریوں 402 کنال اور 14 مرلہ اراضی متعلقہ محکمہ کو سپرد کی گئی جو اب 10 سالہ انتظامی منصوبے کے تحت گھرانہ کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی۔ادھرپولیس نے ڈی ڈی سی سچیت گڑھ ترنجیت سنگھ ٹونی ، سرپنچ گھرانہ گرودیال سنگھ اور دیگر 15 مظاہرین کو احتیاطی تحویل میں لے لیا۔ڈی ڈی سی نے کہا ’’ہمیں احتیاطی حراست میں لے لیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر جموں نے کل ان کے ساتھ ایک میٹنگ طے کی ہے جس میں اراضی کے حصول کے خلاف احتجاج کے بعد گھرانہ ویٹ لینڈ کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دریں اثناء ڈی ایف او انیل عتری نے کہا "آج ہم نے 402 کنال اور 14 مرلہ زمین حاصل کی ہے اور ریونیو اور پولیس حکام کی مدد سے باڑ لگائی ہے۔ 402 کنال اور 14 مرلہ اراضی میں سے 150 کنال سرکاری اراضی، متولی، شاملات اور 200 کنال پرائیویٹ اراضی پر مشتمل ہے‘‘۔انہوں نے یہ بھی بتایا"گھرانہ آبی پناہ گاہ میں کل مطلع شدہ رقبہ 1600 کنال ہے۔ تاہم ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد، ہم نے انتظامی سرگرمیوں کے لیے محکمے کی فوری ضرورت کے مطابق پہلے مرحلے کے تحت 408 کنال اور 14 مرلہ اراضی کی حد بندی کی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ریونیو حکام کو 11 کروڑ 70 لاکھ روپے معاوضے کے طور پر ادا کر دیے ہیں جو مزید ان لوگوں کو ادا کیے جائیں گے جن کی زمین حاصل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا "اس سال ہم حاصل شدہ علاقے میں چین لنک باڑ لگانے جا رہے ہیں اور اس کے مطابق ٹینڈر جاری کیے جائیں گے جبکہ دیگرسرگرمیاں جاری ہیں"۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اگلے سال تک عوام کے لیے سیوریج اور بائیو گیس پلانٹ وغیرہ کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔محکمہ مال کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ انہوں نے معاوضہ کی رقم عدالت میں جمع کرادی ہے کیونکہ کسان رقم بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے لینے کو تیار نہیں تھے۔ یاد رہے کہ گھرانہ گاؤں کو سیاحتی مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت حکومت کا سچیت گڑھ بارڈر کو سیاحت کے لیے راغب کرنے کا منصوبہ ہے ۔
 

عدالتی امتناع کو خاطر میںنہیں لایا گیا

کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی: ٹونی

 سچیت گڑھ//ڈی ڈی سی ممبر سچیت گڑھ ترنجیت سنگھ ٹونی اور سرپنچ گوردیال سنگھ سونی کو گھرانہ ویٹ لینڈ ڈیولپمنٹ سے متاثرہ کنبوں کے حق میں احتجاج کرنے پر جمعرات کو گرفتار کر لیا گیا ۔ٹونی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ کی طرف سے دیے گئے امتناعی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باڑ لگانے کی مشق کے ذریعے کسانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے خلاف احتجاج کیاگیااور وہ اپنی آخری سانس تک لڑیں گے اورسیول انتظامیہ کے اس امتیازی اقدام سے متاثرہ کسانوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ زمین کے قانون کا احترام کیے بغیر من مانی سے کام کر رہی ہے کیونکہ سول انتظامیہ اور پولیس سمیت پوری مشینری نے کسانوں کی زمین کے ٹکڑوں میں زبردستی گھس کر اور باڑ لگا کر عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ ڈی ڈی سی چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کسانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے جن کی زمین کا حصہ اس منصوبے کے تحت آئے گا۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس پروجیکٹ سے متاثرہ کسانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے زمین کا متبادل فراہم کرے اور ان کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ ٹونی نے تاہم کہا کہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے حکومت نے ناجائز طاقت کا استعمال کرکے کسانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کا من مانی راستہ اختیار کیا ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ٹونی نے مزید کہا " اراضی قانون کہتا ہے کہ ہنگامی صورت حال میں اگر حکومت کو زمین حاصل کرنی ہے تو 80 فیصد معاوضہ ان لوگوں کو ادا کیا جانا چاہیے جن کی زمین زیر تصرف ہے اور اس خاص معاملے میں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا گیا" ۔بعد ازاں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے ٹونی اور متاثرہ کسانوں کو اس مسئلہ پر ڈویژنل کمشنر جموں کے دفتر میں بات چیت کرنے کی دعوت دی ہے۔