شخصیت ساز استاد: قلم و قرطاس کا امین

 

ڈاکٹر عریف جامعی

 

مادی دنیا میں نمودار ہونے کے ابتدائی مراحل میں انسان یکے بعد دیگرے بہت سرعت کے ساتھ رحم مادر چھوڑنے کے بعد ماں کی گود کے ساتھ ساتھ (مہد) گہوارے کو بھی الوداع کہتا ہے۔ علم نفسیات کے مطابق اسے ماں کے بطن میں بھی بہت کچھ سییکھنے کو ملتا ہے اور اس کے بعد ہر کوئی یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ ماں کی گود میں بھی اس کی ایک خاص قسم کی تربیت ہوتی رہتی ہے۔ گہوارہ دراصل ماں کی گود کی ہی توسیع ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ گہوارے میں بھی انسان کئی ایک چیزیں سیکھتا ہے۔ چونکہ یہ تخلیقی عمر (کرئیٹیو ایج) کے ابتدائی ایام ہوتے ہیں، اس لئے انسان کی عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی جہات یہیں سے پنپنے لگتی ہیں۔ اس دور میں بچہ ایک طرف اپنے قرب و جوار میں ہر دم موجود رہنے والے لوگوں، خاصکر اپنی ماں، کی حرکات و سکنات دیکھ کر چیزوں کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ یہیں پر بچے کے سامنے مختلف چیزوں یا مختلف اعمال کی اچھائی اور برائی مبرہن ہونے لگتی ہے اور اسی مرحلے پر بچہ چیزوں کا حسن و قبح بھی پرکھنے لگتا ہے۔
تاہم والدین بہت جلد بچے کا نہ صرف دودھ چھڑاتے ہیں، بلکہ بچے کا ہاتھ تھام کر اس کو مکتب اور مدرسے کی راہ دکھاتے ہیں، جہاں استاد اس کی انگلی پکڑ کر اس کو مسند تعلیم و تعلم پر بٹھاتا ہے۔ یہاں پر بچہ تعلیم و تربیت کی اس خارجی روایت کے ساتھ منسلک ہوجاتا ہے جس کا انتظام رب تعالی نے ابتدائے آفرینش سے کررکھا ہے۔ تاہم تعلیم و تربیت کی اس روایت کا بنیادی ذریعہ دراصل استاد ہوتا ہے جس کے ہاتھوں میں قلم و قرطاس کی متاع بیش بہا ہوتی ہے۔ قلم و قرطاس کو اسی خدائے علیم و خبیر نے آلات علم بنایا ہے جس نے “انسان کو تخلیق کرکے قلم کے ذریعے جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔” (البقرہ و العلق) یہی وجہ ہے کہ مختلف قسم کے اساتذہ نے علم کو “آواز غیب” قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں غالب کا ایک مشہور شعر ہے:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
غالب جو قلم کی آواز (صریر خامہ) کو فرشتے کی آواز (نوائے سروش) قرار دیتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو کسی بھی صورت میں وحی کے قبیل کی کوئی چیز قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح فلاسفہ کے نزدیک انفردی روح (انڈویجول سول) آفاقی روح (ورلڈ سول) سے خارج یا جدا ہوتی ہے، بالکل اسی طرح عقل ظاہر (یا عقل بالفعل) عقل مستفاد اور عقل حیلانی کے توسط سے عقل فعال سے ظہور میں آتی ہے۔ اسی خارجی شئے یا قوت کو مختلف انگریزی شعراد نے “میوز” سے تعبیر کیا ہے۔ واضح ہوا کہ غالب یا کسی بھی سخنور کی تخلیقات دراصل اسی “میوز” (تخیل) کی ہی کرشمہ سازی ہوتی ہے!
