’شدت پسندی کی معاونت کے ساتھ اچھے تعلقات ممکن نہیں‘

ریاض//سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ چارعرب ممالک اپنی شکایات کی ایک لسٹ تیار کر رہے ہیں جو جلد ہی قطر کے حوالے کی جائے گی۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے یہ کہہ کر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کردیے تھے کہ وہ اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر  جنگجوتنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرِ خارجہ نے یہ تنبیہہ بھی کی کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قطر دہشت گردی کی فنڈنگ بھی کرے اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ قطر کو ان مطالبات کے ردِعمل میں دہشت گردی اور انتہ اپسندی کی حمایت کو روکنا چاہیے اور اور یہ صرف خلیجی ممالک ہی نہیں پوری دنیا کے مطالبات ہیں۔خلیج کے سیاسی بحران کو دیکھتے ہوئے گذشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے میکسیکو کا طیشدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ اس کا مقصد واشنگٹن میں رہ کر سفارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کرنا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ٹلرسن کشیدگی کی شدت کو کم کرنے کے لیے خلیجی اور خطے کے ممالک سے انفرادی ملاقاتوں اور ٹیلی فونک رابطوں کی صورت میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔سعودی وزیرِ خارجہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 'چار عرب ممالک کی جانب سے بنائی جانے والی لسٹ 'مطالبات' نہیں بلکہ شکایات ہیں جنھیں قطر کو دیکھنے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔'انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ بحرین، عرب امارات اور مصر اس لسٹ کی تیاری میں شامل ہیں اور یہ جلد ہی تیار ہو جائے گی۔جلیجی ممالک کے تعاون کی تنظیم جی سی سی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ قطر کے عوام کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔'بہت ہو گیا اور ہمارے قطری بھائی انتہا پسندی کی امداد کو جاری نہیں رکھ سکتے اور دہشت کو بڑھا نہیں سکتے۔ اور دوسرے ممالک میں مداخلت کے لیے میڈیا کا استعمال نہیں کر سکتے۔ 'سعودی وزیرِ خارجہ نے قطر کی جانب سے مثبت ردِعمل کی توقع ظاہر کی۔اگرچہ ان کی جانب سے چار ممالک کے مطالبات کی فہرست کی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم منگل کو متحدہ عرب امارات کے امریکہ میں موجود سفیر نے انھی مطالبات کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ دہشت گردی کی معاونت کے تین پہلوؤں پر ہوں گے جن میں چار ممالک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی اور قطری میڈیا کے ذریعے انھیں نشانہ بنانا شامل ہیں۔قطر نے ایف 15 طیارے خریدنے کے لیے امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر پر عائد الزامات میں خلیجی ممالک کی حمایت کر رہے ہیں۔عادل الجبیر نے کہا ہے کہ قطر سے دہشت گردی کی معاونت ختم کرنے کا مطالبہ صرف خلیجی ملکوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا دوحہ سے یہی مطالبہ کررہی ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیرخارجہ بوریس جونسن سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الجبیر نے کہا کہ ہم قطر کے بارے میں شکایات کی فہرست جمع کررہے ہیں۔ جلد ہی وہ شکایات قطر کے سامنے پیش کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایران پاسداران انقلاب کوخطے میں دہشت گردی کیفروغ کے لیے استعمال کررہا ہے۔اطلاعات کے مطابق لندن میں سعودی وزیرخارجہ کی اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے دوران خلیجی ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی پرتفصیلی بات چیت کی گئی۔