بہرحال بچہ جونہی استاد کے پاس پہنچتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ میں موجود “قلم کی روح” میں سے کچھ بچے کی ننھی سی قلم میں “پھونکتا” ہے۔ ظاہر ہے کہ اسی روح سے بچے کی قلم متحرک ہوکر کاغذ (قرطاس) پر چلنا شروع ہوتی ہے۔ واضح رہے “روح پھونکنے” کا مطلب صرف یہ ہے کہ استاد بچے کے ساتھ منسلک ہوکر اس کو راہ علم پر جما دیتا ہے۔ محسوس انداز میں استاد کا بچے کو قلم تراش کر دینا، بچے کی انگلی پکڑ کر اس کو لکھنے کی مشق کروانا، بچے کی طرح توتلہ بن کر بچے کو نئے الفاظ کا عادی بنانا، یہ سب “روح پھونکنے” کے اس عمل میں شامل ہے۔ نسل نو کی تعمیر کا دراصل یہی نقطہ آغاز ہوتا ہے اور یہیں سے قوم کی تقدیر بدلنا شروع ہوتی ہے۔ اس طرح انسان آپ اپنی تقدیر لکھنا شروع کرتا، لیکن فقط اتنی جتنی رب تعالی نے اس کے نوشتۂ تقدیر میں گنجائش رکھی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ قلم کی سیاہی سے دفتر کے دفتر بھر جاتے ہیں، جن پر انسان کا عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی سرمایہ نہ صرف منتقل ہوتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ محفوظ بھی ہوتا ہے۔
اس طرح قلم و قرطاس حرکت میں آتے ہی معاشرے کے ہر دائرے کو متحرک کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مکتب اور مدرسے میں تو قلم و قرطاس کی حرکت بالکل عیاں ہوتی ہے، لیکن باقی جگہوں پر بھی ان کا حرکت میں رہنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ قلم و قرطاس کے دم سے ہی روز مرہ کے کام کاج میں ترتیب و تنظیم پیدا ہوجاتی ہے۔ انسانی معاشرے کے چھوٹے بڑے کام میں قلم و قرطاس کا عمل دخل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قلم و قرطاس کے ذریعے ہی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ انسان اپنا ہر کام عقل کے زیر سایہ ہی انجام دیتا ہے۔ یعنی عقل، جو ایک مجرد قوت ہے، اس کا مادی ظہور ان حروف سے ہوتا ہے جو انسان کی عقل انسانی ہاتھوں کی جنبش سے نوک قلم سے خارج کرکے حوالۂ قرطاس کرتی ہے۔ انسان کا یہ قلم و قرطاس کے ساتھ رشتہ ابتدائے آفرینش سے ہی جاری و ساری ہے اور اسی عمل کے ذریعے انسان کے احساسات، مشاہدات اور تجربات ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
تاہم قلم و قرطاس اسی صورت میں صحیح ڈھنگ سے کام کرسکتے ہیں جب استاد کا دست ہنر کمال شفقت اور محبت کے ساتھ طالب علم کی تعلیم و تربیت کے لئے جانفشانی کے ساتھ کام کرے۔ چونکہ تعلیم و تعلم محنت شاقہ کے بغیر ممکن ہے اور نہ ہی اس کام کو درد دل کے بغیر انجام دیا جاسکتا ہے، اس لئے استاد کے لئے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں کامل انہماک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت استاد کو وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس کے بغیر وہ اس میدان میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اسی مہارت سے استاد نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتا ہے بلکہ یہی مہارت اسے طالب علم کے جوہر (پوٹینشل) کو بھی سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ مہارت ایک طرف استاد کو اتنا بردبار بناتی ہے کہ وہ شاگرد کی “نرالی” حرکات و سکنات کو تحمل کے ساتھ نہ صرف برداشت کرتا ہے بلکہ انہیں سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ بچے میں چھپے جوہر کو باہر لانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نتیجتاً نہ صرف بچے کے برتاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، بلکہ استاد کی صلاحیتوں کا بھی صحیح انداز میں استعمال نہیں ہوسکتا، جس سے تعلیم و تعلم کا پورا عمل جمود کا شکار ہوسکتا ہے۔
اس طرح استاد جب قلم و قرطاس کا حسن استعمال کرتا ہے تو اس عمل کے ذریعے جو تعلیم و تربیت کا انتقال ہوتا ہے تو اس سے بھی حسن پیدا ہوتا ہے۔ مکتب اور مدرسے سے نکل کر جب قلم و قرطاس تاجر کے پاس پہنچتے ہیں تو اس کے ہاتھوں نہ صرف تجارت کو فروغ ملتا ہے، بلکہ معاشرے میں معاشی خوشحالی کی ریل پیل پیدا ہوجاتی ہے۔ قرطاس و قلم جب طبیب (ڈاکٹر) کے ہاتھ میں آجاتے ہیں تو اس سے درد و کرب میں مبتلا ابدان کو آرام اور پریشان نفسیات کو سکون ملتا ہے۔ جب قلم و قرطاس قاضی (جج) کے ہاتھوں میں پہنچ جاتے ہیں تو ظلم و عدوان کی چکی میں پسنے والے لوگ راحت کی سانس لیتے ہیں۔ جب یہی قلم و قرطاس سائنسدان کے ہاتھ میں پہنچ جاتے ہیں تو مادی کائنات کے قوانیں، جو صیغہ راز میں ہوتے ہیں، آشکار ہوجاتے ہیں، جس سے انسان کائنات کی وسعتوں کے رازہائے سربستہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جب یہی قلم و قرطاس شاعر و ادیب کے ہاتھ میں آجاتے ہیں تو ایسا ادب تخلیق ہوتا ہے جو انسانی قدروں اور معاشرتی رویوں کی تفصیل انسان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جب قلم و قرطاس ایک مصور کے ہاتھ میں آجاتے ہیں (اگرچہ یہاں ان کی شکل مختلف ہوتی ہے)، تو وہ کائنات میں موجود حسن و جمال کو پیش کرکے انسان کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ جب اسی قلم و قرطاس کی ایک مخصوص شکل ایک مجسمہ ساز کے ہاتھ میں آجاتی ہے تو وہ انسانی ثقافت کو ایک اور ہی رنگ دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور جب یہی قلم و قرطاس پھر سے استاد کے ہاتھ میں آجاتے ہیں تو تعلیم و تعلم کا تسلسل اور تواتر قائم و دائم رہتا ہے، کیونکہ یہی انسانیت کا تمام تر سرمانہ آنے والی نسلوں کی طرف منتقل ہونے کی ایک واحد سبیل ہوتی ہے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک صاحب علم کبھی بھی قلم و قرطاس کا منفی (سوء) استعمال نہیں کرتا۔ قلم و قرطاس کا صد فیصد حسن استعمال ممکن ہے اور نہ ہی اس کا کسی کو دعوی ہوسکتا ہے۔ یہاں پر ہماری مراد فقط یہ ہے کہ جاننے یا علم حاصل کرنے کا وہ عمل جو سیدنا آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی رب تعالی نے شروع فرمایا، وہ قلم و قرطاس سے ہی جاری رہتا ہے۔ ذرا غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ اگر انسان عقل کا استعمال کرکے حاصل ہونے والے علم کو صرف اشاروں کنایوں اور نطق و بیان سے ہی منتقل کرتا، تو انسانی معاشرت باقی مخلوقات کے رہن سہن سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتی، کیونکہ باقی مخلوقات بھی زندہ رہنے کے لئے ضروری معلومات کو ایک دوسرے تک پہنچا ہی لیتی ہیں۔ قلم و قرطاس کے استعمال سے علم میں نہ صرف توسیع ہوتی ہے، بلکہ انہی کے دم سے علم محفوظ ہوکر آنے والی نسلوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہر آنے والی انسانی نسل کو اپنے لئے نئے سرے سے علم کو ترتیب دینا پڑتا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں علم کی مسلسل ترقی ممکن نہیں رہتی اور نتیجہ یہ نکلتا کہ یا تو انسانی تہذیب پروان ہی نہیں چڑھتی یا ہمیشہ پڑمردگی کا شکار رہتی۔
تاہم استاد کو کمال یکسوئی، تندہی، انہماک اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ دردمندی کو بروئے کار لاتے ہوئے طالب علم کے اندر علم حاصل کرنے کی جستجو پیدا کرنا پڑتی ہے۔ استاد کی کامیابی اسی ایک بات میں پنہاں ہوتی ہے کہ وہ شاگرد میں علم حاصل کرنے کی تڑپ اور لگن پیدا کرے۔ شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ “اچھا استاد پڑھاتا ہے اور بہتر استاد (اسباق کی) وضاحت کرتا ہے، جبکہ بہتریں استاد (شاگرد کی) حوصلہ افزائی کرتا ہے۔” ظاہر ہے کہ حوصلہ مند شاگرد ہی آگے جاکر استاد کی جگہ پر براجمان ہوتا ہے اور قلم و قرطاس کو ہاتھ میں لیتا ہے اور انہیں حرکت دیکر پورے معاشرے میں علم کی نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق تحریک پیدا کرتا ہے۔ اسی تحریک سے انسانی عقل اور ذہن زنگ آلود ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف علم کا سفر جاری رہتا ہے بلکہ انسانی معاشرے کی ہر اکائی رواں دواں رہتی ہے۔ اس طرح استاد قلم و قرطاس کو کامل امانت داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے، جب ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ “مکتب اپنی کرامتیں” دکھائے اور نئے عہد کا ہر طالب علم “آداب فرزندی” سیکھ کر معاشرے کی مثبت اقدار و روایات کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے سلسلہ? علم و عمل کو آگے بڑھاتا رہے۔
(مضمون نگار محکمہ اعلی تعلیم، جموں و کشمیر میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔)
رابطہ۔ 9858471965
ای میل۔ [email protected]